Buy website traffic cheap

پاکستان

نیا پاکستان مبارک۔۔!!

نیا پاکستان مبارک۔۔!!
سید نقوی
ملکِ پاکستان میں اس وقت نگران حکومت قائم ہوچکی ہے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان اور سابق چیف الیکشن کمشنر ناصر الملک وزیراعظم ہیں،ملک کے نامور قانون دان اور آئین لکھنے والوں میں شمار ہونے والے ایس ایم ظفر کے بیٹے اور ایک بہت بڑے وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر بیرسٹر سید علی ظفر قانون کے وفاقی وزیرہیں۔ایک نامور سفارتکا ر اور ایک عرصہ تک اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر رہنے والے ، سندھ اسمبلی کے سابق سپیکر، ایک اعلیٰ پائے کے سیاستدان، مختلف چیرٹیز اور تعلیمی اداروں کے بورڈ کے ممبر عبداللہ حسین ہارون وزیر خارجہ ہیں۔ایک نامور بیوروکریٹ، سابق چیف سیکریٹری ، سابق وفاقی سیکریٹری،سابق صوبائی وزیرخزانہ سمیت یونائیٹڈ نیشن ڈیویلپمنٹ پروگرام میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھنے والے اور قائد اعظم کی عظیم درسگاہ لنکن انز لندن سے گریجویشن کرنیوالے اعظم خان ملک کے وزیرداخلہ ہیں۔سابق وفاقی سیکریٹری قانون ثاقب نثار ملک کے موجودہ چیف جسٹس ہیں جو ہسپتالوں کی صفائی سے لیکر ٹیلی فون کمپنیوں کی جانب سے کاٹے جانے والے اضافی ٹیکسزکا بھی سو موٹو لیتے ہیں۔ الغرض پاکستان میں اسوقت ان لوگوں کی حکومت ہے جنہوں نے پوری زندگی آئین و قانون کی بات کی اور اب بھی وہی بات کر رہے ہیں ۔صاحبانِ اقتدار میں ان تمام ماہرینِ آئین و قانون اور اعلیٰ پائے کے بیوروکریٹس ، نیب اور عدالت عالیہ و عظمیٰ کی موجودگی میں نیب کے بلیک لسٹ زلفی بخاری کو ایف آئی نے آف لوڈ کیالیکن زلفی تو ارب پتی ، بااثر اور عمران خان کا دوست تھا اس پر کہاں قانون کا اطلاق ہوتا، پس فوری طور پر نگران وزیرداخلہ عمران خان فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل اعظم خان اورسیکریٹری داخلہ سے رابطہ کیا گیا اور اور انہوں نے کمال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں اسپیشل پیغام رساں کے ذریعے اجازت نامہ دے کر خصوصی طور پر سعودیہ جانے کی اجازت دے دی۔قانون کے عظیم محافظ اعظم خان نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ کسی بلیک لسٹ شخص کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دے سکتے ، انہوں نے زلفی بخاری کو کلین چٹ دی اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان، جو اسوقت پاکستان کے وزیراعظم ہیں انکو دو دن تک اس قانون شکنی کی خبر نہ ہوسکی ۔اب اس نگران حکومت کے ہوتے ہوئے انتخابات کے صاف و شفاف انعقاد کا یقین کیسے کرلیا جائے جس کا وزیر داخلہ عمران خان کی ایک کال پر صرف چھبیس منٹ میں نیب کو مطلوب ملزم کا نام بلیک لسٹ سے نکال کر زلفی کو معزز ملزم ثابت کرتا ہے اورکہیں سے کوئی سوموٹو نہیں لیا جاتا۔ ؟ کون نہیں جانتا کہ انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کے بعد سب سے اہم کردار وزارت داخلہ کا ہوتا ہے۔ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس اسی وزارت کے تحت تو ہیں جو انتخابی عمل کو کنٹرول کرتے ہیں۔ نگران وزیرداخلہ نے عمران خان کے حکم پر زلفی بخاری کا نام پلیک لسٹ سے نکال کر اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت بھی دیدیا ہے کہ انتخابات کے نتائج کیسے ہونگے۔ ؟مجھے یقین ہے آج ناصر الملک، اعظم خان اور علی ظفر کو پتہ چل گیا ہوگا کہ آئین و قانون کی بات کرنے ، عدالتوں میں جرح کرنے، آرڈرز کرنے اور فائلوں پر آئین وقانون کے مطابق نوٹ لکھ دینا کتناآسان کام ہے اور اس پر عمل کرنا اور جب دباؤ آتا ہے تو پھر اس دباؤ کے سامنے قانون کا بند باندھناکتنا مشکل کام ہے۔ ’’عمران خان اور نگران حکومت دونوں کو میری طرف سے نیا پاکستان مبارک ہو۔‘‘یہ وہی خان صاحب ہیں جو رول آف لاء کے لئے امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کی مثالیں دیتے ہیں۔وہ غریب اور امیر کے لئے یکساں قانون کی بات کرتے ہیں اور ہروقت تبدیلی اور احتساب کا چورن بیچتے ہیں، لیکن انہوں نے اس معاملے میں ان سارے دعوؤں کی نفی کرکے اپنی حقیقت سب پر عیاں کردی۔ ایک طرف مبینہ طور پر پانامہ میں آف شور کمپنیوں کی وجہ سے زبان زد عام ہونے والے زلفی بخاری جنہیں نیب بار بار نوٹس دیتا رہا ، وہ ہر نوٹس جوتے کی نوک پر رکھتے رہے اور دوسری طرف مدینہ کے سرزمین پر بغیر جوتوں کے قدم رکھ کر لوگوں کے سامنے سادگی اور محبت کی اعلیٰ مثال قائم کرنے والے عمران خان دراصل اپنے جوتے پاکستان کے قانون اور اداروں کے منہ پر مار کر ننگے پاؤں دو نیب زدگان کی امامت میں حجاز مقدس روانہ ہوگئے۔ اب واپسی پر وہ ریاست مدینہ اور خلفا ء راشدین کی مثالیں دیں گے۔ پاکستان تحریک اانصاف کی جانب سے قائد اعظم ثانی کا خطاب پانے والے عمران خان ہمیشہ ریاست مدینہ کا تصور پیش کرنے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں ،مثالیں خلفا ء کی اور قانون برطانیہ و یورپ کا متعارف کرواتے ہیں،نیلسن منڈیلا اور مہاتیر محمد کی خصوصیات ظاہر کرنیوالے عمران خان قوم کو ہر وقت یہ بتاتے ہیں کہ یورپی ممالک کے سیاسی رہنما کتنی سادہ زندگی گزارتے ہیں،لیکن خودپاؤں کی ٹھوکر سے ریاست کے قانون کو اپنے راستے سے ہٹا دیا اور اپنے جوتے بھی وہیں چھوڑ دیئے۔ اب وہ ایک بار واپسی پر حسب روایت یہ مثالیں دیں کہ کینیڈا کا وزیراعظم پیدل چلتا ہے،برطانیہ کا وزیراعظم ٹرین پر دفتر جاتا ہے، ہالینڈ کا وزیراعظم سائیکل پر دفتر جاتا ہے،روس کا صدر گاڑی خود چلاتا ہے،ایران کا صدرکرائے کے مکان میں رہتا ہے۔لیکن خود چارٹر جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔پرائیویٹ جہاز پر عمرہ کے لئے جانے والے خان صاحب واپسی پر یقیناََ عوام کو بتائیں گے کہ یورپ اور امریکہ میں عوامی نمائیندے اکنامی کلاس میں عام عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔جس جہاز پر عمران خان نے سفر کیا اسکا ایک گھنٹے کا خرچہ آٹھ لاکھ روپے ہے۔ اب اس عمرے پر کتنا خرچہ آیا ہوگا ، خود حساب لگا لیں۔ اب اگر کوئی شخص لاکھ دو لاکھ کی بجائے کروڑوں لگا کر عمرہ ادا کرے اور واپسی پر صدقہ، خیرات، زکواۃ، عطیات اور فطرانے کی اپیلیں کرے تو کیا اسے یہ سب کچھ دینا جائز ہے ۔۔؟ یہ بھی سنا تھا کہ اللہ کے گھر سے لوٹنے کے بعد سچ بولنا چاہیے، امید تھی کہ خان صاحب اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں گے اور سچ بولیں گے لیکن۔۔۔!! اگرجہاز کا خرچہعلیم خان، عمرے کا خرچہزلفی بخاری،طواف کا خرچہ عون چوہدری برداشت کریں اور طواف صرف عمران خان کا ، اور وہ بھی جرابیں پہن کر تو پھراخلاقی جرات کہاں سے آنی۔۔!! جناب عمران خان مدینہ کی ریاست بنانا کوئی کھیل نہیں۔عمران خان اور نگران حکومت دونوں کو میری طرف سے’’ نیا پاکستان مبارک ہو۔‘ ‘ ایک ایسا پاکستان جہاں عمران خان کو ایک ایسی مسند پر بٹھایا جاچکا ہے کہ جہاں غلطی اور گناہوں کی گنجائش بالکل بھی نہیں اور اسے خطاکار کہنے والے کے گلے میں ہمیشہ کے لئے غدار، مفاد پرست، بے ایمان اور کرپٹ کا نشان لٹکا دیا جاتا ہے۔ ۔یہ وہ شخص ہے کہ جو قانون کا اتنا لاڈلا بن چکا ہے کہ ایک چارٹرڈ طیارے کے ذریعے ایک عسکری اڈے سے نیب کے ایک ملزم کو جسکا نام ای سی ایل کی بلیک لسٹ میں شامل ہو ایک فون کال سے نکلوا کر لے جاتا ہے اور قانون اور ملکی ادارے اسکا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور دوسری طرف تین مرتبہ منتخب وزیراعظم بار بار یہ درخواستیں دیتا ہے کہ مجھے اجازت دیں کہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اپنی بیوی کی عیادت کے لئے بیرون ملک جا سکوں تو اسے کہا جاتا ہے کہ نہیں جا سکتے۔ بلکہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے مسلسل حکم دیئے جاتے ہیں کہ اسکا نام فوراََسی ایل میں ڈال دیا جائے۔ یہ ہے قانون کا دوہرا معیار جواس وقت اندھے کو بھی نظر آتا ہے۔ تو جناب آپ کے خیال میں بنانا ریپبلک اور کس کو کہتے ہیں ۔۔۔!!