Buy website traffic cheap

الیکشن مہم

ٖکیا آپ ووٹ کاسٹ کرنے لگے ہیں ؟

ٖکیا آپ ووٹ کاسٹ کرنے لگے ہیں ؟؟؟ ذرا رکیے۔
رشید احمد نعیم،پتوکی
ایک شخص جنگل کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا۔ سانپ نے اس سے مدد کی اپیل کی تو اس نے ایک لکڑی کی مدد سے سانپ کو وہاں سے نکالا۔ باہر آتے ہی سانپ نے کہا کہ’’ میں تمہیں ڈسوں گا‘‘۔ اس شخص نے کہا کہ’’ میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو؟؟؟‘‘۔َ سانپ نے کہا کہ’’ ہاں نیکی کا جواب بدی ہی ہے‘‘۔اس آدمی نے کہا کہ’’ چلو کسی سے فیصلہ کرالیتے ہیں‘‘۔چلتے چلتے ایک گائے کے پاس پہنچے اور اس کو سارا واقعہ بیان کرکے فیصلہ پوچھا تو اس نے کہا کہ’’ واقعی نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب میں جوان تھی اور دودھ دیتی تھی تو میرا مالک میرا خیال رکھتا تھا اور چارہ پانی وقت پہ دیتا تھا لیکن اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو اس نے بھی خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے‘‘۔یہ سن کرسانپ نے کہا کہ’’ اب تو میں ڈسوں گا ‘‘اس آدمی نے کہا کہ’’ ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں ‘‘۔ سانپ مان گیا اور انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا۔ گدھے نے بھی یہی کہا کہ’’ نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب تک میرے اندر دم تھا میں اپنے مالک کے کام آتا رہا جونہی میں بوڑھا ہوا اس نے مجھے بھگا دیا‘‘۔سانپ اس شخص کو ڈسنے ہی لگا تھا کہ اس نے منت کرکے کہاکہ’’ ایک آخری موقع اور دو ‘‘، سانپ کے حق میں دو فیصلے ہوچکے تھے اس لیے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا ، اب کی بار وہ دونوں ایک بندر کے پاس گئے اور اسے سارا واقعہ سناکرکہا کہ فیصلہ کرو۔اس نے آدمی سے کہا کہ’’ مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو۔سانپ کو اندر پھینکو اور پھر میرے سامنے باہر نکالو۔ اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا‘‘۔وہ تینوں واپس اسی جگہ گئے۔ آدمی نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا کہ بندر نے منع کردیا اور کہا کہ’’ اس کے ساتھ نیکی مت کرو ، یہ نیکی کے قابل ہی نہیں‘‘۔خدا کی قسم وہ بندر پاکستانی عوام سے زیادہ عقل مند تھا ، پاکستانیوں کو بار بار ایک ہی طرح کے سانپ مختلف ناموں اور طریقوں سے ڈستے ہیں لیکن ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ سانپ ہیں ان کے ساتھ نیکی کرنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے۔۔۔!!!پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ایک پاکستانی سیاستدان دو یا دو سے زائد حلقوں سے بیک وقت الیکشن لڑ سکتا ہے، مگر ایک پاکستانی شہری دو حلقوں میں ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ایک شخص جو جیل میں ہے ووٹ نہیں دے سکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان جیل میں ہونے کے باوجود بھی الیکشن لڑ سکتا ہے۔ایک شخص جو کبھی جیل گیا ہوکبھی سرکاری ملازمت نہیں حاصل کرسکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان کتنی بار بھی جیل جاچکا ہو، صدر، وزیراعظم، ایم پی اے، ایم این اے یا کوئی بھی عہدہ حاصل کرسکتا ہے۔ بینک میں ایک معمولی ملازمت کے لیئے آپ کاگریجویٹ ہونا لازمی ہے مگر ایک پاکستانی سیاستدان فنانس منسٹر بن سکتاہے چاہے وہ انگوٹھا چھاپ ہی کیوں نہ ہو؟۔فوج میں ایک عام سپاہی کی بھرتی کے لیئے دس کلو میٹر کی دوڑ لگانے کے ساتھ ساتھ جسمانی اور دماغی طور پر چست درست اور تندرست ہونا بھی ضروری ہے البتہ ایک پاکستانی سیاستدان اگرچہ ان پڑھ، عقل سے پیدل، لاپرواہ، پاگل، لنگڑا یا لولا ہی کیوں نہ ہووزیراعظم یا وزیر دفاع بن کر آرمی، نیوی اورایئر فورس کے سربراہان کا’’ باس‘‘ بن سکتا ہے۔اگر کسی سیاستدان کے پورے خاندان میں کوئی کبھی اسکول گیا ہی نہ ہوو تب بھی وطن عزیز میں ایسا کوئی قانون نہیں جو اسے وزیر تعلیم بننے سے روک سکے اورایک پاکستانی سیاستدان پر اگرچہ ہزاروں مقدمات عدالتوں میں اس کے خلاف زیر التوا ہوں وہ تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا وزیر داخلہ بن کر سربراہ بن سکتا ہے ایسے حالات میں کسی خیر کی توقع رکھنا کسی دیوانے کے خواب دیکھنے سے کم نہیں