Buy website traffic cheap

امریکی

پاک امریکا تعلقات میں دراڑیں، اصل حقیقت سامنے آگئی

واشنگٹن (یواین پی) امریکی بجٹ تجاویز برائے سال 2019 اور چین کے حوالے سے کانگریس میں جمع کروائی گئی پینٹاگون کی رپورٹ برائے سال 2018 سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان تلخی کی وجہ صرف افغانستان نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق دستاویزات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کو یہ خوف ہے کہ اس کی گرفت پاکستان پر رفتہ رفتہ کم ہوتی جارہی ہے۔بجٹ دستاویز میں چین اور روس کو امریکا کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے مرکزی خطرہ قرار دیا گیا اور اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔دوسری جانب پینٹاگون سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ چین اپنے دیرینہ دوست ممالک میں اضافی فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کرے گا جیسا کہ پاکستان، جو اس سے قبل بھی غیر ملکی افواج کی میزبانی کرچکا ہے۔امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بھی اس امریکی خدشے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا گیا کہ پاکستان میں بننے والے چینی منصوبے ’ون بیلٹ، ون روڈ‘ پر چین اور امریکا کے مفادات کا ٹکراو¿ ہے۔امریکا کو اس بات پر تشویش ہے کہ چین عالمی اثرورسوخ حاصل کرنے کے لیے قرضوں کے جال میں پھانسنے والی پالیسی پر عمل کررہا جس میں وہ دیگر ممالک کو ایسے منصوبوں کے لیے قرض فراہم کرتا ہے جس کے اخراجات وہ خود نہیں اٹھاسکتے جبکہ چین نے اسے محض مغربی پروپیگنڈا قرار دیا۔امریکی قومی سلامتی حکمت عملی کے بیان کے مطابق چین اور روس، دیگر ممالک کے اقتصادی امور، سفارتی تعلقات اورسیکیورٹی فیصلوں پر ویٹو پاور حاصل کرکے اپنے آمرانہ ماڈل کے ذریعے دنیا کو بھی چلانا چاہتے ہیں۔ادھر امریکی بجٹ دستاویز میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے ٹرمپ انتظامیہ کس طرح اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مضبوط اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر تیزی سے تبدیل ہونے والی ’مزید مہلک مشترکہ قوت تشکیل دینا چاہتی ہے۔یہ اتحاد اورنئی قوت امریکی اثر رسوخ اور طاقت کا توازن برقرار رکھے گی جس سے آزاد اور وسیع بین الاقوامی نظام کو فروغ ملے گا۔دستاویز میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ امریکا نے خطے میں بڑھتے ہوئے چینی اثر رسوخ کو کم کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔خیال رہے کہ 2012 سے 2016 تک چین ہتھیار فروخت کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا تھا جس کی کل 20 ارب ڈالر کی فروخت میں سے 8 ارب ڈالر کے ہتھیار ایشیائی ممالک اور خاص طور پر پاکستان کو فروخت کیے گئے تھے۔