Buy website traffic cheap

سپریم کورٹ

چیف جسٹس نے شہباز شریف سے ایک ہی سوال 7بار کیوں کیا؟ ہر بار وزیراعلیٰ کیا جواب دیتے رہے؟، دیکھئے خصوصی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وزیر اعلی پنجاب سے 7 بار ایک ہی سوال کیا لیکن شہباز شریف کوئی جواب دینے کے بجائے بے بس نظر آئے اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے اور ترقیاتی منصوبے گنواتے رہے ، وزیر اعلی روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے سب سے پہلے ان کی مکمل بات سنی اور پھر دو سوالات کئے کہ کیپٹن(ر)عثمان کو کس قانون کے تحت کمپنی کا سربراہ بناکر14لاکھ 50ہزار روپے اورانفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی میں مجاہد شیردل کو 12لاکھ روپے تنخواہ کیوں دی جارہی ہے ؟ دونوں سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا ہم نے ملک سے اندھیرے ختم کئے ، سی پیک لے کر آئے ، کوئی سرمایہ کاری نہیں کررہا تھا لیکن ہمارے دور میں یہ سب کام ہوا ،چیف جسٹس نے کہا میاں صاحب یہ میرے سوالوں کا جواب نہیں ،مجھے بتائیں افسروں کولاکھوں روپے تنخواہیں دے کر کیوں نوازاگیا؟ وزیراعلی نے جواب دیا معزز چیف جسٹس صاحب مجھ پرکرپشن کا ایک دھیلا بھی ثابت ہوجائے تو جو مرضی سزا دیدیں ،چیف جسٹس نے کہا عدالت نے آپ کی ذات سے متعلق سوال نہیں کیا جو پوچھا ہے وہ بتائیں،شہبازشریف نے جواب دیا کہ نندی پور پاور پراجیکٹ مکمل کیا، بجلی کے کارخانے لگائے ،ملک کو اندھیروں سے نکالا، آپ کم ازکم اچھے کاموں کی تعریف تو کریں ،چیف جسٹس نے کہا آپ لمبی لمبی باتیں کررہے ہیں، صرف اتنا پوچھا ہے کہ یہ لوگ جو صرف ایک لاکھ روپے تنخواہ لے رہے تھے ان کو 12سے 15لاکھ روپے تنخواہ کیوں دی گئی؟شہبازشریف نے جواب دیا معزز چیف جسٹس صاحب میں گناہ گار ہوں لیکن عوام کی خدمت سچے دل سے کی ہے ، پیپلزپارٹی کے دور میں نیلم جہلم پاور پراجیکٹ بند پڑا تھا جسے ہم نے چلایا ،چیف جسٹس نے کہا مسٹر سی ایم !آپ سے کمپنیوں کی بات کررہے ہیں، آپ بات کو کسی اور طرف لے جاتے ہیں ،شہبازشریف نے پھر جواب دیا اس کمرے میں جہاں میں پیش ہوا ہوں، یہ کمرہ ٹھنڈا بھی ہمارے منصوبوں کی وجہ سے ہے ، آپ میرا جیسے مرضی احتساب کرلیں ، چیف جسٹس نے کہا ضرورت پڑی تو آ پ کے احتساب کے لئے متعلقہ اداروں کو احکامات دیں گے لیکن آپ کمپنیوں کا بتائیں، شہبازشریف نے کہا کمپنیوں میں سربراہوں کی تقرری اور ان کی تنخواہوں کا تعین متعلقہ بورڈ کرتا ہے ،میری ذمہ داری نہیں ،چیف جسٹس نے کہا آپ کس بات کے چیف منسٹر ہیں؟ یہ قوم کا پیسہ ہے ،واپس کرنا ہوگا، شہبازشریف نے کہا جو فیصلہ ہوگا اسے قبول کریں گے ، چیف جسٹس نے کہا آپ نہ بھی قبول کریں پھر بھی قبول کرنا پڑے گا ،یہ کوئی احسان نہیں ،جب 7بار شہبازشریف نے سوالات کے جوابات نہ دیئے تو چیف جسٹس نے کہا آپ جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں جس پر شہبازشریف روسٹرم چھوڑ کر چلے گئے۔