Buy website traffic cheap


وہ ایک سجدہ

وہ ایک سجدہ
نذر حافی
سجدہ عبادت کی معراج ہے، سجدہ عاجزی و انکساری کا اظہار ہے، دینِ اسلام میں ،سجدہ کرنے کے لئے انسان اپنے سات اعضا کو خضوع و خشوع کے ساتھ زمین پر رکھ دیتا ہے۔ نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے کئے جاتے ہیں، کچھ سجدے ایسے ہیں جو انسان کے ساتھ مخصوص ہیں اور انسان اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل کے لئے ارادی طور پر انہیں انجام دیتا ہے، جب کہ کچھ سجدے ایسے ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھ پاتے لیکن وہ ارض و سما میں ارادی و غیر ارادی طور پر جاری و ساری ہیں جیسا کہ ارشاد پروردگار ہے:

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ :جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ [1]

ہم چونکہ ظاہر بین لوگ ہیں اس لئے ہماری زیادہ تر توجہ انہی سجدوں پر مرکوز رہتی ہے جو کہیں نہ کہیں دکھائی دیں۔حالانکہ عاجزی و انکساری کے ساتھ کسی کے سامنے سرتسلیم خم کردینا بھی ایک طرح کا سجدہ ہی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے عمران خان کے ایک سجدے پر بہت لے دے جاری ہے، بہت سارے احباب نے قلم کو کمان سے نکالا اور عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا، اسی طرح بہت سارے لوگوں نے عمران خان کا دفاع بھی کیا، دوسری طرف خود عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے وہ معترضہ سجدہ کیا ہی نہیں جس پر شور مچایا جا رہا ہے۔

البتہ اس سارے جھگڑے میں وہ ایک سجدہ پسِ پردہ چلا گیا جو ان دنوں میں ہماری پوری قومی قیادت اور سرکاری اداروں نے انجام دیا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہماری کبھی نہ بکنے والی اور کبھی نہ جھکنے والی اسٹیبلشمنٹ دہشت گردوں کے سامنے سجدہ ریز ہو چکی ہے اور دہشت گردوں کے نہ صرف یہ کے نام فورتھ شیڈول سے نکال دئیے گئے ہیں بلکہ الیکشن میں ان کے حصہ لینے کے لئے کاغذات نامزدگی بھی قبول کر لئے گئے ہیں۔

اب کیاکرے وہ عام پاکستانی جو کبھی سرکاری دہشت گردی اور کبھی سول دہشت گردی کا شکار ہوتا ہے، جسے چوراہوں میں بم دھماکوں سے اڑا دیا جاتا ہے، جسے گاڑیوں سے اتار کر قتل کردیا جاتا ہے، جس کا اغوا برای تاوان کیا جاتا ہے اور جسے ائیرپورٹ پر تھپڑوں اور مکوں سے نوازا جاتا ہے۔

یہ عام پاکستانی بھی عجیب مخلوق ہے ، اسے عمران خان کا ننگے پاوں عمرہ تو نظر آتا ہے ، اسے کسی دربار پر عمران خان کا سجدہ بھی نظر آجاتا ہے لیکن اسے اگر نظر نہیں آتا تو وہ سجدہ نظر نہیں آتا جو اس ملک کے سرکاری ادارے دہشت گردوں کے آگے کر چکے ہیں۔

آج لوگوں کو یہ بتایا جارہاہے کہ دہشت گردوں کی دو اقسام ہیں گُڈ دہشت گرد اور بیڈ دہشت گرد یعنی شیطان کی دو قسمیں ہیں، اچھا شیطان اور برا شیطان۔ پس جو اچھا شیطان ہے اسے سجدہ کرنے سے نعوذ باللہ ایاک نعبد و ایاک نستعین پر کو ئی اثر نہیں پڑتا۔

شیطانی قوتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوکر ہمارے مقتدر اداروں نے جہاں اپنی کمزوری کا اعتراف کیا ہے وہیں ملک کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

موجودہ صورتحال سے واضح ہو رہا ہے کہ مستقبل میں جو بھی حکومت بنے گی وہ کوئی مضبوط اور پائیدار حکومت نہیں ہوگی چونکہ اس کی چولیں ہلانے کے لئے ملک دشمن قوتوں کو قانونی و سیاسی سرٹیفکیٹ دے دیا گیا ہے۔ پس انتخابات کے بعد کا دورانیہ احتجاجات اور فسادات کا ہوگا۔ ظاہر ہے ہم جس طرح کے لوگوں کو میدان سیاست میں لائیں گے اسی طرح کا ماحول بھی بنے گا۔ ایک مضبوط قومی حکومت دہشت گردوں کے نرغے میں کبھی نہیں بن سکتی۔

اس سے اس بات کا بھی ثبوت ملتا ہے کہ ہمارے اداروں کی کلیدی پوسٹوں پر ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو دہشت گردوں کی سر پرستی کر رہے ہیں۔اگر عام عوام ، دانشمندوں اور میڈیا نے اس خطرے کو آج محسوس نہ کیا تو آنے والے وقت میں بحیثیت قوم ہم سب کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

ابھی بھی وقت ہے کہ ہم بطور عوام سرکاری اداروں کے اس رویے کے خلاف شدید احتجاج کریں اور کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کو قومی سیاست میں داخل ہونے سے روکیں۔

دہشت گردوں پر سرکاری اداروں کی نوازشات دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں ہمارے لئے ایک کمزور و ناتوان قومی حکومت کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔اب یہ ہم سب پر موقوف ہے کہ ہم خاموشی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اسے ہونے دیں یا اس کے خلاف اپنے حصے کا قومی کرادر ادا کریں۔

تعجب ہے ان آنکھوں پر جنہیں وہ ایک سجدہ نظر نہیں آرہا جس پر ہمارے قومی مستقبل کا انحصار ہے۔