Buy website traffic cheap


ٹیکس لینے والوں کی’’طاقت‘‘ اور ووٹرز کی عزت

اشفاق رحمانی
ٹیکس لینے والوں کی’’طاقت‘‘ اور ووٹرز کی عزت
نگران حکومتوں نے انتخابات میں شفافیت ’’کی خاطر‘‘ بیوروکریسی میں وسیع پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی ہے،یہ ایک’’روایت‘‘ ہے،مبینہ طور پر ’’دھاندلی‘‘ کا سو فیصد یقین ہونے کی جو ’’علامات‘‘ ملتی ہیں اس کو مد نظر رکھ کر ایسا کیا جاتا ہے کہ الیکشن ہر صورت’’شفاف‘ممکن ہو سکیں،حالیہ دنوں میں تین صوبوں پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں جبکہ صوبہ خیبر پی کے میں بھی تقرر و تبادلہ کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔صرفپنجاب میں 34 سیکرٹریوں کے تبادلے کئے گئے ہیں جبکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے، سیاسی حلقوں کا الزام ہے کہ یہ سب ’’شہباز نواز‘‘ تھے اس لئے ان کو’’ادھر ادھر‘‘ کرنا ضروری تھا۔ 30 پولیس اور انتظامی افسران کی خدمات وفاق کے سپرد کی گئی ہیں اور 35 ڈپٹی کمشنر‘ 77 ایڈیشنل آئی جیز،ایس ایس پیز، ایس پی حضرات اور ایڈیشنل ایس پیز پولیس کو تبدیل کیا گیا ہے۔ ان میں سے 18 پولیس افسران کی خدمات وفاق کے سپرد کی جارہی ہیں۔ اسی طرح سندھ میں مبینہ طور پر ’’زرداری نواز‘‘ 14 سیکرٹری، دو ایڈیشنل آئی جی،6 کمشنر،33 ڈپٹی کمشنر، 14 ڈی آئی جی اور متعدد ایس پی حضرات تبدیل کئے گئے ہیں جبکہ بلوچستان میں تین سیکرٹری‘ چھ کمشنرز اور 33 ڈپٹی کمشنرز سمیت درجنوں سینئر افسران کے تبادلے کئے گئے ہیں۔الیکشن سے پہلے ہونے والے ملک گیر تبادلوں جو کہ’’روایت‘‘ بھی ہے کی ایک لمبی فہرست ہے تاہم اس پر مزید بات کرنے سے پہلے’’سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے تعین اور اضافی ٹیکس ‘‘ پر ایکشن لیا ہے پر بات ہوجائے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سابقہ حکومت کے پالیسی معاملات کے تحت ہی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر نظرثانی اور اضافی ٹیکس عائد کئے جاتے رہے ہیں جو موجودہ نگران سیٹ اپ میں بھی برقرار ہیں۔ نگران حکومت نے اپنے اقتدار کا پہلا ایک ہفتہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کسی قسم کا ردوبدل کئے بغیر گزار لیا،ایک روز قبل عوام پر پٹرول بم گرا کر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں پانچ روپے فی لٹر تک اضافہ کردیا گیا چنانچہ فاضل عدالت کو نگران سیٹ اپ کے اس معاملہ کا بھی نوٹس لینا چاہیے کہ اس نے روزمرہ کے معاملات نمٹانے کی ذمہ داری سے باہر نکل کر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ردوبدل کے پالیسی معاملہ پر کیوں فیصلہ کیا جبکہ اسکی طرف سے عائد کئے گئے پٹرولیم مصنوعات کے نئے نرخوں سے ملک میں عملاً مہنگائی کا سونامی آگیا ہے۔ اس بنیاد پر فاضل عدالت نگران حکومت کے اختیارات سے متجاوز اقدام کو کالعدم قرار دے سکتی ہے تاہم اسے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے حوالے سے کوئی ایسا اقدام اٹھانے کا نہیں کہا جا سکتا جو حکومتی پالیسی معاملہ کے زمرے میں آتا ہو۔ سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے تعین اور اضافی ٹیکس سے متعلق کیس میں سیکرٹری پٹرولیم، سیکرٹری وزارت توانائی اور چیئرمین ایف بی آر کو عدالت میں طلب کرلیا۔ فاضل عدالت نے پٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ، چھ ماہ کے آکشنز اور قیمتوں میں تعین کا ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے۔ ’’ریمارکس‘‘ اعلیٰ عدلیہ کا کہنا تھا کہ’’ ٹیکس لگا کر لوگوں کو پاگل کردیا گیا ہے‘‘ کس بات کا ٹیکس ہے، سب کو حساب دینا ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کا عمل مشکوک لگتا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس طریقہ کار کے تحت فی لٹر نرخوں کا تعین کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ بنکوں سے قرض لیکر معاملات چلا رہے ہیں۔ اس پر ڈپٹی ایم ڈی یعقوب ستار نے انکشاف کیا کہ بنکوں سے 94ارب روپے قرضہ لیا گیا ہے۔ ہر سال سات ارب روپے بنک سود کی مد میں جاتے ہیں۔سیاسی نقطہ نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے اور ان پر عائد مختلف ٹیکسوں کا نوٹس لینا اپنی جگہ تاہم اس امر کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ نگران حکومت کا مینڈیٹ صرف روزمرہ کے معاملات نمٹانے اور آزادانہ شفاف انتخابات کے انتظامات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کرنے تک محدود ہے۔ اسے کسی پالیسی معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے کا قطعاً اختیار نہیں۔ نگران سیٹ اپ کو پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے تعین کا معاملہ بہرصورت منتخب سیٹ اپ کے قیام تک موخر رکھنا چاہیے اور اسی طرح پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کرنا بھی منتخب حکومت ہی کا کام ہے۔ اس حوالے سے نگران حکومت کی جانب سے کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ یقیناً اسکے دائرہ اختیار سے باہر ہوگا ۔جہاں تک ’’تبادلوں اور ادھر ادھر‘‘ کرنے کی پالیسی ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان کا ذہن کسی ایک پارٹی کو انتخابات میں فائدہ پہنچانے کا بنا ہوگا تو وہ اپنے ذہن کے مطابق کسی بھی صوبے میں بیٹھ کر وہاں متعلقہ پارٹی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرح بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ سے تو انتخابات کی شفافیت والا مقصد تو کسی صورت پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس تناظر میں نگران حکومتوں کے اس اقدام کو بیوروکریسی میں افراتفری پیدا کرنے اور مجموعی طور پر اس پر بداعتمادی کا اظہار کرنے سے ہی تعبیر کیا جائیگا