Buy website traffic cheap

پرویزخٹک

پرویزخٹک نے پی ٹی آئی کے موروثی سیاست کے خاتمے کے دعوے کی دھجیاں اڑادیں، پوراخاندان پارلیمنٹ میں لے آئے

لاہور(ویب ڈیسک): تحریک انصاف کے رہنما، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے موروثی سیاست کی نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ موصوف کے خاندان سے 4 افراد قومی اسمبلی کے ارکان، 2 افراد ضلع و تحصیل ناظم کے عہدوں پر براجمان جبکہ مزید 2 افراد صوبائی اسمبلی میں جانے کے لیے امیدوار ہیں۔ ضلع نوشہرہ سے قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 5 نشستیں ہیں۔ گزشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں پرویز خٹک نے بذات خود نوشہرہ کی 3 نشستوں سے انتخابات لڑے جن میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 25 اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقے پی کے 61 اور 64 شامل ہیں۔ تینوں نشتوں پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد پرویز خٹک نے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں سے استعفیٰ دے دیا اور قومی اسمبلی نشست برقرار رکھی جس پر انہیں وزارت دفاع کا قلمدان سونپا گیا۔ نوشہرہ سے قومی اسمبلی کی دوسری نشست این اے 26 پر پرویز خٹک کے داماد عمران خٹک تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔انتخابی نتائج آنے کے بعد جب خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو پرویز خٹک ان میں بھی دو نشستیں لے اڑے۔ ان میں سے ایک نشست اپنی بھابھی نفیسہ خٹک اور دوسری اپنی بھتیجی ساجدہ بیگم کو تحفہ کردیں۔ اس وقت پرویز خٹک کے خاندان سے 4 افراد قومی اسمبلی میں موجود ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے ان کی خالی کردہ نشستوں پر ان کے بھائی اور بیٹے میدان میں اترے ہیں۔پرویز خٹک کی خالی کردہ پی کے 64 پر ان کے بھائی لیاقت خٹک نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ لیاقت خٹک ضلع نوشہرہ کے ناظم تھے۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات لڑنے کے لیے ضلع ناظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔