Buy website traffic cheap


پنجاب پولیس میں منتخب 500 سب انسپکٹرزسات ماہ گزرنے کے باوجود کال لیٹرکے منتظر، چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ

لاہور(ویب ڈیسک): اگست 2017 میں سب انسپکٹر پنجاب پولیس کی سیٹس پنجاب پبلک سروس کمیشن کے زریعے اناونئس ہوئی۔جس میں پنجاب بھر سے ہزاروں امیدوارں نے شرکت کی۔ ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد مارچ 2018 میں PPSC نے فائنل لیسٹ تیار کرکے آویزاں کردی 500 امیدوار پنجاب بھر سے سلیکٹ ہوئے ۔ایک دو ماہ محکمہ پولیس نے امیدوارں کی ضروری تحقیقات میں لگایا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امیدوارں میں جوائننگ کی بےچینی بڑھتی گئی اور امیدوار محکمہ پولیس سے متواتر رابطے میں رھے ۔محکمہ اس مسئلے کو ٹالتا رہا ۔ فائنل سلیکٹ ہونے کے بعد بہت سے امیدوار اپنی سرکاری اور پرائویٹ نوکریوں سے ریزائن دے چکے ھیں۔کچھ نوجوانوں کو ڈگری حاصل کیے ہوئے دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ھے ،بہت جلد وہ زائد عمر ہوکر سرکاری نوکری کے اہل نہیں ہونگے۔ عمران خان صاحب نے نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا چھیننے کا نہیں ۔ان پانچ سو تعلیم یافتہ نوجوانوں کا مطلب ھے پانچ سو گھرانے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہر نوجوان کی خواہش ہوتی ھے کہ روزگار حاصل کرکہ اپنے والدین کا سہارا بناجائے۔آج جب پانچ سو نوجوان اپنے والدین کا سہارابننے کے لیے تیار ھیں تو پھر نوجوانوں کے روزگار کااستحصال کیوں کیا جارہاہے. منتخب امیدواروں نے چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثارسے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے اس استحصال کا نوٹس لیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے.