Buy website traffic cheap


میڈیا ٹیم کا دوآبہ فاؤنڈیشن اور آکسفیم کے تعاون سے کسان تنظیموں کا دورہ کیا

میڈیا ٹیم کا دوآبہ فاؤنڈیشن اور آکسفیم کے تعاون سے کسان تنظیموں کا دورہ کیا
پاکستان کے ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زراعت کو صنعت کا درجہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے اس شعبے سے منسلک مزدوروں کو بھی صنعتی مزدور نہں سمجھا جاتا اس لیے انہیں وہ حقوق بھی حاصل نہ ہیں۔ کروڑوں کی تعداد میں کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور مرد اور خواتین پاکستان کے لیبر لاز کے تحت اپنے حقوق حاصل کرنے سے قاصر ہیں ۔ ان مسائل کو اجاگر کرنے اور ارباب اختیار کی توجہ ان کے حل کی طرف مبذول کرانے کے لیے میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک ٹیم نے دوآبہ فاؤنڈیشن اور آکسفیم کے تعاون سے جاری منصوبہ کے تحت بنائی گئی کسان تنظیموں کا دورہ کیا۔موقع پر نا صرف کھیتوں میں کام کے دوران مرد و خواتین مزدوروں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا بلکہ ان لوگوں سے تفصیلی گفتگو کی۔تفصیلات کے مطابق چاول نہ صرف ہماری خوراک کی ضرورت کو پورا کرتا ہے بلکہ پاکستان کی اہم ترین زرعی برآمدات مین شمار ہوتا ہے۔

پنجاب کا چاول پوری دنیا میں خوشبو اور ذایٗقہ کے لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دوآبہ فاوٗنڈیشن اور آکسفیم چاول کی فصل سے منسلک سماجی،معاشی اور ماحولیاتی مسائل حل کرنے کے لیے کاشتکاروں اور دیگر متعلقین کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ چلا رہے ہیں کیونکہ چاول کی پیداوار میں زرعی مزدوروں مرد و خواتین کا بہت اہم کردار ہے لیکن یہ طبقہ ہی سب سے زیادہ سماجی،معاشی اور ماحولیاتی مسائل کا شکار ہے۔ میڈیا کی ٹیم کے وزٹ کے دوران پتہ چلا کہ جو لوگ پنیری کی منتقلی کے دوران کھیتوں میں کام کرتے ہیں خاص طور پر خواتین کو احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان کی صحت کو بہت سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔شدید گرمی کے دنوں میں پانی میں کھڑے ہو کر پنیری لگاتے ہیں تو ہیٹ سٹروک کا خطرہ ہوتا ہے،اگر پانی میں کوئی کیمیائی مادہ مکس ہے تو سانس کے زریعے وہ اندر جا کر نقصان دہ ہو سکتا ہے، ننگے پاؤں پانی میں چلنے سے شیشہ یا پتھر وغیرہ لگنے سے پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں،کیمیائی مادوں سے ہاتھ اور پاؤں گل جاتے ہیں،ریڑھ کی ہڈی کے مسائل ہو جاتے ہیں، بعض اوقات کام کے دوران خواتین کو ہراسگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ جو خواتین کھیتوں میں کام کرتی ہیں وہ بچوں کی خوراک ،ان کی نگہداشت اور تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتیں جس سے ان کا نقصان ہوتا ہے، خواتیں کو مردوں کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا جاتا ہے، یہ موسمی مزدوری ہے اس لیے باقی دنوں میں بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کی جس طرح کے ماحول میں پرورش کی جائے گی وہ اسی ماحول کے مطابق ڈھل جائیں گے بچے ہمارے معاشرے کی ننھی کلی اور ہمارا مستقبل ہیں لیکن زرعی مزدوروں کے بچے کم عمری میں ہی روزگار کیلئے نکل جاتے ہیں جس کی بناء پر ان کی تربیت بھی مناسب ماحول میں نہیں ہوتی ہے اور یہ کم عمری میں زمانے کی تلخیوں میں جھلسنے لگ جاتے ہیں بچے اپنی چھوٹی عمر میں ہی مختلف شعبوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں جیسا کہ زراعت، گاڑیوں کی ورکشاپ میں کام، پتھروں کی کٹائی، ہوٹل اور کپڑا بنانے والی فیکٹریوں میں کام کر رہے ہیں ۔ اگر زرعی مزدوروں کو بھی صنعتی مزدوروں کے برابر حقوق حاصل ہوں تو یہ لوگ بھی اپنے بچوں کی ٹھیک پرورش کر سکیں۔اگر ہم زراعت کو واقع ہی ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھتے ہیں تو ہمیں ترجیح بنیادوں پر اس پسماندہ طبقے کے حقوق کے لیے قانون سازی کر کے سرکاری اور غیر سرکاری سطح زرعی مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا۔ اس سلسلے میں میڈیا ریاست کا ایک اہم ستون ہونے کے ناطے سے اس محروم طبقے کے مسائل کو اجاگر کر کے ان کے حل میں فعل کردار ادا کر سکتا ہے۔