Buy website traffic cheap


پارلیMinute

پارلیMinute ( طنزومزاح) تحریر؛مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر
ایک روز سوکس کلاس میں’’پارلیمنٹ‘‘ پر لیکچر دے رہا تھاکہ پارلیمنٹ کے دو ہاؤس ہوتے ہیں۔پہلا ہاؤس بڑا یعنی upper house جبکہ دوسرا ہاؤس چھوٹا یعنی lower houseکہلاتا ہے۔پہلے کو سینٹ( جسے کافی عرصہ میں بچوں کی ناک سے بہنے والا سینٹ ہی خیال کرتا رہا جس کا بعد میں پتہ چلا کہ اسے سینٹ نہیں بلکہ سینڈھ کہتے ہیں)اور دوسرے کو قومی اسمبلی کہا جاتا ہے،کہ جہاں پوری قوم کے نمائندے قوم کو اسمبل کرتے ہیں بالکل ایسے جیسے چائنہ کے سپیئر پارٹس اسمبل کر کے کار بنائی جاتی ہے۔پیچھے بیٹھے ایک نالا ئق بلکہ سب سے نالائق بچے نے ہاتھ اٹھا یا تو بڑی خوشی ہوئی کہ اس کی بدھی بھی کام کرنے لگی ہے۔پوچھا جی بیٹا کیا پوچھنا ہے۔بچہ نے بڑی ہی معصومیت سے سوال کیا کہ سر جس ملک میں غریب کے رہنے کے لئے ایک گھر میسر نہیں یہ ارکان دو دو ہاؤسز میں کیسے رہ رہے ہیں۔ان سے ایک ہاؤس لے کر غربا میں تقسیم کر دیا جائے تو کیا بہتر نہیں ہو گا۔بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔نہیں بیٹا ہاؤس سے مراد ایوان ہوتا ہے ،یعنی وہ عمارت جس میں سب ممبران بیٹھ کر ملک کے لئے قانون سازی کرتے ہیں جس سے ملک چلتا ہے۔جواب در جواب ،مگر سر آپ تو اکثر کہتے ہیں کہ ملک اللہ کے سہارے چل رہا ہے،یہاں کوئی قانون نام کی کوئی چیز نہیں اور یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔اور میں نے تو سر نرالا کی مٹھائی ہی سنی ہے،یہ درمیان میں قانون،آدم،اور یہ سب کہاں سے آ جاتے ہیں۔نہ سمجھنے کی اداکاری کرتے ہوئے اسے بیٹھنے کا کہا ،مگر وہ بھی ہمارے سیاستدانوں کی طرح کافی ’’ڈھیٹ‘‘ واقع ہوا۔پھر سے بول پڑا سر اگر ہم عوام نہیں بولیں گے تو یہ ممبران تو بولیں گے ہی۔(پھر سے سچی بات کر گیا)،ویسے سر اتنی تو عورتیں نہیں بولتیں جتنا کہ یہ ممبران بولتے ہیں۔کہہ تو ٹھیک رہا مگر جیسے پارلیمنٹ میں غریب عوام کی کوئی وقعت نہیں ایسے ہی نالائق طالبِ علم کی کلاس میں کوئی قدر نہیں سمجھی جاتی۔تاہم ممبران کو تو اس لئے استثنا حاصل ہے کہ ’’جنگ،محبت اور اسمبلی‘‘ میں سب جائز ہوتا ہے حالانکہ عہدِ حاضر میں جنگ،محبت اور اسمبلی میں سب’’ناجائز‘‘ ہی ہوتا ہے۔اگر جائز ہوتا تو زیادہ تر ارکان ننگے پیٹ اسمبلی میں کیوں جاتے۔ویسے کیا زمانہ آ گیا ہے کہ جائز اولاد والے پیٹ چھپاتے پھر رہے ہیں جبکہ ناجائز والے کھلے پیٹ اسمبلیو ں میں گھوم رہے ہیں۔ایک بار مجھے اسمبلی کی کارروائی براہِ راست دیکھنے کا اتفاق ہوا واقعی سب کارروائیاں ڈال رہے تھے۔یقین جانئے جیسے میرے محلہ کی ماسی شیداں کمیٹی ڈالنے میں ماہر ہے ایسے ہی ارکانِ اسمبلی کارروائی ڈالنے میں مشاق ہیں۔جو بھی حکومتی ممبر تقریر کے لئے اٹھتا یہ بات ضرور کہتا کہ پارلیمنٹ ایک مقدس ایوان ہے اور جمہوریت پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے دیں گے،اسی لئے کہ پارلیمنٹ کو کسی کی نظر نہ لگ جائے’’نظر بٹو‘‘ کے طور پہ ارکان ایک دوسرے کو گالیاں دے دے کر جمہوریت کے ساتھ اجتماعی زیادتی فرما رہے تھے۔ویسے گالی دینا ان کا وطیرہ نہیں پیشہ بنتا جا رہا ہے۔خیر بات ہو رہی تھی کہ اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کا موقع ملا ،مجھے لگا کہ جیسے سب کے سب کسی موقع کی تلاش میں ہیں۔کارروائی کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جسے سب نے ادب و احترام سے سنا ،اس کے بعد نہ وہاں ادب دکھائی دیا اور نہ ہی احترام کو جگہ ملی۔اور نہ ہی ہمیں کچھ سنائی دیا۔بھئی کیسے سنائی دیتا وہ سب تو ایک دوسرے کی نہیں سن رہے تھے۔یقین جانئے جو زٹل گوئی،لغویات،یاوہ گوئی،بد گوئی اور لطیفہ گوئی سننے میں آئی کسی بھی باحیا کے سنتے ہی اس کے کان ’’سن‘‘ ہو جائیں اور میرے ساتھ ایسا ہی ہوا۔مگر حوصلہ ہے ان کوگوں کا پھر بھی کہتے ہیں پارلیمنٹ ایک مقدس ایوان ہے،اس کی طرف کسی کو میلی نظر سے نہیں دیکھنے دیں گے کیونکہ یہ ہمارا حق ہے۔یار اگر یہی تقدس ہے تو ہم لنڈورے ہی بھلے۔جتنا تقدس ممبران پارلیمنٹ کا رکھتے ہیں اس سے کہیں زیاہ تو ہندو گائے ماتا کا رکھتے ہیں،ویسے دونوں میں ایک قدر مشترک ہے،ہندو گائے کا پیشاب تک پی جاتے ہیں جبکہ یہ قومِ یاجوج وماجوج پارلیمنٹ میں بیٹھ کر پاکستان کو ہی ’’کھا ‘‘’’پی‘‘ رہے ہیں اور ڈکار تک نہیں مارتے۔کمال کے ہاضمے پائے ہیں ان لوگوں نے۔۔۔۔کارروائی ڈالنے ،سننے اور اسمبلی کا اجلاس چلانے والے کو سپیکر کہتے ہیں۔سپیکر ، قومی اسمبلی کا وہ بڈاوا یا گوتم بدھ ہوتا ہے جس کا کام محض آلتی پالتی مار کر بیٹھے رہنا یا سنتے رہنا ہوتا ہے۔ہاں کبھی کبھار مائیک میں اتنا بول کر خاموش ہو جاتا ہے کہ ’’آپ تشریف رکھیں‘‘ یا آپ کا مائیک بند کر دیا جائے گا‘‘اور پھر خود اپنا مائیک،منہ اور آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ویسے میری سمجھ یہ بات نہیں آ سکی کہ سپیکر کے پاس کسی قسم کا کوئی سپیکر نہیں ہوتا پھر بھی اسے سپیکر کیوں کہتے ہیں۔۔۔اچانک سے میں نے دیکھا کہ جیسے گوشت کا ایک پہاڑ اسمبلی کے صدر دروازے سے داخل ہو رہا ہو۔شکل ذرا واضح ہوئی تو پتہ چلا کہ مولانا فضل الرحمن ہیں۔واقعی گوشت پوست سے تو پتہ چل رہا تھا کہ رحمن نے کافی فضل فرما رکھا ہے۔ہال میں داخل ہوتے ہی ہر طرف سے ایک شور اٹھا کہ ’’ڈیزل،ڈیزل‘‘۔ شور اس قدر تیز تھا کہ مجھے بھی لگا جیسے ڈیزل کی بو آ رہی ہو۔مولانا اپنی نششت پر یوں براجماں ہو گئے کہ اندازہ لگانا مشکل ہو گیا کہ تکلیف میں کون ہے،کرسی یا مولانا۔ویسے کرسی‘‘کشمیر کمیٹی اور ’’حکومت‘‘ کے ہوتے ہوئے مولانا کو کبھی تکلیف نہیں ہوتی۔ممبران میں سے دو تین نے اپنی تقریر میں کہا کہ الیکشن ٹھیک سے نہیں ہوتے،جب تک الیکشن ٹھیک نہیں ہونگے جمہوریت کبھی پنپ نہیں سکے گی۔الہی اگر الیکشن کسی بیماری میں مبتلا ہیں تو سب سیاستدان مل کر اس کا مستقل علاج کیوں نہیں کروا لیتے۔اسی اثنا میں اپوزیشن کی کسی بات سے ناراض ہو کر خواجہ سعد رفیق کرسی سے یوں اٹھے جیسے کرسی پر کسی نے شرارتاً کیل رکھ دئے ہوں۔ان کی حکومتی وفاداری دیکھ کر اندازہ ہو ا کہ ضرب المثل ٹھیک ہی ہے کہ ’’خواجہ دا گواہ ڈڈًو‘‘بات جب گالی گلوچ سے آگے نکل کر دست درازی تک جا پہنچی تو سپیکر نے حسبِ عادت اپنی مداخلت اور مدافعت میں اتنا کہا کہ سب لوگ تشریف رکھیں وگرنہ آپ کے مائیک بند کر دئے جائیں گے۔اور پھر اپنا مائیک،آنکھیں اور منہ بند کر کے لمبی تان کے سو گیا۔واہ رے پاکستان کیا قسمت پائی ہے اگر مقدس ایوان کا یہ حال ہے تو اخلاق سے گرے ہوئے اداروں کا کیا حال ہوگا۔ویسے غریب ممالک میں اتنی تیزی سے کرنسی نہیں گرتی جتنی تیزی سے اخلاق گرتا ہے۔میرے ملک کا دستور بھی عجیب ہے کہ جن لوگوں کو سرحدوں پہ ہونا چاہئے وہ حکومت میں ہوتے ہیں،جنہیں حکومت میں بیٹھنا چاہئے وہ جیلوں میں قید ہوتے ہیں اور جنہیں جیلوں میں ہونا چاہئے وہ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے ہیںیا مقدس ایوان کو گندا کر رہے ہوتے ہیں۔کچھ ارکان ایسے بھی نظر آئے جو ہر حکومت میں نظر آتے ہیں۔یہ صاحبان اتنا اپنے گھر نہیں رہتے جتنا کہ اسمبلی میں رہتے ہیں،ملکی حالات کیسے بھی ہوں یہ اپنے ہی حال اور اسمبلی ہال میں مست رہتے ہیں۔کچھ تو حلیہ سے دکھتے بھی ہیں۔چونکہ ایسے ارکان اسمبلی کو بھی گھر ہی خیال کرتے ہیں اس لئے وہ کرسی پر بھی ایسے ہی براجمان ہوتے ہیں جیسے گھر کے صحن میں چارپائی لگائے لیٹے ہوں۔جہاں ہر کسی کو لمبی لمبی پھینکتے ہو ئے سنا وہاں ایک ممبر کو لمبی تان کر سوتے ہوئے بھی دیکھا ۔کارروائی شروع ہوتے ہی اس نے ایسی آنکھ لگائی جو اختتام پر تالیوں کی گونج سے کھلی۔موصوف نے ایک لمبی جماہی لی دائیں بائیں دیکھا اور گھر کی راہ لی۔بعد ازاں مجھ پر یہ راز افشاں ہوا کہ وہ میرے حلقہ کا ہی ایم این اے تھا۔ویسے جو حالات میرے ملک کے چل رہے ہیں ان سب کا سونا ہی بہتر ہے،وگرنہ بھوکا ’’شیر‘‘ اور جاگا ہوا یم این اے نقصان کا ہی باعث ہوتے ہیں۔اللہ میرے ملک کو ان دونوں عذابوں سے بچائے(آمین)