Buy website traffic cheap


وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار کون؟

وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار کون؟
شہباز سعید
عام انتخابات سے قبل جہاں سیاسی جماعتوں میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری جانب سیاسی جماعتوں کے اندر بھی محاذ کھڑے ہو ہوچکے ہیں۔ ایک طرف تو سیاسی جماعتوں کو ٹکٹوں کی تقسیم میں مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری طرف کامیابی کی صورت میں عہدوں کی تقسیم بھی ایک کٹھن مرحلہ ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان تحریک انصاف میں تاحال بہت سے حلقوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ التواءکا شکار ہے۔(ن) لیگ کے صدرشہباز شریف لاہور میں کچھ حلقوں میںپارٹی ٹکٹوں کی تقسیم اور قریبی ساتھیوں کی ناراضگی کے بعد ٹکٹوں کی تقسیم سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جبکہ اب حتمی فیصلہ پارٹی قائد محمد نواز شریف ہی کریں گے۔ جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر شش و پنج کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔کئی حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹس دیکر واپس بھی لئے گئے ہیں جبکہ انہیں پارٹی کے اندر شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔اگر دیکھا جائے توعام انتخابات کے لیے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ حاصل کرنے والے 90 فیصد امیدوار وہی ہیں جنہیں 2008 اور پھر 2013 میں پارٹی ٹکٹ ملا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتوں نے اس بار ٹکٹوں کے اجرا میں معروف سیاسی خاندانوں اور قبیلوں میں توازن رکھا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق، مریم نواز، حمزہ شہباز اور رانا ثنااللہ جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے علیم خان اورشاہ محمود قریشی بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوںجماعتیں انہی رہنماﺅں میں سے ہی کوئی ایک پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا امیدوارنامزد کریں۔لیکن اس بار پی ٹی آئی نے بھی ڈبل گیم کھیلنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔اگر پارٹی کے اندر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے اختلافات شدت اختیار کر گئے تو عمران خان اپنے اتحادی رہنماﺅں چوہدری پرویز الٰہی اور میاں منظور وٹو میں سے بھی کسی ایک کو وزارت اعلیٰ کے امیدوار کیلئے نامزد کر سکتے ہیں۔اور یاد رہے کہ دونوں رہنما پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور سیاست کے ساتھ ساتھ انتظامی لحاظ سے بھی دونوں کا و سیع تجربہ ہے۔ بہرحال قیاس آرائیوں سے برعکس خواجہ آصف صوبائی سیٹ پر انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے اس لیے وہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے امیدوار نہیں ہوں گے۔جبکہ پی ٹی آئی کے سینیٹر اور سابق گورنرپنجاب چوہدری سرورشاہ محمود قریشی کے حق میں دستبردار ہوچکے ہیں۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں سیاسی رہنما وزارت اعلیٰ کے امیدوار نہیں رہے۔اب اگر ٹکٹس لینے والے روائتی سیاستدانوں کی بات کی جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ(ن) لیگ کی ٹکٹ لینے والوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جو طویل عرصہ سے پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پارٹی چھوڑ کر جانے والے بیشتر لوگ وہ ہیں جو 2013 میں پارٹی میں شامل ہوئے یا آزاد حیثیت سے الیکشن جیت کر آئے تھے اور اب یا تو وہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں یا انہیں پی ٹی آئی نے ٹکٹس جاری کئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ کابینہ کے ارکان چودھری نثار، پیر حسنات اور زاہد حامدہیں جنہیں ٹکٹ نہیں ملا۔ جھنگ، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان اور چنیوٹ میں گزشتہ پانچ برس کے دوران جن افراد پر بھروسہ کیا گیا تھا انہوں نے آخری لمحے میں وفاداریاں تبدیل کرلی ہیں۔خوشاب، بہاولنگر اور رحیم یار خان سے ٹکٹوں کا اعلان اب تک نہیں کیا گیا کیونکہ ان علاقوں میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اب تک ختم نہیں ہوئے۔(ن) لیگ میں بظاہر ٹکٹ دینے کے فیصلے سروے کی بنیاد پر کیے گئے ہیں جو کہ معروف کمپنیوں کے ذریعے شہباز شریف کی براہ راست نگرانی میں کرائے گئے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ (ن) لیگ نے ہر حلقے اور اضلاع میں خاندان اور ذات برادری پر خاصی تحقیق کی ہے۔ اس سلسلے میں جٹ آرائیں اور راجپوت کشمیری توازن برقرار رکھا گیا ہے۔جبکہ اس بار پی ٹی آئی نے بھی ذات برادری کو ہی ترجیح دی ہے اور اسی وجہ سے نظریاتی اور پرانے کھلاڑی عمران خان سے ناراض ہیں اور احتجاج کرنے والوں کی اکثریت بھی ان کی ہی ہے جو ایلکٹیبلز کی دوڑ سے باہر ہیں۔اسی طرح جنوبی پنجاب میں ٹکٹ دیتے ہوئے سرائیکی پنجابی اور مقامی افراد کے درمیان بھی توازن رکھا گیا ہے۔مسلم لیگ (ن) نے پارٹی کے کچھ پرانے لوگوں کو طویل عرصہ بعد ایک مرتبہ پھر ٹکٹ دیے ہیں۔ اٹک سے تعلق رکھنے والے ملک سہیل کمبڑیال بھی ان میں شامل ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی تاہم اب وہ (ن) لیگ میں واپس آ گئے ہیں۔گوجر خان سے چودھری ریاض کو بھی ایک دہائی کے بعد واپس لے لیا گیا ہے۔ اسی طرح ماموں کانجن سے صفدر شاکر اور صادق آباد سے شوکت داو¿د کو بھی واپس لیا گیا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ اس مرتبہ کئی سگے بھائی بھی مسلم لیگ (ن) کی جانب سے امیدوار ہیں۔ ان میں شیخوپورہ سے رانا تنویر اور رانا افضل، چیچہ وطنی سے چودھری طفیل اور چودھری حنیف، راولپنڈی سے ملک ابرار اور ملک افتخار، سیالکوٹ میں ارمغان سبحانی اور طارق سبحانی، لاہور سے سیف کھوکھر اور افضل کھوکھر، گجرات سے عابد رضا اور شبیر رضا، میاں والی سے امانت شادی خیل اور عبیداللہ شادی خیل، سرگودھا سے مختار بھرت اور آصف بھرت، راجن پور سے خضر مزاری اورعاطف مزاری، اوکاڑہ سے ریاض الحق اور منیب الحق جبکہ اوکاڑہ سے ہی عباس ربیرا اور رضا ربیرا شامل ہیں۔ قصور سے رانا اسحاق، رانا حیات اور رانا اقبال سمیت یعنی پورے گھرانے کو ٹکٹ دیے گئے ہیں۔ یہ لوگ 2008 اور 2013 کی اسمبلیوں میں بھی موجود تھے۔مریم نواز کے سوا کوئی نئی خاتون امیدوار شامل نہیں کی گئی جبکہ سائرہ افضل تارڑ، بیگم تہمینہ دولتانہ اور ڈاکٹر شذرا منصب سمیت تمام سابق خواتین ارکان اسمبلی کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی نے 13ءکی نسبت اس بار بہت سے نئے چہروں کو ٹکٹس جاری کئے ہیں۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس مرتبہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے جیتنے کے مواقع زیادہ ہیں۔گزشتہ کچھ عرصے میں پی ٹی آئی میں دوسری بڑی سیاسی جماعتوں سے کئی انتخابی ا±میدواروں نے شمولیت اختیار کی ہے جس کی وجہ سے عام انتخابات 2018ءمیں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کا قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی نے ابھی 272 میں سے متعددٹکٹوں کا فیصلہ کرنا ہے لیکن اس معاملے میں پی ٹی آئی کے پاس ا±میدواروں کا تناسب ٹکٹوں سے زیادہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی میں اندرونی محاذ جاری ہے۔ حال ہی میں ٹکٹ کے معاملے پر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ٹکٹ کے معاملے پر مبینہ اختلاف کی وجہ سے پارٹی چھوڑنے کی تنبیہہ کر دی البتہ تاحال ان کی جانب سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا ، اسی طرح علی محمد خان کا بھی پارٹی قیادت سے ٹکٹ کے معاملے پر اختلاف ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عمران خان کا کہنا کہ ہر ا±میدوار کو ٹکٹ میرٹ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔لیکن کچھ معاملات ٹکٹ کے لین دین سے بھی آگے بڑھ گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اوپر دیئے گئے سیاسی رہنماو¿ں کے ناموںمیں سے کس ایک کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سونپی جاتی ہے یا عوام کو چوہدری نثار کی صورت میں کوئی سرپرائز ملے گا۔لیکن اس کے لیے عام انتخابات 2018ءمیں پی ٹی آئی یا (ن) لیگ کی بھاری اکثریت سے جیت مشروط ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔