Buy website traffic cheap


نادرا، نثار اور’’چکری چونترہ‘‘ سیاست

اشفاق رحمانی
نادرا، نثار اور’’چکری چونترہ‘‘ سیاست
اس خبر کی ابھی دھول بیٹھتی نظر نہیں آتی کہ ’’نادرا‘‘ نے اپنی صفائی میں جو کہا ہے وہ’’سب ٹھیک‘‘ کر دے گا،ووٹرز کی تفصیلات جاری کرنے کی پاداش میں تحریک انصاف اسکی انتظامیہ چیئرمین نادرا کو انکے عہدے سے ہٹانے کیلئے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کرچکی ہے۔ خود الیکشن کمیشن نے بھی اسی حوالے سے نادرا سے وضاحت طلب کی ہے۔ رٹ پٹیشن دائر ہونے اور وضاحت آنے کے بعد الیکشن کمیشن قانون کے مطابق فیصلہ کریگا۔ مسلم لیگ (ن) نے چیئرمین نادرا کا دفاع کرنے سے گریز کیا ۔پاکستا ن کی پہلی سوشل میڈیا نیوز ایجنسی میڈیا ڈور کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سابق وزیر کیڈطارق فضل نے بھی چیئرمین نادرا کو عہدے سے ہٹانے پر اتفاق کیا۔یا د رہے کہ عہدے سے ہٹانے کیلئے پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا بھی ایک ہی موقف ہے تاہم ایسا اتفاق رائے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کے زمرے میں آسکتا ہے۔ بہرحال نادرا کو کئی وضاحتیں اور کئی سوالات کے جواب بھی دینا ہونگے۔ تنقیدی جائزہ لینے والوں کے مطابق اگر چیئرمین نادرا کا جرم ان کی ن لیگ دور کی تعیناتی ہے تو یہ ’’جرم‘‘ دیگر اداروں نے سربراہ پر بھی ’’لگ‘‘ سکتا ہے، دیگر درجنوں سول اداروں کے ہیڈ بھی مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت کے مقرر کردہ ہیں۔ لیکن جیسا کہ سیاسی جماعتوں سے انتہائی درجہ کی غلطیاں ہوتی ہیں جو ان کی سال ہا سال کی کارکردگی کو’’صفر‘‘ کر دیتی ہیں جیسا کیس عاصمہ شاہد حامد کی بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعیناتی ’’آخری لمحات‘‘ میں اُس وقت کی جب وہ’’گھر‘‘ جا رہے تھے۔خبر سوشل میڈیا پر گردش میں ہے کہ ’’چکری‘‘ کی عوام سابق وزیر داخلہ کو’’چکر‘‘ دے کر’’انصاف‘‘ کا بول بالا کرے گی جبکہ ن لیگ نے بھی چوہدری نثار کے حلقہ انتخاب میں’’بلے‘‘ کی بلے بلے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،ن لیگ سے وابستہ سینئر ترین سیاست دانوں میں سے ’’بہت سارے‘‘ چوہدری نثار پر ’’نثار‘‘ ہونے کیلئے تیار نہیں ہوئے اور خدشہ ہے کہ سابق وزیر داخلہ صرف’’کانفرنسز‘‘ ہی کرتے رہ جائیں گے،ادھر جب لندن میں میاں نواز شریف سے میڈیا نے نمائندہ نے سوال کیا کہ چوہدری نثار نے ’’یہ یہ‘‘ کہا ہے تو میاں نواز شریف نے کہا’’کون چوہدری نثار؟‘‘ اور ایسا منہ پھیرا کہ پلٹ کر میڈیا کے بھی کسی سوال کا جواب نہیں دیا،اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے ’’انتہائی‘‘ناراض سینئر رہنما چودھری نثار علی خان نے اپنی انتخابی مہم کے آغاز پر اپنے آبائی حلقہ ’’چکری چونترہ‘‘ میں خطاب کے دوران انکشاف کیا کہ’’ جس کے ساتھ مخلوق خدا ہو، اسکی ’’کنڈ‘‘ نہیں لگتی۔ مخالفین میرا راستہ نہیں روک سکتے‘‘ یعنی ہمیں جو سمجھ آتی ہے وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ خلائی مخلوق میرے بھی ’’پاس‘‘ ہے میرا راستہ نہیں روکا جا سکتا،چکری چونترہ میں بحرحال انہوں نے کہا کہ نے بھی ’’ثابت‘‘ کرنے کی کوشش کی کہ ’’ بیگم کلثوم نواز کی خرابی صحت کے باعث وہ میاں نوازشریف کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرینگے‘‘ اسکے باوجود انہوں نے میاں نوازشریف پر کھل کر تنقید کی اور کہا کہ نوازشریف ہم سے زیادہ اہل نہیں تھے تاہم حاجی نواز کھوکھر کے گھر میٹنگ میں شریک 20 اکابرین نے میاں نوازشریف کو آگے کر دیا۔ آج ان میں سے کوئی ایک شخص بھی نوازشریف کے ساتھ نہیں۔34 سال میاں نوازشریف کا بوجھ برداشت کیا ہے، نوازشریف کا ان پر کوئی قرض نہیں وہ نہ ضمیر فروش اور نہ ہی بکاؤ مال ہیں جبکہ وہ کسی کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونیوالے چاپلوس بھی نہیں، جس طرح نظر انداز کیا گیا وہ عوام کے سامنے لانا چاہتے ہیں، تاہم وہ کبھی ایسی سیاست نہیں کرینگے جس پر لوگ کہیں کہ یہ’’ دو نمبر لیڈر‘‘ ہے۔ ساری زندگی حق اور سچ کا پرچم بلند کیا اور کرتا رہوں گا۔ انکی تقریر کے دوران پنڈال میں سے کچھ لوگوں نے ’’گو نواز گو‘‘ کے نعرے بھی لگائے تاہم چودھری نثار نے انہیں یہ نعرہ لگانے سے روک دیا۔جہاں تک ’’راہیں جدا‘‘ کرنے کی بات ہے ویسے تو سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ن لیگ اور چوہدری نثار کی راہیں ایک سال پہلے ہی ’’جدا‘‘ ہو چکی تھیں تاہم اگر پاکستان کی بات کی جائے توہماری سیاسی جماعتوں میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ پارٹی قیادت سے اختلافات کرنیوالے ارکان اس پارٹی کو خیر باد کہہ کر اپنی سیاسی سوچ کے مطابق کسی دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے یا اپنی الگ پارٹی تشکیل دیتے رہے ہیں تاہم پارٹی کے اندر رہتے ہوئے پارٹی کی قیادت اور اسکی پالیسیوں کو برا بھلا کہنے کی روایت’’اب ‘‘ زیادہ کھل کر ہو رہی ہے،پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے متعدد اراکین نے عمران خان کو ’’تنقید‘‘ کو نشانہ بنایا،تاہم چودھری نثار علی خان نے’’سیاسی اخلاقیات ‘‘ کے حوالے بھی چند نقاط اٹھانے کی بات کی ہے،سیاسی تجزیہ کرنے والوں کے مطابق میاں نوازشریف کی نااہلیت کے بعد تو چودھری نثار علی خاں مسلم لیگ (ن) کے اندر رہتے ہوئے بھی پارٹی قیادت کے خلاف خم ٹھونک کر سامنے آ گئے اور انہوں نے بالخصوص میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی پارٹی کے اندر سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اگر وہ پارٹی قیادت کے ساتھ اختلافات کو اصولی اختلاف سے تعبیر کرتے ہیں تو اس بنیاد پر ان کا پارٹی میں شامل رہنے کاکوئی جوازباقی نہیں رہتا تھا۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ اسی وقت مسلم لیگ (ن) کو خیر باد کہہ کر اپنی سیاسی سوچ کے مطابق اپنے نئے سیاسی سفر کا تعین کر لیتے ، اس وقت جبکہ بیگم کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں ہیں۔ چودھری نثار علی خان نے ان حالات میں بھی پارٹی قیادت کو نہیں بخشا اور اپنے جلسے میں ان پر اپنے ماضی کے احسانات جتانا بھی ضروری سمجھا۔