Buy website traffic cheap

عدم برداشت

وزیرخارجہ کے دورہ کابل سے پاک افغان تعلقات کا نیا دور شروع

وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں شاہ محمود قریشی افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے جہاںانہوں نے افغان صدر اور ہم منصب سے ملاقاتیں کی جب کہ اس دوران وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے۔ افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور افغانستان میں امن سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام باتوں پر مثبت انداز میں تفصیلاً بات چیت کی گئی جس میں دو طرفہ تجارتی امور، افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردا،ر بارڈر مینجمنٹ اور جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی بندش سمیت دیگر اہم امور پر بات کی گئی۔اس بات سے انکار ممکن نہیں پاکستان کے لیے بھی امن اتناہی ضروری ہے جتنا افغانستان کے لیے ہے۔ خطے کی ترقی اورخوشحالی افغان امن سے جڑی ہوئی ہے۔وزیر خارجہ کا کابل کا پہلا دورہ کرنا پاکستان کی افغانستان اور علاقائی امن کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور کامیاب دورے سے مستقبل میں امن مذاکرات اور باہمی تعلقات میں مزید پیش رفت ممکن ہے۔
پاک افغان تعلقات کے تناظر میں یہ امر کسی دلیل کا محتاج نہیں کہ جنوب مغربی ایشیا کی سلامتی و استحکام کے لیے دونوں برادر ہمسایہ ملک کے درمیان باہمی اعتماد کی بنیاد پر مضبوط تعلقات ناگزیر ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان تہذیبی ،ثقافتی ،مذہبی ،معاشرتی،سرحدی اور معاشی اشتراک ایسی حقیقت ہے جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار روابط سے خطے میں پائیدارا من ،معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کے امکانات روشن تر ہو سکتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ بعض تلخ حقائق کے باوجود پاکستان شروع دن سے افغانستان کیساتھ مضبوط تعلقات کے لیے کوشاں رہا ہے۔ سوویت یونین کے خلاف جدو جہد ،افغان مہاجرین کی نگہداشت ،کابل میں سیاسی استحکام اور افغان داخلی امن جیسے حساس ترین معاملات میں پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا ہے۔عالمی برادری کے باخبر حلقے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ،خطے کی سلامتی اور افغان امن عمل کے لیے پاکستان نے اپنی سلامتی وسالمیت تک کوداو¿ پر لگانے سے گریز نہیں کیا۔ پاکستان کی انتھک کوششوں اور پ±ر خلوص جدوجہد ہی کا نتیجہ ہے کہ علاقائی وعالمی امن کو لاحق خطرات بڑی حد تک کم ہو چکے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی وکٹری سپیچ میں خطاب کرتے ہوئے بھارت اور افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی خواہش کااظہار کیاتھا،انہوں نے یورپی یونین کی طرز پر افغانستان کے ساتھ کھلے بارڈر کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔ افغانستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے۔افغان عوام کو امن کی ضرورت ہے۔ پاکستان چاہتا ہے افغانستان میں امن ہو،افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں امن ہوگا۔پاکستان کے نئے وزیر اعظم کی پہلی تقریر سے ہی یہ واضح ہوگیا تھاکہ نئی حکومت کی خارجہ تعلقات کی پہلی ترجیح افغانستان میں قیام امن ہے۔امریکہ کو بھی اس کا ادراک ہو چکا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن کا قیام کسی طوربھی ممکن نہیں ہے، اس لئے ٹرمپ انتظامیہ اور پینٹاگون کو یقیناًاس کے لئے پاکستان کی نئی حکومت کی طرف دست دوستی دراز کیے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔اگر ایسا ہوتا ہے تو نئی حکومت کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی یہ پہلی فتح ہوگی جو خطے میں پائیدارامن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

کلثوم نواز کی نماز جنازہ میں سیاسی رہنماﺅں کی شرکت ایک اچھی روایت
پا کستان مسلم لیگ(ن) کے قا ئد اور سا بق وزیر اعظم میا ں نواز شر یف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز مر حو مہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی،معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ میں شریف فیملی ،مسلم لیگ (ن)کے قائدین و کارکنوں، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ق)، ایم کیو ایم پاکستان ،اے این پی ، جماعت اسلامی ،قومی وطن پارٹی ،سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ،چیئرمین سینیٹ سمیت غیر ملکی شخصیات نے شرکت کی۔ 1999 ءمیں چوہدری نثار ، شیخ رشید اور دیگرسیاسی رہنماﺅں نے کلثوم نواز کیساتھ چلنے سے انکار کیا تھا مگر کلثوم نواز ، تہمینہ دولتانہ مشرف کیخلاف بہت جرات و بہادری سے متحرک رہیں۔ پاکستان کی تمام عورتوں کےلئے وہ ایک آئیڈیل خاتون تھیں۔ نواز شریف کیساتھ مثالی تعلق کیساتھ ، خاندان اور سیاست میں لوگوں کوکلثوم نواز نے یکجا رکھا۔یقینی طور پرکلثوم نواز کی وفات پاکستان کی سیاست کا بڑا نقصان ہے۔ محترمہ کلثوم نواز کی نماز جنازہ میں کارکنان کی شرکت توقع سے زیادہ تھی ، دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کی شرکت سیاست کی اچھی روایت بن رہی ہے۔ مسلم لیگ( ن) پر تمام سیاسی جماعتوں کی تنقید کے برعکس کلثوم نواز کو خراج تحسین پیش کیاگیا،جو قابل ستائش روایت ہے۔