Buy website traffic cheap

عدم برداشت

وزیراعظم عمران خان مسئلہ کشمیر عالمی برادری کے سامنے اُٹھائیں

مقبوضہ کشمیر میں 6 نوجوانوں کی شہادت اور لاش کی بے حرمتی کرنے کے خلاف حریت قیادت کی کال پرگزشتہ دو روز سے وادی بھر میں مکمل شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی جارہی ہے۔مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل اور دیگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بےگناہ شہریوں کے قتل عام پر توجہ دیں اور حریت رہنماو¿ں و کارکنوں کی زندگی کو خطرات کا نوٹس لیا جائے۔گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ایک جاں بحق کشمیری کی لاش کو زنجیر سے باندھ کر گھسیٹا گیا اور لاش کی بے حرمتی کی گئی۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں اور انسانی حقوق کی پامالیاں کوئی نئی بات نہیں، لیکن سوشل میڈیا پر آنے والی نئی تصویر اور ویڈیو سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی فوج انسانیت سے نکل کر درندگی کی حدود میں داخل ہوگئی ہے۔ تصویر 13 ستمبر کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی فوجی ایک جاں بحق کشمیری کو زنجیروں سے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں۔جس کے بعد وادی میں کشیدگی مزید بڑھ گئی،احتجاجی مظاہرے اور ہرٹال کی گئی جس کے بعدمقبوضہ کشمیر میں مزید 6 جوانوں کوشہید کر دیا گیا۔ گزشتہ روز حکومت پاکستان کی جانب سے بھارتی مظالم کیخلاف جنرل اسمبلی میں آواز ا±ٹھانے کا بیان بھی آیا۔ وزارت خارجہ نے بھی کہا کہ بھارت کے پاس مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات کے سوا کوئی آپشن نہیں۔
مقبوضہ ریاست جموں و کشمیرمیں مجاہدین کیخلاف بھارتی فوج نے جو کریک ڈاﺅن اور آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس سے پڑھے لکھے اور عام کشمیری نوجوان خوفزدہ ہونے کے بجائے بڑی تعداد میں آئے روز مجاہدین کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ اس بات سے سیخ پا ہو کر بھارت فوج نے بے گناہ افراد کو گرفتار کرنا اور مارنے کی پالیسی اپنائی ہے جس کی مثال گزشتہ روز 6 جوانوں کی شہادت سے ملتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی قابض افواج نے اب شہیدوں کی نعشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے انہیں سڑکوں پر گھسیٹ کر لوگوں کو خوفزدہ کر رہی ہے جس پر پوری دنیا کی طرف سے سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ اب یہ حکومت پاکستان پر فرض ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ان بھارتی مظالم کو بے نقاب کرے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے کشمیر میں ان انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا سخت نوٹس لے۔ اب بھی وقت ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔ ماہ رواں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے، وزیراعظم پاکستان کواس میں شرکت کر کے مسئلہ کشمیرایک نئی توانا آواز کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے ا±ٹھانا چاہئے تاکہ عالمی برادری مظلوم کشمیریوں کو ان کاحق خودارادیت دینے کے لئے بھارت پر دباﺅ بڑھائے۔

توانائی بحران سے قومی معیشت کو سالانہ 5.8 ارب ڈالر کانقصان
عالمی بنک کی رسرچ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔اس وقت پاکستانی معیشت کو بجلی کے بحران کے باعث سالانہ 5.8 ارب ڈالر نقصان کا سامنا ہے جو مجمعوعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد کے مساوی ہے۔یہ رسرچ رپورٹ عالمی بینک کی ”الیکٹریفیکیشن اینڈ ہاو¿س ہولڈ ویلفیئر“ کے شائع کی ہے۔اس رپورٹ کا مقصد توانائی کی ترسیل اور تقسیم کے مسائل پر قابو پاکر ڈسٹری بیوشن کے نقصانات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور صارفین کے لیے توانائی کی قیمت اور ادائیگی کے مسائل کو بھی ختم کیا جا سکے گا۔مزید براں رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 97.5فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت دستیاب ہے جس میں 99.7 فیصد شہری جبکہ 95.6 فیصد دیہی آبادی شامل ہے۔ عالمی بینک کی تحقیق کے مطابق بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور اس کی تقسیم و ترسیل کے نقصانات پر قابو پا کر قومی معیشت کو سالانہ تقریبا 6 ارب ڈالر کے نقصانات سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں پچھلے چند برسوں میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافے کے باوجود بجلی چوری اور ترسیل کے نظام میں نقائص کی وجہ سے ہی یہ بحران برقرار ہے اور گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ایک بار پھر معمول بن چکی ہے۔اسی کے نتیجے میں مقامی صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ یہ رپورٹ یہ بھی واضح کر رہی ہے کہ بجلی صارفین نہ صرف ماہانہ استعمال شدہ بجلی کا بل جمع کرواتے ہیں بلکہ لائن لاسز کی مد میں بھی ا±نہیں حکومتی خزانے میں پیسے جمع کروانے پڑتے ہیں ، جو ان کے ساتھ کھلی نا انصافی ہے۔تقسیم اور لائن لاسز پر قابو پانے کیلئے توانائی کے شعبہ میں بنیادی اصلاحات کی جائیں تاکہ صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیساتھ ساتھ توانائی کی قیمت اور ادائیگی کے مسائل بھی ختم کیے جا سکیں۔