Buy website traffic cheap


پلڈاٹ سکور کارڈ، متنازعہ حلقہ بندیاں اور عاصمہ حامد

اشفاق رحمانی
پلڈاٹ سکور کارڈ، متنازعہ حلقہ بندیاں اور عاصمہ حامد
الیکشن کمیشن کی طرف سے الیکشن کا اعلان تو کر دیا گیا ہے تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت متعدد سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے’’سیاست دانوں‘‘ یعنی پٹیشنرز نے حلقہ بندیوں کو چیلنج کر رکھا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق 108درخواستیں زیرسماعت ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کی حلقہ بندیوں کے خلاف پٹیشن کو’’ ای سی پی’’ کے نمائندے کی جانب سے عدالت کو بے ضابطگیوں کو ختم کرنے کی یقین دہانی کے بعد خارج کر دیا۔ دیگر حلقوں میں جن قواعد کو مدنظر رکھتے ہوئے حلقہ بندیاں کی گئیں انہیں ضلعوں میں بھی حلقہ بندیاں کرتے ہوئے مدنظر رکھا جانا ایک’’ سوالیہ نشان‘‘ ہے۔ عدالت نے ای سی پی کو کیسز کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا کہا اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کو معاملے پر تمام سٹیک ہولڈرز کو قانون کے مطابق شامل کرتے ہوئے فیصلہ کرنے کے احکامات جاری کئے۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملک کے 4اضلاع میں الیکشن کمشن کی جانب سے کی جانے والی نئی حلقہ بندیوں کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں جہلم، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لوئر دیر میں نئی حلقہ بندیاں کو کالعدم قرار دیا ہے جبکہ 5حلقوں کی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جن میں بہاولپور، رحیم یار خان، چکوال، بٹگرام اور ہری پور کی حلقہ بندیوں سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا گیا۔ 20حلقوں سے متعلق 37درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔ادھر ’’پلڈاٹ‘‘ کا سکور کارڈ بھی جاری کر دیا گیا ہے انتخابات کے غیر جانبدار اور شفاف انعقاد کیلئے ریاستی ادارے الیکشن کمیشن کو غیر جانبدارہونے کے حوالے سے سب سے زیادہ سکور موصول ہو ئے ہیں جس کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کو یکسا ں مواقع فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کی ساکھ کے تاثر کو سکور 67.3‘ الیکشن کمیشن کی آزادی، غیر جانبداری اور موثر ہونے کے تاثر کو 65.3فیصد، انتخابی حلقہ بندیوں کیلئے قانون و ضوابط کی پاسداری اور شفافیت کے تاثر کے پیرا میٹر کو 64.0 سکور موصول ہوئے ہیں۔ صدرمملکت اور گورنرز کی انتخابی عمل میں اثر و رسوخ کی اہلیت کے تاثر سے متعلق پیرا میٹر کو 61.8فیصد سکور،مقامی حکومتوں کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے تاثر سے متعلق پیرا میٹر کو 57.8فیصد،سیاسی جماعتوں کو انتخابا ت میں حصہ لینے کیلئے یکساں مواقع کیلئے امن و امان صورتحال سے متعلق پیرا میٹر کو 57.8فیصد نمبر موصو ل ہو ئے ہیں۔ یہ ہیں وہ حقائق جو پاکستان میں فری اینڈ فیئر الیکشن کے حوالے سے اعداد وشمار فراہم کرنے والے ادارے’’پلڈاٹ‘‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں شائع کئے ہیں،پلڈاٹ کی جانب سے اپریل 2017سے مارچ 2018کے درمیان قبل از انتخاب، انتخابی عمل کے منظم اور مسلسل جائزہ کے سارے عمل کو غیرشفاف قرار دیتے ہوئے کہا انتخابات کے دیگر مراحل میں بھی روش پرقرار رہی تو انتخابات کی شفافیت متاثر ہوسکتی ہے۔’’ پلڈاٹ‘‘ نے اپنی قبل از انتخاب جائزہ رپورٹ کے ساتھ سکور کارڈ برائے قبل از انتخاب شفافیت کے تاثر کو جانچنے کیلئے قبل از انتخاب شفافیت کیلئے 11نکاتی فریم ورک کی بنیاد پر مجموعی طور سکور 51.5فیصد سامنے آیا ہے۔ 2013کے مقاملے میں2018میں سیاسی جماعتوں کو مہیاہونے والے ماحول کی نسبت بہت حد تک بہتری ہے۔ غیر جانبداریت کا یہ تاثر انتخابی عمل کے دیگر مراحل میں جاری رہا تو پورے انتخابات کی شفافیت خطر ے میں پڑ سکتی ہے۔11نکاتی پیرا میٹرز کی تفصیلات کے مطابق دو پیرا میٹرز کو انتہائی غیر شفاف قرار دیا ہے جن میں فوج کی انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے حوالے سے غیر جانبداری کے تاثر سے متعلق پیرا میٹر میں 33.4فیصد سکور موصول ہوا ہے۔ اسی طرح انتہائی غیر شفاف پیرا میٹر، پرائیویٹ میڈیا کی آزادی ریاستی ادراروں اور مخصوص مفادات کے پیرا میٹر کو 37.5فیصد سکور ملا ہے۔ تین پیرا میٹرز کو شفاف قرار دیا گیا جن میں ریاستی ذرائع ابلاغ کی غیر جانبداری کے تاثر سے متعلق پیرا میٹر بھی غیر شفاف قرار دیتے ہوئے 41.5فیصد سکور موصول ہونگے۔ نیب کی جانب سے احتساب کی غیر جانبداری کے تاثر پر پیرا میٹرز کو 43.1 سکور موصول ہیں۔ اسی طرح عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری کی پیرا میٹر کو غیر منصفانہ قراردیا گیا کیونکہ، اس میں بھی 45.8فیصد سکور موصول ہوا ہے۔جہاں تک پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے مبینہ طور پر ’’پری پول دھاندلی‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے متعدد تقرریوں کا چیلنج کیا گیا ہے وہیں قانون دان عاصمہ حامد کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات کرنے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔درخواست گزار کے مطابق عاصمہ حامد کو میرٹ کے برعکس جونیئر ہونے کے باوجود تعینات کیا گیا، تعیناتی سیاسی بنیاد پر کی گئی۔ آئینی عہدے پر تعیناتی کا کوئی طریقہ کار ہی موجود نہیں۔ تعیناتی کو میرٹ کے برعکس ہونے کی بناء پر کالعدم قرار دیا جائے۔ تحریک انصاف نے بھی عاصمہ حامد کی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعیناتی کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کی وزارت اعلی چھوڑنے سے چند گھنٹے قبل اہم ترین تعیناتی قابل تشویش ہے۔پی ٹی آئی کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیراعلیٰ پنجاب کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا عاصمہ حامد کے والد شاہد حامد سابق گورنر پنجاب اور چچا زاہد حامد سابق وفاقی وزیر قانون اور موجود ایم این اے شریف خاندان کے وفادار ہیں، بادی النظر میں عاصمہ حامد کو شریف خاندان سے وفاداری نبھانے کے عوض تعینات کیا گیا۔ہمارے خیال میں الیکشن کی شفافیت پر حرف آنے سے پہلے عاصمہ حامد کی تقرری ختم کرنے دینے میں کوئی طوفان نہیں آ جائے گا