Buy website traffic cheap


نوید مرزا کے مجموعہ کلام ’’قلندر کی صدا‘‘ کی تقریب رونمائی

ازقلم:حسیب اعجازعاشرؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روشنی تھی صدا قلندر کی
میں بھی سنتا رہا قلندر کی
میرے اندر وہ ہم کلام ہوا
جب سے پہنی ردا قلندر کی
کب کوئی شخص جان پایا ہے
قیمتی ہے انا قلندر کی
پھول کھلنے لگے ہیں صحرا میں
رنگ لائی دعا قلندر کی
کون سے راستے پہ چلنا ہے
کوئی پوچھے رضا قلندر کی
اپنے حجرے میں جب وہ بیٹھا تھا
گفتگو تھی جدا قلندر کی
معتبر اُس کے لفظ ہوتے ہیں
بات کوئی سُنا قلندر کی
ایسے مشاہدے اور مجاہدے پر استوار مجذوبیت اور مستی جیسی خصوصیات قلندر کا ہی خاصہ ہے۔جس کلام میں صوفیانہ انداز اور قلندرانہ رنگ غالب ہو تو یہ کیسے ناممکن ہے وہ مقبول عام نہ ہو۔اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کی جستجو میں محوعمل اِس کلام کے تخلیق کار نوید مرزا کی پانچویں تصنیف ’’قلندر کی صدا‘‘ منظر عام پرآ چکی ہے ۔ معروف شاعر دوریش بشیر رحمانی کے صاحبزادے نویدمرزا نے قلمی سفر میں اپنے والد کا کندھا تو استعمال نہیں کیا مگر اپنے گوہرنایاب کلام سے اُن کے نام کی لاج بہت خوب رکھی ہے ۔ کہ دنیائے ادب میں اِن کا نام نہایت ہی ادب و احترام سے لیا جاتا ہے ۔جاوید قاسم اپنے تبصرے میں ’’قلندر کی صدا‘‘کو دُکھی انسانیت کی پکار قرار دیتے ہیں ۔ نوید مرزا کی کتاب ’’روبرو محبت ہے ‘‘کے بارے میں ڈاکٹر انور سدید(مرحوم) نے اپنے تبصرہ میں کہا تھا کہ ’’نوید مرزا کی غزل قلندر کی صدا ہے ‘‘اور یہی وہ حوصلہ افزائی،پذیرائی اور تھپکی تھی جس نے نوید مرزا کو لاشعوری طور پر ڈاکٹر انور سدید کے سنہرے تحسینی کلمات کو اپنے پانچویں مجموعہ کلام کا ٹائٹل دینے پر آمادہ کیا ۔
’’رسم اُلفت سکھا دے مجھے۔۔تُو کہاں ہے صدا ہے مجھے‘‘حمدیہ کلام سے شروع اور دعائیہ کلام’’مرے مالک،مرے مولا۔۔جہاں خیر کے والی۔۔دعائے آخری ہے۔۔آب مری فریاد کو سن لے۔۔مری فریاد کو سن لے‘‘پر ختم ہونے والی کتاب ’قلندر کی صدا’‘کا انتساب نوید مرزا نے معروف نقاد اور شاعر جناب ڈاکٹر انورسدید(مرحوم)،سماجی کارکن و علم دوست شخصیت،بردارِنسبتی خالد اقبال رانا(مرحوم) اور عزیز دوست اور بلاصلاحیت کمپوزر سمیرااحمد(مرحوم)کے نام کیا ہے۔کتاب ۱۷۹نظموں اور غزلوں پر مشتمل ہے ۔
انکے اشعار کا رویہ کچھ یوں ہے کہ اپنا رائے کسی پلڑے میں ڈالنے سے بہتر یہ سمجھتے ہیں کہ جو چیز جہاں، جیسے، جس حالت میں ہے ویسے ہی بیان ہو ، نوید مرزا عام معاملات زندگی اور زندگی کے نشیب و فراز کو عام فہم مصرعوں میں سادہ فلسفانہ انداز میں ہی پیش کرنا پسند کرتے ہیں ۔مگر کبھی کبھار نوید مرزا کا مزاج بدلتا بھی دیکھائی دیتا ہے اور وہ سماج اور سماجی رویوں کا اپنے ذہن کے پیمانوں میں قائم کئے گئے معیار پر پرکھنا بھی پسند کرتا ہے اور پھر یہ عمل شعری احساس کا روپ دھار کر شعر کی صورت میں ایک تبصرہ بن پر قرطاس کی زینت بن جاتا ہے
جس کھوجیا راہ آپنے اندر دا اس پایا بھید قلندر دا
قلندارانہ مزاج کے مالک نوید مرزا کا شعری سفر آگے بڑھتا ہے اور کہیں ان کے اشعار میں شعری وجدان ایک سرور کے ساتھ بھی پروان چڑھتا دیکھائی دیتا ہے ،جہاں نوید مرزا کو اپنے معاشرے اور اپنی ذات کے اندر شکست و ریخت کا ادراک ضرور ہے لیکن وہ اس کا اظہار کسی درویش کی طرح کرتے محسوس ہوتے ہیں ۔ اب یہی کلام ملاحظہ فرما لیں ۔
کبھی تو معجزہ ایسا کوئی مجھ کو دکھا مٹی
ہوائے تیز میں جلتا دیا سورج بنا مٹی
میں اپنے جسم کے گنبد سے تو باہر نکل آؤں
مرے مولا کبھی پتھر کے چہرے سے ہٹا مٹی
عذاب جاں سے دنیا کو رہائی ملنے والی ہے
مٹاتی جا رہی ہے رفتہ رفتہ نقش پامٹی
نہ جانے کب میں اپنی ذات میں تحلیل ہو جاؤں
نہ جانے کب مجھے کر جائے سانسوں سے جُدا مٹی
فنا کے ہاتھ میں رہ کر بقا کی جنگ لڑتا ہوں
مرے اندر مسلسل کر رہی ہے ارتقا مٹی
نوید مرزا کی غزلوں میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اِن میں وہ کیفیت بھی نمایاں ہے جسے ہم گداز دل سے تعبیر کرتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ اِن کی شاعری میں فنی ریاضت، زبان و بیان پر عبور، قدرت کلام،ذخیرہ الفا ظ کی جو ناقابل تنسیخ اہمیت ہے اُسکے قارئین ہمیشہ سے ہی معترف نظر آئے ہیں ۔ نوید مرزا ایک ایسے صاحبِ دل تخلیق کار ہیں جو خود بھی گھتیوں سے نکلنا چاہتے ہیں اور معاشرے کو بھی گھتیوں سے نکالنے کے طریقہ وردات کے متلاشی ہیں ۔
نوید مرزا کی کتاب ’’قلندر کی صدا‘‘میں قلندرانہ چاشنی ، صوفیانہ آہنگ، دوریشانہ رنگ، فقیرانہ انداز نے اہل ذوق احباب کو اپنے حصار میں کچھ ایسا لیا ہے کہ ادبی تنطیموں کی جانب سے کتاب اور صاحب کتاب کے حوالے سے تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ پہلی تقریب کا انعقاد گزشتہ دنوں ہی پاکستان رائیٹر کونسل کے زیراہتمام الحمرا ہال نمبر ۳ میں کیا گیا ۔ نجیب احمد کی زیرصدار ت اِس تقریب میں درویشانہ مزاج کے مالک نوید مرزا سے لگاؤ رکھنے والی معروف ادبی شخصیات نے شرکت کی ۔
نظامت کے فرائض پی ڈبلیو سی کے صدر الطاف احمد نے سرانجام دیئے ،مقررین جن میں غلام حسین ساجد، مرزا یسین بیگ، جاوید قاسم، ملک شہباز، نعیم مرتضی،قمر حامد امیر، نجیب احمد، راشد محمود، عبدالحق اعوان، سعد اللہ شاہ، سید عارف ،امجد طفیل، ٓفتاب خان،ابصارعبدالعلی شامل تھے ،نے کہا کہ نویدمرزاجس خاص سرچشمے سے کسبِ فیض حاصل کرتے ہیں اُسی کو اپنے کلام اور ادب کا آدرش سمجھتے ہیں ۔اِن کے خیالات میں وسعت ہے،گہرائی ہے ،نئا پن ہے ،تجربہ ہے،تازگی ہے،مجاہدہ ہے،جذبہ ہے،درویشی ہے۔بلاشعبہ نوید مرزا شعر کو شعر بنانے کے ہرہنر سے باخوبی آشنا ہیں۔
اِس موقع پر نویدمرزانے اپنا نئا اور فرمائشی کلام بھی سماعتوں کانذر کیا اور محفل کے ادبی رنگ کو خوب دوبالا کیا ۔سامعین نوید مرزا کے معیاری کلام میں بے خودی،مشاہدہ،مجاہدہ،زینتِ زنداں، رسمِ زندگی، برگِ آوارہ، لطف و معنویت، کمالِ دلربائی سن کر عش عش کر اُٹھے اور تالیوں کی گونج اور بے ساختہ ’’واہ،واہ‘‘،’’سبحان اللہ‘‘ سے پسندیدگی کی سند پیش کرتے رہے۔پیش خدمت ہے نویدمرزا کی نئی کتاب سے بھرپور دادوتحسین کے قابل ایک اور تازہ غزل ۔
خدا کا شکر کر جیسا بھی اور جس حال میں رکھے
کہیں ایسا نہ ہو قدرت تجھے بھونچال میں رکھے
بنا کر خاک سے کب خاک سا رہنے دیا مجھ کو
ہنر اُس نے ہزاروں میرے خدوخال میں رکھے
شکاری پر رہائی کے معانی تک نہیں کھلتے
خدا جانے پرندوں کو وہ کب تک جال میں رکھے
زمانوں پراُسی کی دسترس ہے ،اُس کی مرضی ہے
کسی کو رنج میں یا لمحہ خوش حال میں رکھے