Buy website traffic cheap

عالمی

پاکستان عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر بن گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر بن گیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان ایک بار پھر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر منتخب ہو گیا ، پاکستان کا انتخاب اگلے دو سال کے لئے کیا گیا ۔ترجمان پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن نے کہا کہ پاکستان کا انتخاب سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی اورجوہری ٹیکنالوجی کے پر امن استعمال کے شعبہ میں پاکستان کے نمایاں کردار کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف ہے۔ترجمان نے کہا کہ آئی اے ای اے کا اجلاس ویانا میں ہوا جس میں پاکستانی وفدکی سربراہی چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن محمد نعیم کر رہے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ آئی اے ای اے کے کل170 ارکان ممالک میں سے 35 ارکان بورڈ آف گورنرز میں شامل ہوتے ہیں۔170 ارکان میں سے 11 کا انتخاب 100 سال کیلئے کیا جاتا ہے اور انتخاب کا یہ عمل ہر سال ہوتا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں؛ قانون سازوں اوربیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے پا کستان میں کرپشن عروج پر اور ملکی ترقی رک چکی ہے، چیف جسٹس افتخار چوہدری
اسلام آباد (یواین پی) جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پار ٹی کے سربراہ اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہاہے کہ قانون سازوں اوربیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے پا کستان میں کرپشن عروج پر اور ملکی ترقی رک چکی ہے، وہ آج اسلا م آباد میں اپنی رہا ئشگاہ پرصحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کر رہے تھے۔ ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں انھوں نے کہا نے کہا کہ ابھی حکومت کے ابتدائی ایام ہیں اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسکی کارکردگی کا پتہ چلے گا۔ انھوں نے نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق بتایا کہ وہ پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ ان پر کرپشن ثابت نھیں ہوئی، جتنی جلدی ٹرائل مکمل کرنے میں کی گئی ضما نت کے معاملات بھی اتنی تیزی سے نمٹائے جا ئیں اور انصاف کا بول بالا رہنا چاہئے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حکومت کو عالمی سطح پرمسلہ ءکشمیر بھر پور انداز میں اٹھانا چاہئے۔ پی جے ڈی پی کے سربراہ نے کہا کہ گوادر اور سی پیک کی وجہ سے بلو چستان عالمی اہمیت اختیار کر چکا ہے جس کا پاکستان کو بھر پور فائدہ اٹھا چاہیئے لیکن یہ بہت افسوسنا ک ہے کہ ہم اس میں کامیاب نھیں ہوئے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بلو چستان میں حالات پر بہت حد تک قابو پایا جا چکاہے جس کا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد لاپتہ افراد کو باز یاب کروایا اور اسکے لئے میکنزم بنایا تھا۔ جسٹس چوہدری نے کہا کہ چیف جسٹس جو کچھ کر رہے ہیں وہ اختیارات سے تجاوز نھیں بلکہ انکے تحت کر رہے ہیں جنکی آئین اجازت دیتاہے۔ انھوں جسٹس ثاقب نثار کے ڈیم فنڈ کے حوالے سے کہا کہ یہ قومی مفاد میں اچھا کام ہے جسکی حمایت کی جانی چاہیئے۔ ملک میں انصاف کے حصول میں تاخیر کے سوال کے جواب میں جسٹس افتخار محمد چوھدری نے بتایا کی جلدانصاف کی فراہمی ماضی کی کسی بھی حکومت کی ترجیح نھیں رہی۔ انھوں کہا کہ اپنے دور میں میں نے جو ڈیشل پالیسی بنائی جسکا مقصد انصاف کی فوری فراہمی تھا مگر وسائل کے فقدان اور حکو متی دلچسپی نہ ہونے سے اس پر عمل نھیں ہو سکا۔ انھوں کہا کہ چیف جسٹس کے ساتھ عمران خان کی ملاقات سے نھیں بلکہ عدلیہ کو وسائل کی فراہمی سے عوام کو فوری انصاف مہیا ہو سکتاہے۔