Buy website traffic cheap

مڈٹرم الیکشن

(ن) لیگ رخصت ہو گئی صوبہ نہ بنا

(ن) لیگ رخصت ہو گئی صوبہ نہ بنا
افضال احمد بٹ
0312-4995576۔ملتان
پاکستان پیپلز پارٹی کی طرح (ن) لیگ نے بھی اپنی مدت پوری کر لی مگر وعدے کے مطابق اُس نے بھی صوبہ نہیں بنایا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں صوبے کے ایشو کو محض اپنی سیاسی ضرورتوں کے تحت استعمال کرتی ہیں۔ اُن کی ترجیحات میں صوبے کا قیام شامل نہیں ہے۔ صوبہ بننے سے پہلے حکمرانوں نے صوبہ کے ایشو کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی اس خطے کے لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کیلئے بہاولپور صوبے کا ایشو کھڑا کرایا گیا۔ دیکھا دیکھی میں ملتان صوبہ والے بھی بیچ میں آگئے اور پورے ملتان میں وال چاکنگ کرائی گئی۔ ’’تعصب سے پاک صوبہ ملتان‘‘ اس طرح دیکھا دیکھی میں قوم پرست سرائیکی جماعتوں نے بھی نعرہ بلند کیا ’’بہاولپور نہ ملتان ، صوبہ صرف سرائیکستان‘‘ بعد میں فنکشنل لیگ کے رہنماؤں کی طرف سے مہاجر صوبے کا نعرہ بھی بلند کیا گیا۔ اس طرح کے نعروں کا مطلب سرائیکی صوبے کے مقدمے کو خراب کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس خطے میں بسنے والے ہم پنجابی یہ سمجھتے ہیں کہ صوبہ اس خطے میں بسنے والے ہر شخص کی ضرورت ہے، نام کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے، صوبے کا قیام ضروری ہے۔ (ن) لیگ کو ایوان میں دو تہائی بھاری اکثریت حاصل تھی اگر وہ چاہتے تو ایک دن میں صوبہ بنا سکتے تھے۔ ان لوگوں نے پنجاب اسمبلی سے قرار داد بھی پاس کرائی تھی اور اپنے منشور میں بھی لکھا تھا لیکن افسوس کہ انہوں نے وعدہ پورا نہ کیا۔ پیپلز پارٹی والے یہ عزر پیش کرتے تھے کہ ہمارے پاس صوبائی اور قومی اسمبلی میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ان کے مقابلے میں (ن) لیگ کے پاس اکثر یت بھی حاصل تھی، اختیار بھی حاصل تھا اور وہ بلا تاخیر صوبہ بنا سکتے تھے۔ (ن) لیگ کی طرف سے اندر خانہ یہ کام بھی کیا گیا کہ پنجابی اور اردو بولنے والوں کو ڈرایا گیا کہ صوبہ بن گیا تو یہ لوگ تم کو یہاں نہیں رہنے دیں گے، حالانکہ ہم یہاں پیدا ہوئے، ہمیں کس بات کا ڈر ہے؟ یہ دھرتی ہماری ہے، ہمارا بھی اس خطے پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا، ہم اس دھرتی کے بیٹے ہیں اور اس دھرتی پر ہم سب محبت اور خوشی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ (ن) لیگ ہو یا کوئی بھی گروہ ، ہمیں ڈرا کر ہمارے حقوق سلب کرنے کی کوشش نہ کرے، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہمیں صوبہ ملنا چاہئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سرائیکی جماعتوں نے وسیب کے حقوق اور صوبے کیلئے بہت جدوجہد کی ہے مگر اس میں بھی مسائل یہ ہیں کہ اب یہ تخت لاہور سے لڑنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ برسرے پیکار نظر آتے ہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں القابات اور خطابات پر جھگڑے ہوتے ہیں، عہدوں پر لڑائیاں ہوتی ہیں، فوٹو سیشن پر لڑائیاں ہو جاتی ہیں، کون بڑا کون چھوٹا، کون آگے ، کون پیچھے، لانگ مارچ کئی سالوں کے بعد سرائیکی جماعتوں کی بہت بڑی کامیابی تھی جسے چند سرائیکی رہنماؤں کی چھوٹی سوچ نے ناکام کر دیا اور اگلے مرحلے طے نہ ہو سکے اور لانگ مارچ بڑی مشکلوں سے ملتان پہنچایا گیا، یہاں بھی چکر آگے نکلنے اور فوٹو بنوانے اور بڑی بڑی تصویروں کی نمائش کرنے کا تھا، مقصد پیچھے رہ گیا فوٹو کا شوق آگے آگیا۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ لوگ محنت بھی کرتے ہیں ، سرمایہ بھی لگاتے ہیں مگر سیاسی ناپختگی کے باعث اپنی محنت او رسرمایہ ضائع کر دیتے ہیں اور کاذ کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔ آٹھ سرائیکی جماعتوں کا اتحاد بنا تھا اُس میں کوئی عہدیدار نہ تھا، شاید اُس کے قائم اور زندہ رہنے کی یہی ایک وجہ تھی ، پانچ سال اس اتحاد نے اچھا کام کیا، سرائیکی صوبے کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس خطے کے جاگیرداروں سے بھی نہ رہا گیا انہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ قائم کیا اُن کے آنے سے صوبے کا ایشو ایک دم زمین سے اُٹھ کر آسمان پر چلا گیا، تخت لاہور کے حکمران بھی بہت پریشان ہوئے، بڑے بڑے اشتہارات شائع ہونے لگے، پریس کانفرنسیں ہونے لگیں، مگر یہ جاگیردار پانی کا بلبلا ثابت ہوئے اور تحریک انصاف میں ضم ہو کر اپنی سیاسی ساکھ کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا اور صوبے کی تحریک کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو سرائیکی جماعتوں نے پسند نہ کیا اُن کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کا لفظ ہمارے لئے گالی ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے توڑ کیلئے سرائیکستان صوبہ محاذ قائم کیا گیا، اس موقع پر سرائیکی رہنما ظہور دھریجہ نے مشورہ دیا کہ اس محاذ کو بھی سرائیکستان عوامی اتحاد کی طرح بنایا جائے اور اس کی ایگزیکٹو باڈی ہو فی الحال عہدے دار مقرر نہ کئے جائیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جونہی عہدوں کا نام آئے گا تو عہدوں کی تقسیم ہی میں اُلجھ جائیں گے اور اصل منزل رہ جائے گی۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبہ محاذ میں تمام جماعتیں ہونی چاہئیں، سب کو برابر کا احترام ملنا چاہئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ قوموں اور برادریوں میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا، مسجد مسجد ہوتی ہے، چاہے مٹی سے بنی ہو اور سنگ مر مر سے، احترام برابر ہے۔ اسی طرح باہمی احترام کے ذریعے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ اُن کی بات کو نہ مانا گیا، جس سے مسائل پیدا ہوئے اور ابھی تک سرائیکی جماعتیں انہیں مسائل میں الجھی ہوئی ہیں۔ دوسرا نقصان یہ ہوا ہے کہ کچھ نئے لوگوں نے اپنا الگ گروپ قائم کر لیا ہے اور وسیب کے لوگوں کو تقسیم کرنے کیلئے جو کام محمد علی درانی نہ کر سکا ان لوگوں نے خود اپنے ہاتھ سے سر انجام دے دیا حالانکہ سرائیکستان صوبہ محاذ کی طرف سے مسلسل اتحاد کی دعوتیں دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں مگر دوسری طرف سے الگ راستہ اختیار کر لیا گیا ہے اور ایک دوسرے کی مخالفت میں گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے، اب تخت لاہور والوں کو مبارک ہو کہ توپوں کا رخ اُن کی طرف نہیں بلکہ یہ خود ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریباں ہیں۔
ایک میں اپنے ذاتی دکھ کا بھی اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ایک سرائیکی جماعت کی طرف سے سرائیکی صوبے کیلئے لانگ مارچ ہوا میں بڑے شوق و ذوق کے ساتھ اس میں شریک ہوا لانگ مارچ کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوا اس میں شریک افراد کی تعداد قابل تعریف تھی، ہمارے ایک ساتھی جو ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتے ہیں اور لوک سانجھ کے ساتھ بھی وابستہ ہیں وہ آئے ہم نے اُن کو مبارکباد پیش کی اور میں جس تنظیم سے وابستہ ہوں اُس ادارے میں ملازمت بھی کرتا ہوں اور میں واحد آدمی ہوں جواپنے پنجابی بھائیوں کو بتاتا ہوں کہ جھوک والوں کے خلاف تعصب کا یکطرفہ پروپیگنڈہ درست نہیں کہ وہ لوگ تخت لاہور سے حقوق کیلئے لڑتے ہیں، لفظ سرائیکی پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتے لیکن دوسری زبانوں کا بھی احترام کرتے ہیں، اگر وہ ہماری پنجابی ماء بولی کے در حق کوئی لفظ بولتے تو ظاہر ہے میں وہاں سے چھٹی کر لیتا لیکن ایسی کوئی بات نہیں، میں عرض کر رہا ہوں کہ ملازمت کے ساتھ ساتھ میں سرائیکستان قومی کونسل سے بھی وابستہ ہوں کہ یہ ہم سب کی تحریک ہے۔ وہ صاحب آئے میں نے اُن کو مبارکباد دی اور سوشل میڈیا پر سرائیکستان قومی کونسل کی طرف سے لکھا کہ ہم ’’لوک سانجھ‘‘ کے اعزاز میں کامیاب ریلی پر تقریب منعقد کریں گے اور لوکھ سانجھ کے رہنماؤں کو پھولوں کے ہار پہنائیں گے وہ صاحب جو کہ میری طرح خود بھی کسی ادارے میں ملازمت کرتے ہیں انہوں نے جواب میں لکھا کہ افضال بٹ کوئی پنجابی رہنما نہیں بلکہ صرف جھوک کا ملازم ہے اور ہمارا تقریب پذیرائی سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا صرف اتنا سوال ہے کہ ٹھیک ہے کہ میں ملازم ہوں ، میں پوچھتا ہوں کہ کیا ملازم ہونا جرم ہے؟ اور کیا اس طرح صوبہ بنے گا؟ کوئی شخص آپ کو خلوص دل کے ساتھ اپنی محبت اور اپنا احترام پیش کرتا ہے اور وہ آپ کو پھول بھیجتا ہے تو آپ اُس کی توہین کریں اور اسے پھولوں کا جواب تعصب کے پتھروں سے دیں؟