Buy website traffic cheap


نا اہلی اور باوقار’’ جیت ‘‘کی شروعات۔۔۔!!!

اشفاق رحمانی
نا اہلی اور باوقار’’ جیت ‘‘کی شروعات۔۔۔!!!
دو ڈیمز کا اتفاق رائے ، پیاسے پاکستان کیلئے یہ ایک ’’باوقار فیصلہ اور با وقار جیت کی شروعات ‘‘ ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاک سر زمین کیلئے ، کسان کیلئے اور ’’عوام‘‘پانی کا ذخیرہ کتنا ضروری ہے، عدلیہ اور اس کے فیصلوں پر عوام کا اعتماد اس کا سرمایہ ہے۔ فاضل چیف جسٹس کہتے ہیں کہ عوام ریڑھ کی ہڈی کی صورت میں عدلیہ کے پیچھے کھڑے ہیں جبکہ سپریم کورٹ سے تا حیات نااہلی کی سزا پانے والے نواز شریف بھی’’ عوام میں اپنی مقبولیت کے دعویدار‘‘ ہیں۔ وہ لندن میں اپنی اہلیہ کی تیمارداری کے لئے ’’پورا وقت ‘‘ دے رہے ہیں، اللہ مریض کی تمام مشکلات آسان فرمائیں اور ہر قسم کی بیماری سے جلد از جلد صحت یاب فرمائیں، امین،مسلم لیگ ن کو نواز شریف کے بعد بطور پارٹی انتہائی مشکلات کا سامنا ہے وہیں بطور پارٹی بھی ایک درخواست گزار نے ’’حیثیت ‘‘ چیلنج کر رکھی ہے، یعنی جس نام سے جماعت کا نام ہے وہ ہی صادق و امین نہیں تو آئین پاکستان کی روح سے پارٹی بھی قائم نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس کا نام اور صدارت تبدیل نہ کر دی جائے،نواز شریف نے الزام عائد کیا ہے کہ مقبول ترین جماعت کے الیکشن میں نامزد امیدواروں کو ڈرایا، دھمکایا‘‘ جا ریا ہے۔تاہم ساتھ ہی میاں نواز شریف اور ان کے ساتھی گاہے بگاہے اپنی مقبولیت جتلاتے ہوئے عدلیہ کے خلاف ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہیں جن پر توہین عدالت کے نوٹس جاری ہوئے اور متعدد سینئر رہنماؤں کو ’’اقرار‘‘ کے بعد سزا بھی ہوئی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہاکہ عوام ریڑھ کی ہڈی کی صورت میں عدلیہ کے پیچھے کھڑے ہیں، ہمیں کوئی نکال کر باہر نہیں پھینک سکتا، معاشرے بے انصافی پر نہیں چلتے، ادارے انصاف پر چلتے ہیں۔دنیا کی طاقتور ترین فوج بھی عوام کی مدد کے بغیر جنگ نہیں جیت سکتی، مقبول ترین لیڈر بھی عوامی حمایت ہی سے اقتدار کی کشتی پر سوار ہو سکتا ہے سیاستدانوں کو اپنی بات کرنے کا حق حاصل ہے مگر کسی کے بارے میں منفی پراپیگنڈے کا نہیں۔ ایسا ہو گا تو قانون کی گرفت میں آئے گا۔ عدلیہ اور فاضل جج حضرات کا رتبہ آئین کے تحت بلند تر ہے اور وہ تکریم کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مروجہ آئینی طریقِ کار کے سوا انہیں کوئی نہیں نکال سکتا۔ اس کا اظہار خود فاضل جج صاحبان کی طرف سے ضروری نہیں۔عدلیہ کی طرف سے ’’مافیا‘‘ سے قرض کا پیسہ واپس لے کراس سے ڈیمز بنانے کا فیصلہ بھی ’’عوام کے دلوں‘‘ کی آواز ہے۔ایک طرف عدلیہ عوامی خواہشات کے تکمیل کے ساتھ ساتھ انتہائی سخت حالات جس میں سیکورٹی معاملات بھی ہیں کا سامنا ہے تاہم چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ کسی کی سیاسی کمپین نہیں کر رہا صد فیصد درست ہے، صرف سیاست دان وہ بھی کرپٹ مافیا ہی عدلیہ کے خلاف سخت لب و لہجے میں جواب دیتا ہے۔۔ قوم اور عوام بلاشبہ اداروں کے ساتھ ہیں۔ اگر دوسری صورتحال ہوتی تو ملک انارکی کا شکار ہو چکا ہوتا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہاہے کہ قانون میں گنجائش ہے کہ نااہل شخص پارٹی صدربن سکتاہے اور پارٹی سربراہ کااثررسوخ ہوتاہے لیکن ہم پارلیمنٹ کی بالادستی کومدنظر رکھ کر کس حد تک جاسکتے ہیں, پارلیمنٹ قانون سازی کاسپریم ادارہ ہے، مسلم لیگ ن کے آئین کے تحت پارٹی صدر کووسیع اختیارات ہیں ,یہاں فرد واحد نہیں کی نہیں بلکہ پارٹی سربراہ کی بات ہورہی ہے،کیا فوجداری الزام میں سزا یافتہ جیل سے پارٹی چلا سکتاہے, جیل سے قیدی کا باہر رابطہ بھی نہیں ہوتا صرف نااہلی نہیں دیگر معاملات کو بھی فیصلے کے وقت مدنظر رکھیں گے۔ الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017 کے مطابق الیکشن کاعمل کاغذات نامزدگی سے شروع ہوتاہے, اگرکوئی شخص نااہل ہوگاتوکاغذات نامزدگی مسترد ہوجائیں گے۔ پارٹی سربراہ الیکشن میں امیدوار ہو یہ ضروری نہیں تاہم قانون کاسیکشن 203 آئین سے متصادم کیسے ہے، کیاایسی کوئی مثال موجود ہے کہ منسوخ قانون کے سیکشنز نئے قانون میں شامل کیے گئے ہوں الیکشن ایکٹ 2017 بہت سے قوانین کا مجموعہ ہے جس میں دیگر قوانین کو بھی شامل کر دیا گیا ہے، پارلیمانی جمہوریت میں پارٹی سربراہ اہم کردار ادا کرتا ہے، عدالتی فیصلے کی مثال دیں کہ کسی شخص کے لیے قانون بنایاگیااورپھرعدالت نے شخصیت کے فائدے کے لیے بنائے قانون کوکالعدم قراردیاہو۔ آئین کے طریقہ کار کے تحت ہی کسی قانون کو کالعدم کیاجاسکتاہے ،چیف جسٹس کے مطابقعدلیہ نے کسی شخصیت کے لیے بنائے قانون کو کالعدم کیا؟کیاعدالت نے ایسے کسی قانون کوبدنیتی پرکالعدم قراردیا؟کیا آئینی اسکیم پرکسی قانون کے سیکشن کوکالعدم کیاگیا؟ مسلم لیگ ن کے آئین کے تحت پارٹی صدر کووسیع اختیارات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا فوجداری الزام میں سزا یافتہ جیل سے پارٹی چلا سکتاہے, جیل سے قیدی کا باہر رابطہ بھی نہیں ہوتا، صرف نااہل نہیں دیگر معاملات کو بھی فیصلے کے وقت مدنظر رکھیں گے۔ آرٹیکل 5کے تحت ہرشخص ریاست سے وفاداری کاپابند ہے اور آپ کے مطابق جو شخص آئین سے وفادار نہیں وہ ریاست سے وفادار نہیں اور آپ کے مطابق ایسا شخص پارٹی سربراہ بھی نہیں بن سکتا۔