Buy website traffic cheap

قاتلانہ

ن لیگ نے تحقیقاتی کمیشن کا ایک بار پھر مطالبہ کردیا

اسلام آباد(آئی این پی) مسلم لیگ (ن) نے ایک بار پھر انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر پارلیمانی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیشن کے قیام کی یقین دہانی کو ایک ماہ گزر گیا مگر پارلیمانی کمیشن تشکیل نہیں دیا گیا،صدارتی خطاب سے پہلے ہم صرف حکومت کو وعدہ یاد دلانا چاہتے تھے،ہماری بات کو نہیں سنا گیا اورمجبوراً ہمیں واک آﺅٹ کرنا پڑا، حکومت رونگ فٹ پر شروعات کررہی ہے ہمیں حق سے محروم کیا گیا ہے،بدمزگی کی ذمہ دار سرکاری جماعت ہے، ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ آرام سے چلے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے واک آﺅٹ کے بعد پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر مسلم لیگ (ن)کے سینئررہنماﺅں خواجہ محمد آصف،سینیٹر پرویز رشید ، ایاز صادق، خرم دستگیر،رانا تنویر و دیگر نے میڈیا سے گفتگو کی ۔ اس موقع پر خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ آج ہم نے صدارتی خطاب سے پہلے سپیکر سے فلور مانگا ہمیں فلور اس لیے نہیں دیا گیا کہ قواعد اجازت نہیں دیتے لیکن ہم بتانا چاہتے تھے کہ ایسی مثال موجود ہے۔ شاہ محمود قریشی کو صدارتی خطاب سے پہلے سردار ایاز صادق نے بات کرنے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بات کو نہیں سنا گیا اورمجبوراً ہمیں واک آﺅٹ کرنا پڑا۔ ہم مختصر بات کرنا چاہتے تھے کہ وزیر اعظم کے انتخاب کے دن قائد ایوان نے یقین دلایا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی کے مسئلے پر پارلیمانی کمیشن تشکیل کیا جائے گا لیکن آج مہینہ ہوگیا ہے اور پارلیمانی کمیشن تشکیل نہیں دیا گیا۔ ہم انہیں وعدہ یاد دلانا چاہتے تھے اس کے علاوہ کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سرکاری پارٹی کے کچھ حضرات ہمارے پاس آئے اور کہا کہ صدر کے خطاب کے بعد آپ کو بات کرنے کا موقع دے دیتے ہیں لیکن پھر کہا گیا ہے کہ اس کی بھی اجازت نہیں دے سکتے آپ کل صبح بات کرلیں۔ آج کی بدمزگی کی ذمہ داری سرکاری جماعت پر آتی ہے۔ چالیس سیکنڈ بات کرنے کی اجازت دے دیتے ہم نے صرف انہیں وعدہ یاد دلانا تھا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ شروعات غلط ہورہی ہیں حکومت رونگ فٹ پر شروعات کررہی ہے ہمیں حق سے محروم کیا گیا ہے۔سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ ہم چاہتے تھے اپنا موقف عوام تک پہنچاتے، چاہیں گے دھاندلی پر پارلیمانی کمیشن جلد تشکیل ہوکر کام شروع کردے، (آج)منگل کو ہم پھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس مسئلے کو اٹھائیں گے۔(آج) ہم پھر اس مسئلے کو قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے،ہم چاہیں گے کہ دھاندلی پر پارلیمانی کمیشن جلد تشکیل ہو۔