Buy website traffic cheap


واقعہ پاکپتن کی اصل حقیقت!

ملک محمد سلمان
پولیس کو اطلاع تھی کہ خاتون اول دربار پر حاضری دینا چاہتی ہیں۔ جب پولیس کو اچانک یہ خبر ہوئی کہ کوئی خاتون ننگے پاو¿ں دربار کی طرف جارہی ہے توبشریٰ مانیکا سمجھ کر فوری طور پر پروٹوکول کیلئے سکواڈ بھیجا گیا۔پینے پلانے میں بدنام ڈی پی او کی فورس بھی ویسی ہی بن گئی۔اے ایس آئی اور دواہلکاروں پر مشتمل سکواڈ میں سے ایک اہلکار ڈرنک حالت میں تھا جب اسے پتا چلا کہ یہ خاتون اول نہیں ہیں تو اس نے معصوم بچی کو چھیڑنے کی کوشش کی جو ڈر کر جلدی سے واپس گاڑی کی طرف بھاگ گئی۔اس شرمناک حرکت پر مانیکا فیملی کو شدید غصہ آیااور اس واقعہ کے خلاف سنئیر آفیسرز کو شکایت کردی۔ابھی پہلے واقعہ کے خلاف انکوائری جاری تھی کہ23 اگست کو خاورمانیکااور اس کے ساتھی پاک پتن کی طرف جارہے تھے تو پولیس ناکے والوں نے انہیں روک کر اوٹ پٹانگ سوالات سے تذلیل کرنے کی کوشش کی۔خاورمانیکا کو دوستوں کے سامنے سخت خفت کا سامنا کرنا پڑااس نے گاڑی چلا کر آگے نکلنا چاہا تو پولیس نے انکا پیچھا کیا اوردوبارہ روک کر بدتمیزی شروع کردی۔خاور مانیکا سمجھ گیا کہ یہ سب کچھ ٹارگٹ کر کے کیا جارہا ہے ،مانیکا نے آر پی او کو سخت غصے میں سب بتایا اور کاروائی کا مطالبہ کیا۔آر پی او کی طرف سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر آئی جی آفس رابطہ کرکے ڈی پی او رضوان عمر گوندل کی سرپرستی میں مسلسل تذلیلی مہم سے اگاہ کیا۔آئی جی امام کلیم کو بھی رضوان گوندل نے من گھڑت کہانیاں سنا کررام کرنا چاہا۔رضوان گوندل کی اپنی ہی سٹیٹمنٹ میں بار بار تضاد آرہا تھا اور وہ مسلسل غلط بیانی کا مظاہرہ کررہا تھا۔جب آئی جی مطمئن نہ ہوئے تو رضوان کو عہدے سے ہٹائے جانے کا آرڈر ملا تو رضوان نے آر پی او کو اگاہ کیا مبینہ طور پر شارق کمال صدیقی نے اسے وہی طریقہ اپنانے کو کہا جو اس نے مئی 2016میں اپنی برطرفی پر اپنایا تھا۔رضوان گوندل نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر صوبائی پولیس چیف کو ڈی گریڈ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ پھیلا دیا کہ خاتون اول بشریٰ مانیکا نے اسے عہدے سے ہٹوایا ہے۔
مانیکا فیملی کو ٹارگٹ کرنے اور بعدازاں خاتون اول کو بدنام کرنے کے پیچھے مبینہ طور پر رضوان گوندل کی مسلم لیگ ن سے ہمدردیوں اور روابط کا کردار ہے۔ایس پی رینک کے جونئیر آفیسر کو سابقہ حکومت نے ضلعی آفیسر لگارکر نہ صرف سنئیر افسران کا استحصال کیا بلکہ اسے سیاہ سفیدکی کھلی چھٹی دیے رکھی۔بطور ڈی پی او خانیوال تعیناتی میں زمینوں پر قبضوں کیلئے گینگ بنانے کی خبریں گردش کرتی رہیں۔چائنیز انجنیئر ز اور پولیس کے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کے ساتھ نور پور کیمپ میں ہونے والے جھگڑے کی ویڈیو تو سب نے دیکھی ہوئی ہے ،ویڈیو میں چینی باشندے پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کرتے پولیس کی گاڑی پر چڑھتے بھی دیکھائی دیے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ چائنیز انجنیئر ز کی لڑائی کے پیچھے بھی موصوف کی ڈکٹیٹر ذہنیت تھی ، چائنیز انجنیئر زکوکیمپ عمارت میں بند کروادیا گیا اور موبائل چھین لیے گئے اس کے بعد اچھے کی امید کیسے رکھی جاسکتی تھی۔پاکستان میں گزشتہ چار سال سے سینکڑوں کلومیٹر اور بیسوں مقامات پر چائنیز کام کررہے ہیں مسئلہ صرف وہیں کیوں ہوا جہاں رضوان گوندل ڈی پی او تھا۔
قبل ازیں جون 2016میں جب اسلام آباد میں ایس پی تھا تو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں رات کے وقت سیرینہ ہوٹل کے کمرے میں ایک غیر ملکی خاتون سے ملنے آیا تو واپسی پر شراب کے نشے میں دھت تھا،والٹ پارکنگ والے سے گاڑی لانے میں تھوڑی تاخیر ہوگئی تو غل غپاڑہ شروع کردیا نائٹ مینجر نے سمجھانے کی کوشش کی تو اسے تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں نہیں پتا میں یہاں کا ایس پی ہوں۔،مینجر کو تھانے میں بند کرنے اور تشدد کی اطلاعات بھی ہیں۔قانون کی وردی میں قانون کے دھجیاں اڑاتے ہوئے ہوٹل والوں سے کہا کہ دیکھتا ہوں تم کیسے ہوٹل چلاتے ہو اور ساتھ ہی ہوٹل کی ناکہ بندی کردی،سرینہ جیسے بڑے ہوٹل میں غیرملکیوں سمیت ایلیٹ کلاس کا سٹے ہوتا ہے ،ایس پی کی غنڈہ گردی کی اطلاع وزیر داخلہ تک پہنچی توچوہدری نثار نے واقع پر فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے معطل کیا۔مسلم لیگ ن کا چہیتا ہونے کی وجہ سے غیر ملکی لڑکی ، شراب اور ہوٹل کی ناکہ بندی کی خبر گول کروا دی گئی ،۔ ایک دوسرے واقعے میں ایک بندے سے غیرملکی ٹکٹس بطور رشوت مانگنے پر اس وقت کے آئی جی اسلام آبادسکندر حیات نے کافی بے عزت کیا۔خانیوال سے پہلے جب یہ ایس پی صدرلاہور تھا تو سنئیر صحافی اصغر بھٹی پرانکی رہائش گاہ جوہڑ ٹاو¿ن میں قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن ایس پی نے نہ صرف مقدمے کے اندراج سے انکار کیا بلکہ نامزد ملزمان کی سرپرستی کی۔
شارق کمال جب آپ کو انتقامی کاروائی کے تحت صوبہ بدر کیا گیا تھا تو وہاں کے لوگوں نے آپ کو ہار پہنائے جبکہ میں نے اپنے کالم میں آپ کا مکمل ساتھ دیا۔مئی 2016سے آج تک نہ آپ سے کبھی ملا نہ کال کی، کیوں کہ وہ شارق کمال کی نہیں حق اور سچ کی سپورٹ تھی جوبے لوث ہوکراخلاقی اور قلمی فریضہ سمجھ کر ادا کیا۔لیکن آج مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کے سکھائے راستے پر چل کر اسی سوشل میڈیا کے زریعے رضوان گوندل صرف ذاتی مفاد، پولیس ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی اور عمران خان کی کردار کشی کا کام کررہا ہے۔میرے قارئین باخوبی جانتے ہیں کہ میں عمران خان کے سخت ترین مخالفین میں سے ہوں لیکن جس طرح خاتون اول جو ابھی عمران خان کی منکوحہ ہے اسے سابقہ خاوند کے ساتھ بدنام کیا جارہا ہے اور من گھڑت کہانیاں بنائی جارہی ہیں وہ کسی بھی باضمیر انسان کیلئے تو قابل قبول نہیں ہوسکتیں۔ جب قانون کے رکھوالے قانون شکن ہوجائیں تو صرف معاشرہ ہی نہیں ادارے بھی تباہ ہوجاتے ہیں،قانون کی وردی میں قانون سے کھلواڑ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔معزز پاکستانی شہری سے ٹارگٹڈبدتمیزی ،افسران سے مسلسل غلط بیانی اور ٹرانسفر کو غلط رنگ دینے پر آئی جی پنجاب امام کلیم کو چاہئے کہ مکمل تحقیقات کے بعدمذکورہ ایس پی کو سخت سے سخت قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی عزت کو ذاتی مفاد کی خاطر داو¿ پر لگانے والے انجام کو پہنچ سکیں۔
ہمارے ہاں المیہ ہے کہ سیاستدانوں کو ٹارگٹ کرنا آسان ترین ہدف ہے جبکہ پولیس کے خلاف سچ لکھتے ہوئے بھی بڑے بڑے افسران اور صحافیوں کے پر جلتے ہیں،مذکورہ واقع میں بھی ہر کوئی پرسنل ریلشنشپ کے چکر میں ایس پی کو فرشتہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے لیکن یاد رکھیے کل کو اللہ کے ہاں ایک ایک لفظ کا حساب ہو گا وہاں کوئی ایس پی کام نہیں آئے گا کسی بڑے افسر کی سفارش نہیں چلے گی۔
آنور لودھی کے اس ٹویٹ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ “ ڈی پی او رضوان گوندل اورضلعی پولیس ڈرامہ کر رہی ہے۔کسی نے ایس پی کو ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے کا نہیں کہا۔ ابھی جب ناصر درانی پولیس میں اصلاحات کرے گا، ان کی رشوت خوری بند کروائے گا تو ایسی مزید چیخیں سنائی دیں گی۔“

آئی جی پنجاب نے رضوان گوندل کو خاور مانیکا سے معافی مانگنے کا نہیں کہا
ایڈیشنل آئی جی پنجاب نے ڈی پی او پاک پتن رضوان گوندل کے تبادلے کے معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب اور آر پی او نے ڈی پی او پاک پتن کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگنے کا نہیں کہا۔ایڈیشنل آئی جی پنجاب ابوبکر خدا بخش نے اس معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے جو 11 صفحات پر مشمل ہے اور اس میں دو خواتین سمیت 17 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے ۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آئی جی پنجاب کلیم امام اور آر پی او نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگنے کا نہیں کہا۔رپورٹ کے مطابق سابق ڈی پی او پاک پتن رضوان گوندل نے 2 مختلف موقف دیئے، خاور مانیکا اور ان کے خاندان کے ساتھ ایک نہیں دو واقعات ہوئے، ایک واقعہ 5 اگست اور دوسرا 23 اگست کو ہوا، 23 اگست کو خاور مانیکا کو پولیس پوسٹ پر روکنے کی کوشش کی گئی مگرنہ رکے، پولیس کی گاڑیوں نے پیچھا کرکے خاور مانیکا کی گاڑیوں کو روکا، روکنے پر خاور مانیکا نے اپنا تعارف کرایا تاہم اپنی گاڑی کی تلاشی دینے سےانکار کر دیا۔

خاورمانیکا تنازع : وزیراعظم کا معاملے سے لا تعلق رہنے کا فیصلہ
وزیراعظم عمران خان کو خاورمانیکا اورڈی پی او رضوان گوندل کے درمیان تنازع کے حوالے سے پنجاب حکومت کی ابتدائی رپورٹ موصول ہوئی ہے جس کی بنیاد پرانہوں نے معاملے پر لاتعلق رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈی پی او نے خود کو ہیروثابت کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا تاہم وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے ڈی پی او کو ہٹانے کے لیے دباﺅ نہیں ڈالا اور آئی جی پولیس نے غلط بیانی پرڈی پی او کو خود عہدے سے ہٹایا۔یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ کے روز سینئر صحافیوں کے وفد سے ملاقات کے دوران بھی خاور مانیکا تنازع کے متعلق پوچھے گئے متعدد سوالات کے جواب میں یہی کہا تھا کہ یہ صوبائی حکومت کا معاملہ ہے اور آئی جی پنجاب کو اسے خود حل کرنا چاہئے تھا،وزیراعظم نے چیف جسٹس کی جانب سے نوٹس لینے کا بھی خیر مقدم کیا تھا۔ وزیراعظم نے رپورٹ ملنے کے بعد واقعہ کو محکمانہ معاملہ قراردیتے ہوئے معاملے سے لا تعلق رہنے کا فیصلہ کیا جب کہ کہا یہ معاملہ پنجاب حکومت خود دیکھے گی۔دوسری جانب پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ڈی پی اوپاکپتن کے تبادلے سے تحریک انصاف یا پنجاب حکومت کا کوئی تعلق نہیں ان کا تبادلہ شہریوں کی جانب سے متعدد شکایات ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

قائم مقام آر پی اور ساہیوال شارق کمال صدیقی کون ہیں؟
خاور مانیکا اور رضوان گوندل کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا تو وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے رضوان گوندل اور ساہیوال کے آر پی او شارق کمال صدیقی کو اپنے دفتر بلایا۔ جہاں پہلے سے موجود ایک شخص نے چیف منسٹر کے سامنے رضوان گوندل سے خاور مانیکا کے ڈیرے پر جاکر
معافی مانگنے کیلئے کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ سابق ڈی پی او رضوان گوندل کے ساتھ چیف منسٹر آفس جانے والے دوسرے افسر آر پی او ساہیوال شارق کمال صدیقی تھے۔ یہ وہی افسر ہیں جو کچھ برس قبل بہاولنگر میں ڈبنگ ڈی پی او کے نام سے مشہور ہوئے تھے اور ایک واقعہ میں انہیں بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔یہ واقعہ 2014ء کا ہے جب بہاولنگر میں عالم داد لالیکا نےاس وقت کے وزیراعظم نوازشریف سے شکایت کی کہ یہاں پر ایک سرپھرا افسر آیا ہے جس کا نا م شارق کمال ہے۔ اس نے میرے ڈیرے پر چھاپہ مار کر میرے کچھ ملازمین کو گرفتار کرنے کی گستاخی کی ہے۔ اس پر نوازشریف ناراض ہو گئے اور انہوں نے آرڈر جاری کیا کہ شار ق کمال صدیقی کو صوبہ بدر کر دیا جائے اور وہ پنجاب میں نوکری نہیں کر سکتے۔اس وقت کے آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے اس وقت کے آر پی او احسان صادق کو ٹیلیفون کیا اور کہا کہ اپنے ڈی پی او شارق کمال صدیقی سے کہو کہ تمہارے پاس تین گھنٹے ہیں کہ تم عالم داد لالیکا کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگو۔ احسان صادق نے شارق کمال کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن شارق نے جواب دیا کہ آپ نے جو تین گھنٹوں کے بعد کرنا ہے وہ ابھی کرلیں لیکن میں کھانا کھانے یا معافی مانگنے کیلئے نہیں جاﺅں گا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے میری پولیس کا مورال خراب ہو گا۔اس کے بعد ڈی پی اور بہاولنگرشارق کمال صدیقی کو صوبہ بدر کردیا گیا تھا۔عوام میں ہر دل عزیز شارق کمال کو مقامی لوگوں نے پھولوں کے ہار پہنائے اور باعزت طریقے سے وہاں سے رخصت کیا۔