Buy website traffic cheap

میجر اسحاق شہید

وطن عزیز کے عظیم سپوت کیپٹن سلمان سرور شہید کو خیراج عقیدت

وطن عزیز کے عظیم سپوت کیپٹن سلمان سرور شہید کو خیراج عقیدت
محمد طاہر تبسم درانی
جس دھج سے وہ مقتل میں گیا
وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے
اس جان کی کوئی بات نہیں
پطرس شاہ بخاری لکھتے ہیں تمہید کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا لاہور کو دریافت ہوئے اب ایک عرصہ گذر چکا ہے اس لیے دلائل و براہین سے اس کے وجود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ،یہ کہنے کہ اب ضرورت نہیں ہے کہ۔۔۔کرے د ائیں سے بائیں گھمایئے۔۔۔حتیٰ کہ ہندوستان کا ملک آپ کے سامنے آکر ٹھہر ہو جائے۔۔۔۔پھر فلاں طوالبلد اور فلاں عرض بلدکے مقام انقطاع پر لاہور کا نام تلاش کیجیے۔ جہاں یہ نام کرے پر مرقوم ہو وہی لاہور کا محلے وقوع ہے۔ اس ساری تحقیقات کو مختصر مگر جامع الفاظ میں بزرگ یوں بیان کرتے ہیں لاہور۔۔۔لاہور ہی ہے۔۔۔اگر اس پتے (Address) آپ کو لاہور نہیں مل سکتا تو آپ کی تعلیم ناقص اور آپ کی ذہانت فاتر ہے۔
اب دو غلط فہمیاں البتہ رفع کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔لاہور پنجاب میں واقع ہے لیکن پنجاب اب پنچ آب نہیں رہا۔۔۔۔اس پانچ دریاؤں کی سر زمین میں اب صرف چاردریا بہتے ہین اور جو نصف دریا وہ تو اب بہنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلاح میں راوی ضعیف کہتے ہیں، ملنے کا پتہ یہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔شہر کے قریب دو پُل بنے ہیں ۔۔۔۔۔ان کے نیچے ریت میں دریا لیٹا رہتا ہے۔۔۔۔۔بہنے کا شغل عرصہ دراز سے بند ہے۔ اس لیے بھی بتانا مشکل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ شہر دریا کے دائیں کنارے واقع ہے یا۔۔۔۔بائیں کنارے پر۔۔۔۔لاہورتک پہنچنے کے لیے کئی رستے ہیں۔۔لیکن د و ان میں سے بہت زیادہ مشہور ہیں۔۔۔ایک پشاور کے راستے اور۔۔۔یو،پی کے راستے وارد ہوتا تے ہیں۔۔ اول الزکر کو اہلِ سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی یا غوری تخلص کرتے ہیں۔ مؤخر الزکراہلِ زبان کہلاتے ہیں یہ بھی تخلص کرتے ہیں۔اور اس میں طولیٰ رکھتے ہیں۔
لاہور صوبہ پنجاب کا دارلحکومت ہے اور پاکستان کا آبادی کے لحاظ دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس شہر کو یہ اہمیت بھی حاصل ہے کہ اسے پاکستان کا دل بھی کہا جاتا ہے، یہاں کے لوگ مخلص اور ملن سار ہیں، کھانے کا بہت شوق رکھتے ہیں اس لیے اس شہر میں بڑے بڑے رستوران بھی ہیں۔
یہاں پر زیادہ تر پنجابی زبان بولی جاتی ہے۔ اس شہر کو تاریخی عمارتوں کی وجہ سے بھی شہرت حاصل ہے ، شاہی قلعہ، شالامارباغ، بادشاہی مسجد، مقبرہ جہانگیر، اوربہت سے تاریخی عمارتین یہاں موجود ہیں۔سکھوں کی مقدس ترین جگہ بھی لاہور سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ اور وسطی پاکستان میں کاروباری مرکز بھی ہے۔ لاہور شہر میں تین مین سڑکیں قابل ذکر ہیں جن کا شمار لاہور کی مصروف ترین شاہرات میں ہوتا ہے۱۔مال روڈ یہ شہر کے درمیان میں سے گزرتی ہے جس پر بے شمار تاریخی عمارات واقع ہیں چڑیا گھر، جناح باغ، قائد اعظم لائبریری ، گورنر ہاؤس، پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس، ٹولینٹن مارکیٹ، انارکلی بازار، عجائب گھر اور ٹاؤں ہال کی عمارت ہے۔ اس کے بعد مصروف سڑک ملتان روڈ ہے جو لاہور سے ملتان جاتی ہے۔ اور تیسری مصروف ترین سٹرک فیروز پور روڈ ہے اس سڑک کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے، یہ لاری اڈا سے مینارپاکستان ، ضلع کچہری ، چوبرجی سے ہوتی ہوئی چونگی امر سدھو اور قصور کو لنک کرتے بھارت کے شہر فیرورز پور تک جاتی ہے لیکن قیام پاکستان کے بعد یہ سڑک پاک بھارت بارڈر تک محدود کر دی گئی۔
اس شہر کو جہاں زندہ دلوں کا شہر کہا جاتا ہے تاریخ گواہ ہے جب دشمن نے 6 ستمبر 1965 ء کو رات کے اندھیرے میں بذدلوں کی طرح حملہ کیا تو اُن کو منہ کی کھانا پڑی۔ یہ بات بھی تاریخ کے اورق میں سنہری حروف میں لکھی جائے گی کہ لاہوریوں نے جرأت و بہادری کے ساتھ پاک فوج کا ساتھ دیا ۔لوگوں نے بذات خود فوجی جوانوں کو ناشتے دیے اور جب دشمن کے لڑاکا جہاز ہوا میں بلند ہوتے تھے تو شاہینوں کے شہر سرگودھا سے منٹوں میں اُن کی درگت لگانے شاہین پہنچ جاتے اور لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر یہ نظارہ براہ راست دیکھتے ۔ اسی شہر میں ایک گھرانہ ایسا بھی ہے جس کا اکلوتا بیٹا پاکستان کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر جرأت بہادری کی ایک عظیم داستان رقم کر گیا۔ جَگ بیتی تو سب جانتے ہیں ہَڈ بیتی مشکل کام ہے ۔ جب اُن کے والد محترم پولیس کمانڈرجناب امتیاز سرور کا انٹرویو ایک نجی ٹیلی ویثرن پر دیکھ رہا تھا یقین مانیں آنسو ؤں کی نہ رکنے والی جھڑی جاری تھی ایک باپ ہونے کے ناطے اس درد کو سمجھا جا سکتا ہے جس کی اکلوتی اولا د ہو ، جوانی میں ہی صرف 27 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کر جائے ، شہادت کی خوشی اپنی جگہ مگر جدائی کا دکھ کبھی بھی نہیں بھولتا ، وہ باپ جو اکثر بیٹے کو کہا کرتا تھا جب ریٹائر ہو کر گھر واپس آؤں گا تو خوب باپ بیٹا باتیں کیا کریں گے، اپنے شب و روز مل کر گذاریں گے ، لیکن قدرت کو کیا منظور کوئی نہیں جانتا ۔شہادت کی خبر ہمارے لیے یا میڈیا کے لیے صرف ایک خبر یا کہانی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن باپ کے غم کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
کیپٹن سلمان سرور ایک ہونہار طالب علم تھے زمانہ طالب علمی سے ہی اُن کو پاک فوج میں جانے کا شوق تھا ، اُن کے والدین کی خواہش تھی کہ اُن کا ہونہار بیٹاڈاکٹر بنے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایف ایس سی اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کی تو باپ نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ’’ بیٹے آپ کے بہت اچھے نمبر آئے ہیں آپ کو میڈیکل میں داخلہ لے دیتا ہوں ایک اچھا ڈاکٹر بن کر قوم کی خدمت کرنا‘‘ لیکن بیٹا بضد تھا کہ اسے پاک فوج میں ہی جانا ہے لہذا والدین نے اپنے اکلوتے بیٹے کو پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے پر اپنی راضی مندی کا اظہار کیا۔اور اس طرح کیپٹن سلمان سرور پاک فوج میں شامل ہوئے ۔
سلمان سرور نے 115 لانگ کور س کے ذریعے 42لانسرز آرمڈ یونٹ بہاولپور سے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ سلمان سرور ایک بہادر اور فرض شناس آفیسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے گھوما کہ پتہ ہی نہ و چلا کہ کل آنے والا ایک بہادر نوجوان 115لانگ کورس کے ذریعے کیپٹن جیسے بڑے رینک پر تعینات ہو گا۔ اسلحہ چلانے اور ان کے بارے معلومات پر کیپٹن سلمان سرور کے ساتھی،دوست،ماتحت اور آفیسر بھی اِن کے گرویدہ تھے۔ اپنی بہادری و شجاعت کی وجہ سے شہر ت پانے والے کیپٹن سلمان سرور نے خود کو خیبر ایجنسی میں چل رہے انہوں نے خود کو آپریشن المیزان کے لیے پیش کر دیا۔ اُن کی بہادری کی وجہ سے ان کو ٹیکسلہ کا اے ڈی سی تعینات کیا گیا۔ ان کو اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس اور جی) میں شامل ہونے کا اعزاز ملا۔
کیپٹن سرور کو جو بھی مشن دیا جاتا ہو بخوبی انجام دیتے اور سرخرو ہوتے ۔اُن کے اندر جذبہ حب الوطنی بھرا ہوا تھا۔انہوں نے ہر مشن میں یہ ثابت کیا کہ وہ بہادر اور دلیر انسان ہیں جو کسی بھی مشکل کا آسانی سے سامنا کرنا اور اس کا حل جانتے ہیں۔انگور اڈا جو کہ جنوبی وزیرستان خیبر پختون خواہ کا ایک علاقہ ہے اس چیک پوسٹ پر کیپٹن سرور اپنے تین ساتھیوں سمیت موجود تھے کہ دہشتگردوں نے حملہ کردیا۔ جس کے نتیجے میں کیپٹن سرور سلمان کو تین گولیاں سینے پر لگیں۔ وہ زخمی حالت میں تھے لیکن اِن کے نزدیک اپنے ساتھیوں کی جان بچانا زیادہ مقدم و محترم تھا انہیں اپنی پرواہ نہ تھی وہ 90منٹس تک زخمی ،سفاک درندوں کے سامنے نہ صرف سینہ سپر رہے بلکہ اپنے زخمی ساتھیوں کی مدد بھی کرتے رہے پھر ا ن کو ہسپتال پہنچایا گیا تا کہ ان کو میڈیکل ٹریٹمنٹ دیا جائے ، آپریشن تھیٹر میں جاتے اُن کے چہرے پر ایک کامیاب اور پُر سکون مسکراہٹ تھی۔وہ مسکراہٹ کیوں نہ ہوتی وہ جان چکا تھا کہ میں اپنے مشن میں سُرخُرو ہو چکا ہوں۔ انہوں نے اپنے انگھوٹھے کو بلند کیا اور وکٹری کا نشان بنایا۔ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انہوں نے اپنی جان جانِ آفرین کے ہوالے کر دی۔ 14مئی 2013ء کو وطن عزیز کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر نے والے اس جوان کی عظیم قربانی کوقوم کبھی فراموش نہیں کر سکتی پاک فوج کے ان عظیم المرتبہ سپوتوں کی بدولت ملک پاکستان کی بقا ء اور عزت قائم ہے ۔ ہم سلام پیش کرتے ہیں اُن والدین کو جن کے لال ملک کی حرمت پر مر مٹتے ہیں لیکن دشمن کے ناپاک عزائم کو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیتے ۔ اللہ کریم کیپٹن سلمان سرور کی اس قربانی کو اپنی بارگاہ مقدسہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ آمین
پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔