Buy website traffic cheap


میرے الفاظ یاد رکھیں!!

اشفاق رحمانی
میرے الفاظ یاد رکھیں!!
انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے تاہم 2مراحل میں ہو سکتے ہیں،بلوچستان سمیت حساس’’اضلاع‘‘ کو دوسرے مرحلے کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے تاہم جولائی کے انتخابات پر قوم کی نگاہیں جم چکی ہیں اس لئے آئینی تقاضے نبھاتے ہوئے جمہوریت کے تسلسل کو اب بہرصورت نئی اسمبلیوں اور انکے ماتحت نئے سیٹ اپ کی جانب سفر کرنا ہے جس میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے یا رخنہ ڈالنے کی کوئی گنجائش ہے نہ متعلقہ اداروں کی جانب سے کسی کو اسکی اجازت دی جانے چاہئے،نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے اپنے منصب کا حلف اٹھاتے ہی جہاں اپنی کابینہ’’ مختصر رکھنے‘‘ کا عندیہ دیا،وہیں زور دے کر کہا کہ ’’میرے الفاظ یاد رکھیں، انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے جس کیلئے الیکشن کمیشن کی مکمل معاونت کی جائیگی تاکہ بروقت شفاف انتخابات کرائے جاسکیں۔ جبکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں باور کرایا ہے کہ انتخابات ہر صورت مقررہ آئینی میعاد کے اندر ہی ہونگے اور اس معاملہ میں کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ اس تناظر میں اب وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سلطانی جمہور کی ایک دہائی کی تکمیل نے جمہوریت کی بنیادیں مستحکم کردی ہیں اور اب جمہوریت کے تسلسل میں تیسری اسمبلی کے مقررہ وقت کے اندر انتخاب سے جمہوریت کے ثمرات براہ راست عوام تک پہنچنے کی راہ بھی ہموار ہو جائیگی اور جمہوریت مخالف جو عناصر کسی نہ کسی سازش کے تحت جمہوریت کی گاڑی کو ڈی ٹریک کرنے کیلئے انتخابات موخر کرانے کے جواز نکالنے کی کوششوں میں مگن رہے ہیں‘ انہیں اب اس معاملہ میں ہزیمت ہی اٹھانا پڑیگی۔پاکستان کی جمہوری،سیاسی تاریخ کیلئے ایک اور نیک شگون یہ کہ’’پانچ سال کی آئینی مدت کی تکمیل کے بعد قومی اسمبلی اور پنجاب اور بلوچستان اسمبلیاں تحلیل ہوگئیں ‘‘ای یسا جمہوری ملک جس کے ’’سیاسی باسی‘‘ ہمیشہ یہ شکایت کرتے نظر آتے کہ ’’خلائی مخلوق نما‘‘ کوئی چیز ان کو تنگ کرتی ہے اور جب مرضی ’’اپنی مرضی‘‘ کرتی ہے،مسلم لیگ ن کو یہ شکایت سب سے زیادہ رہی، ابھی بھی اسی شکایت کے ساتھ انہوں نے وزیر اعظم بدل کر پانچ سال پورے کئے اور پیپلز پارٹی کے بعد ن نے بھی ریکارڈ بنانے والوں میں اپنا نام لکھوا لیا۔اب جبکہ’’ امور حکومت و مملکت عبوری نگران حکومت کو منتقل ہوگئے‘‘ سندھ اور خیبر پی کے اسمبلیوں نے 28 مئی کو اپنی پانچ سال کی آئینی میعاد مکمل کرلی تھی جو نگران وزرا اعلیٰ کے فیصلہ کے بغیر ہی تحلیل ہوگئیں۔ اسی طرح مقررہ آئینی میعاد کی تکمیل تک پنجاب اور بلوچستان کے نگران وزرائے اعلیٰ کا بھی فیصلہ نہ ہو سکا جبکہ نگران وزیراعظم کیلئے قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن نے اسمبلی کی تحلیل سے دو روز قبل ہی جسٹس (ر) ناصرالملک پر اتفاق کرلیا تھا جنہوں نے یکم جون کو اپنے منصب کا حلف اٹھا لیا۔ اس طرح انکی سربراہی میں وفاقی نگران حکومت تشکیل پاگئی جبکہ صوبوں میں نگران وزرا اعلیٰ کی نامزدگی الیکشن کمیشن کی جانب سے متعلقہ صوبوں کے سبکدوش ہونیوالے وزراء اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کے بھجوائے گئے ناموں میں سے کی جائیگی۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے 25 جولائی 2018ء کے انتخابات کیلئے شیڈول بھی جاری کر دیا ہے جس کے تحت امیدواروں کے کاغذات نامزدگی وصول کئے جائینگے، انکی جانچ پڑتال ہوگی اور امیدواروں کی حتمی فہرست 27 جون کو جاری کی جائیگی۔ 29 جون کو انتخابی نشان الاٹ ہونگے اور 25 جولائی کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے پولنگ ہوگا۔ انتخابات کے انتظامات اور پولنگ کیلئے انتخابی عملہ کا پہلے ہی تقرر کردیا گیا ہے اور پولنگ والے دن سکیورٹی انتظامات کیلئے افواج پاکستان اور دوسرے سکیورٹی اداروں کی خدمات بھی حاصل کی جاچکی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے غیرملکی مبصرین کیلئے بھی ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنے اقتدار کے آخری لمحے تک مقررہ آئینی میعاد کے اندر انتخابات کے انعقاد کیلئے پرعزم رہے ہیں اور باور کراتے رہے کہ انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوگی۔ یہی واضح عندیہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی دیا گیا تھا جس کے ترجمان نے باضابطہ طور پر ایک بیان جاری کرکے اس امر کی وضاحت کردی تھی کہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 60 دن کے اندر الیکشن کرانا آئینی ضرورت ہے۔ اس آئینی تقاضے کے تحت ہی الیکشن کمیشن کی جانب سے’’ انتخابات کا شیڈول‘‘ جاری کیا گیا ہے بلوچستان اسمبلی میں انتخابات موخر کرانے کی قرارداد منظور ہوئی تو اس اسمبلی کے حوالے سے ماضی قریب میں رونما ہونیوالے واقعات کے تناظر میں انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقاد کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جنہیں وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بھجوائے گئے مراسلہ سے مزید تقویت حاصل ہوئی اور پھر ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار نے انتخابات کے بائیکاٹ کا نعرہ لگا کر غیرجمہوری عناصر کی جانب سے انتخابات کو سبوتاڑ کرنے کے سازشی منصوبہ کی گرہیں مزید کھول دیں۔ اگر ان سازشوں کیخلاف قومی سیاسی قیادتوں اور متعلقہ آئینی ریاستی اداروں کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہ آتا تو اس سازشی منصوبے پر عملدرآمد کے راستے ہموار ہو سکتے تھے تاہم اب نگران وزیراعظم اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کی جانب سے بھی مقررہ میعاد کے اندر ہی انتخابات کے انعقاد کے واضح عندیہ کے بعد سازشی عناصر کیلئے جمہوریت کے تسلسل میں کسی بھی طریقے سے رخنہ ڈالنا ممکن نہیں رہا اور جمہوریت کا تسلسل اب تیسری اسمبلی کے انتخاب کا نقارہ بجا چکا ہے جس کیلئے پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے بھی امیدواروں کی نامزدگی سمیت اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔