Buy website traffic cheap


پانی کی کمی،قرضوں میں اضافہ،کھرب پتی میاں منا

چوتھا طبقہ
اشفاق رحمانی
پانی کی کمی،قرضوں میں اضافہ،کھرب پتی میاں منا
خبر کے مطابق انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے صوبوں کو پیشگی خبردار کر دیا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 20 ہزار 200 کیوسک کم ہو گیا ہے اور آئندہ چند روز میں پانی کی متوقع کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سکردو میں درجہ حرارت کم ہونے کے باعث دریا میں پانی کا بہاؤ اور ذخیرہ کم ہو رہا ہے۔ پانی جاری کرنے سے دونوں ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔جولائی کے پہلے ہفتے تک پری مون سون متوقع ہے جس کے باعث دریائے کابل اور چناب میں پانی کی صورتحال بہتر ہو جائے گی اور ڈیموں میں زیادہ پانی جمع کیا جائیگا۔جبکہ نگران حکومت نے ایک ہفتے میں ہی تقریباً 12 کھرب روپے قرض لے لیا ہے۔ اخراجات پورے کرنے اور پرانا قرض واپس کرنے کیلئے نیا قرض لینے کا سلسلہ نگران حکومت کے دور میں بھی جاری رہا، فرق صرف یہ آیا کہ مسلم لیگ (ن) اخراجات پورے کرنے کیلئے سٹیٹ بینک سے قرض لے رہی تھی جبکہ نگران حکومت نے کمرشل بینکوں سے قرض لینا شروع کردیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق نگران حکومت کے پہلے ہفتے کے دوران اخراجات کیلئے کمرشل بینکوں سے 11 کھرب 80 ارب 65 کروڑ روپے قرض لیا گیا ہے۔ نئے قرضے سے حکومت نے سٹیٹ بینک کا 11 کھرب 10 ارب روپے کا قرض واپس کیا اور تقریباً 70 ارب روپے سے دوسرے اخراجات پورے کئے۔پاکستان کی پہلی سوشل میڈیا نیوز ایجنسی میڈیا ڈور کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے آخری ہفتے کے دوران اخراجات پورے کرنے کیلئے سٹیٹ بینک سے 140 ارب روپے قرض لیا تھا۔ تاہم نگران حکومت نے دو ہفتوں میں ہی نئے نوٹ چھاپنے کا ریکارڈ بھی بنا ڈالا۔ اوسطاً روزانہ 20 ارب 23 کروڑ روپے کے نئے نوٹ جاری کئے جس سے زیرگردش نوٹ ملکی تاریخ میں پہلی بار 49 کھرب روپے سے تجاوز کر گئے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق جون کے پہلے دو ہفتوں کے دوران اخراجات پورے کرنے کیلئے حکومت نے 3 کھرب 3 ارب 47 کروڑ روپے مالیت کے نئے نوٹ جاری کیے جس سے مارکیٹ میں زیرگردش نوٹوں کا مجموعی حجم 49 کھرب 18 ارب 33 کروڑ 2 لاکھ روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 5 کھرب 84 ارب روپے کے نئے نوٹ جاری کئے تھے۔متوقع الیکشن میں جہاں ملکی تاریخ میں پہلی بار 62/63 یعنی صادق و امین والی شق کا’’کام‘‘ دیکھایا ہے وہیں پہلی بار الیکشن لڑنے کے خواہش مندوں نے ’’صاف صاف‘‘ بتا دیا کہ وہ کتنی کتنی جائیداد کے مالک ہیں،ایک ہی ایک زندہ دل پاکستانی مظفر گڑھ سے این اے 182اور پی پی 270سے آزاد امیدوار محمد حسین عرف میاں منا شیخ نے اپنے کاغذات نامزدگی میں 4کھرب 3 ارب 77 کروڑ روپے کے اثاثے ظاہر کر کے سب کو حیران کر دیا۔محمد حسین نے 350 مربع اراضی، باغات، تین گھر اور گھریلو سامان کی مالیت4کھرب 3ارب 77کروڑ روپے ظاہر کی۔ محمدحسین کا کہنا تھا کہ مظفرگڑھ میں ان کی ملکیت کے 5 علاقے لانگ ملانہ، تلیری، چک تلیری،لٹکراں اور 40 فیصد مظفرگڑھ شہر پر بااثر افراد نے غیرقانونی طور قبضہ کر رکھا تھا، تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ نے 88سال بعد ان کے خاندان کے حق میں فیصلہ دیا۔ 5 علاقوں کی زمین کی قیمت کا اندازہ 4 کھرب 3 ارب 11 کروڑ روپے ہے جبکہ باقی تین گھر اور گھریلو سامان ہے جس کی مجموعی مالیت تقریباً 4 کھرب 3 ارب 77 کروڑ روپے بنتی ہے۔ محمد حسین شیخ جمشید دستی اورسابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا مقابلہ کرنے کیلئے پر جوش ہیں۔ منا شیخ نے کاغذات نامزدگی میں لکھا ہے کہ یہ تمام پراپرٹی اسے وراثت میں حاصل ہوئی ہے۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق حلقہ این اے 73میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار خواجہ محمد آصف اوران کی اہلیہ و اسی حلقہ اور خواتین کی مخصوص سیٹ پر قومی اسمبلی کی امیدوارمسرت آصف خواجہ کے مقروض نکلے۔اثاثہ جات فارم کے مطابق خواجہ آصف اور انکی اہلیہ مسرت آصف خواجہ نے سابق رکن صوبائی اسمبلی ارشد جاوید وڑائچ سے چارکروڑ 47 لاکھ20ہزار 360روپے ادھار لئے تھے اور خواجہ آصف کی اہلیہ کے پاس نولاکھ روپے مالیت کا 90تولہ سونا ہے جبکہ خواجہ آصف کے زیر استعمال فرنیچر اور دیگر اشیا کی قیمت 16لاکھ 50ہزار روپے ہے۔ خواجہ آصف کے مختلف بنکوں میں تین کروڑ 33لاکھ 15ہزار 524روپے ہیں اور ان کے پاس ذاتی ضرورت کیلئے51لاکھ 97ہزار 88روپے ہیں۔ خواجہ آصف ایک مہران کار اور ہائبرڈ گاڑی کے مالک ہیں اور ان کا سیالکوٹ اور ڈی ایچ اے لاہور میں گھر ہے۔ خواجہ آصف کی اہلیہ نے قرض حاصل کرکے 10 مقامات پر 1ہزار مرلہ پر زرعی پلاٹ خرید رکھے ہیں۔ خواجہ محمد آصف نے تین سال کے دوران ایک کروڑ آٹھ لاکھ انیس ہزار چھ سو اٹھائیس روپے کا ٹیکس جمع کرایا۔ خواجہ محمد آصف نے 2017 میں 39 لاکھ 61 ہزار چھ سو سنتالیس روپے ٹیکس ادا کیا۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 73 میں تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار نے گزشتہ سال2017ء میں ایف بی آر کو بارہ لاکھ انیس ہزار چھ سو انتالیس روپے کا ٹیکس اداکیا۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی37میں تحریک انصاف کے امیدوار مہر عاشق نے گذشتہ سال 2017ء میں ایف بی آر کو 36ہزار ایک سو روپے ٹیکس ادا کیا تاہم 2016 اور 2015ء میں انہوں نے ایف بی آر کو کوئی ٹیکس ادا نہ کیا ،قومی اسمبلی کے حلقہ این اے72میں تحریک انصاف کی امیدوار سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے 2017 میں 3لاکھ16ہزار 500 روپے ٹیکس ادا کیا۔سابق صوبائی وزیر بلدیات ودیہی ترقی محمد منشا اللہ بٹ غریب ترین سیاست دان نکلے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے73اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی37میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار منشاء اللہ بٹ پورے خاندان سمیت 5مرلہ کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ ذاتی گاڑی نہ ہے اور ان کے فرنیچر کی مالیت ایک لاکھ ہے جبکہ محمد منشا ء اللہ بٹ کی ملکیت میں ٹرنک بازار میں اسی ہزار روپے مالیت کی ایک دکان ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر و سینیٹر سراج الحق کی جانب سے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کئے گئے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں ان کی کل مالیت 29 لاکھ روپے سے زائد ہیں، ایک نجی سکول میں حصہ ہے۔ خیبرپی کے کے سابق وزیر و تحریک انصاف کے رہنما شاہ فرمان بھی کروڑ پتی سیاستدانوں کے کلب میں شامل ہوگئے۔دستاویزات میں شاہ فرمان نے ایک کروڑ 64لاکھ روپے مالیت کے اثاثہ جات ظاہر کئے ہیں۔تحریک انصاف کے اْمیدوار شاہ فرمان نے حلقہ این اے 70 پشاور اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 29پشاورسے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق شاہ فرمان پشاور کے علاقہ بڈھ بیر میں 70 مرلے ، حیات آباد میں 2 کنال گھر اور22 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی کے مالک ہے۔اس کے علاوہ ان کے اکاونٹ میں 32 لاکھ روپے موجود ہیں جبکہ 13 لاکھ روپے مالیت کے زیوارات بھی ان کے اثاثوں میں شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق شاہ فرمان کی اہلیہ کے اکاونٹ میں 2 لاکھ 84 ہزار روپے بیلنس موجود ہے۔