Buy website traffic cheap


پی ٹی آئی کا ن لیگ پر ایک اور دھاوا . اس بار حد ہی کر دی

پی ٹی آئی کا ن لیگ پر ایک اور دھاوا . اس بار حد ہی کر دی…………..پاکستان تحریکِ انصاف نے مسلم لیگ ن کی رہنما نازیہ راحیل کو بن مانگے ہی ٹکٹ جاری کر دیا.نازیہ راحیل ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھتی ہیں، وہ وہیں سے گزشتہ 2 الیکشن جیت چکی ہیں اور اس مرتبہ بھی انہوں نے مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے ہی ٹکٹ کے لئے درخواست دے رکھی ہے لیکن بن مانگے ہی انہیں پی ٹی آئی کی جانب سے منتخب کردہ امیدواروں میں جگہ دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں نازیہ راحیل کا شناختی کارڈ نمبر اور فون نمبر بھی غلط لکھا گیا ہے

——————————————-
یہ خبر بھی پڑھیئے

آزادی پسند رہنما اور کارکنان عوام کے حقیقی نمائندے ہیں اور عوام کو ان پر بھرپور اعتماد ہے
چند سو ووٹوں سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والے عوام کے معتبر حقیقی نمائندے نہیں ہوسکتے ہیں
ہلی کی آشیرواد سے بننے والی حکومت کو زیب نہیں دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ سمجھیں
سری نگر÷÷÷÷تحریک حریت جموں کشمیر نے کہا کہ آزادی پسند رہنما اور کارکنان جموں کشمیر کے عوام کے حقیقی نمائندے ہیں اور عوام کو ان پر بھرپور اعتماد ہے۔ چند سو ووٹوں سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والے عوام کے معتبر نمائندے نہیں ہوسکتے ہیں۔ ترجمان تحریک حریت جموں کشمیر نے کہا ہے کہ دہلی کی آشیرواد سے بننے والی حکومت کو زیب نہیں دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ سمجھیں۔ یہاں کے اصل عوامی نمائندے آزادی پسند لیڈران ہیں اور ان کی رہائی کے لیے ایسے بے ہودہ دستاویزات پر دستخط کرانے کے لیے دباؤ ڈالنا حکومت کا اعتراف شکست ہے۔ تحریک حریت نے پرویز احمد مرازی تارزوہ کے گھر پر پولیس چوکی تارزو کی طرف سے چھاپے ڈالنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ایک سیاسی ورکر ہے اور سرینگر میں کام کرتا ہے۔ اس کے گھر پر چھاپے ڈالنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ درایں اثنا تحریک حریت نے تنظیم کے لیڈر محمد رفیق اویسی کو مزید ریمانڈ پر جیل میں بند رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کا پبلک سیفٹی ایکٹ Revokeہونے کے باوجود رہا نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ اس کو رہا کرنے کے بجائے ریمانڈ پر سینٹرجیل بھیجنا انتقام گیری ہے۔ تحریک حریت نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کے نظربند سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھے گئے حکومتی رویہ کا نوٹس لے کر انہیں انصاف فراہم کرنے میں اپنا رول ادا کریں۔تحریک حریت جموں کشمیر نے تنظیم کے سینئر لیڈر امیرِ حمزہ شاہ کی گزشتہ ڈھائی برسوں سے مسلسل نظربندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس تمام تر مسلمہ قانونی، انسانی اور اخلاقی اصولوں کو روندتے ہوئے اب سیاسی لیڈران اور کارکنان کے خلاف اوچھے حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ امیرِ حمزہ شاہ کو جنوری 2016 ؁ء میں عوامی تحریک شروع ہونے سے قبل گرفتار کیا گیا اور تب سے اب تک اُن پر فرضی اور بے بنیاد الزامات لگاکر مختلف جیلوں میں مقید رکھا گیا۔ اگرچہ لواحقین نے ان پر لگائے گئے الزامات کے خلاف عدالت میں چلینج کیا اور عدالت نے حکومت کی طرف سے اُن پر لگائے گئے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے اُن کی رہائی کے احکامات صادر کئے، مگر نام نہاد حکومت نے اپنی طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے بار بار اُن پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگا کر اُن کی رہائی میں رُکاوٹیں ڈالی اور گزشتہ ڈھائی برسوں سے پولیس فرضی الزامات پر مزید فرضی الزامات لگاکر کبھی پی ایس اے اور کبھی ریمانڈ حاصل کرکے اُن کی رہائی میں رُکاوٹ ڈال رہی ہے۔ اب جبکہ فرضی الزامات لگانے کے لیے بھی انتظامیہ کے پاس کچھ بچا نہیں تو اب حکومت نے نظربند آزادی پسند لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف ہتک آمیز رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب کسی بھی نظربند سیاسی لیڈر یا کارکن کی رہائی سے پہلے اس کو پولیس کی طرف سے تیار شدہ Bad Chracter Certificate پر دستخط کرنے کے لیے نہ صرف مجبور کیا جاتا ہے ، بلکہ اس کو ان کی رہائی سے مشروط ٹھہرایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امیر حمزہ شاہ نے پولیس کے اس طرح کے گھناؤنے منصوبے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے ایسے کسی بھی کاغذ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے جس کے نتیجے میں پولیس نے اس کو مزید جیل جانے کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔