Buy website traffic cheap


ڈاکٹر خان ، مجید نظامی اور چوہدری شجاعت حسین

یوم تکبیر : ڈاکٹر خان ، مجید نظامی اور چوہدری شجاعت حسین
تحریر : رانا عبدالباقی ( آتش گل )
rabaqi@sapulse.com
28 اور 30 مئی 1998 کے دن پاکستان کی تاریخ میں اَمر ہوگئے جب 11 اور 13 مئی کو بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین اور ایک قومی اخبار کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی کے قلندرانہ نعرے “جناب وزیراعظم دھماکہ کریں ، اِس سے پہلے کہ میں آپ کا دھماکہ کر دوں اور قوم آپ کا دھماکہ کر دیگی ” کے جواب میں عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کے احکامات دینے پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ امریکی دباؤ کے باوجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ٹیم کی ایٹمی صلاحیت کے سبب پاکستان سات ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا ۔ یوم تکبیر دراصل علامت ہے اِس اَمر کی کہ جنوبی ایشیا میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزادی ، خودمختاری اور اقتداراعلیٰ کو ازلی دشمن بھارت اور اغیار کی سازشوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں بلاشبہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ مجید نظامی خود اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ چاغی ایٹمی دھماکوں سے قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان میرے دفتر تشریف لائے تھے اور اُس وقت ویراعظم کے والد جناب میاں محمد شریف سے ملاقات کیلئے میرے ہمراہ رائے ونڈ تشریف لے گئے تھے جہاں مرحوم میاں محمد شریف فیملی کے تمام افراد اور حاضرین نے اُن کا پُرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اُنہیں پھولوں سے لاد دیا تھا ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان چاغی کے دھماکوں کے ذریعے اپنی ٹیم کے ہمراہ اپنی ایٹمی تخلیق کے عملی مظاہرہ کو دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن وزیراعظم نواز شریف پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کا زبردست بیرونی دباؤ تھا ۔ چنانچہ میاں نواز شریف نے ڈاکٹر خان کی اپنے والد سے ملاقات کے بعد سینئر صحافیوں، ایڈیٹروں ، قومی دانشوروں اور بیوروکریٹس سے مشاورت کا فیصلہ کیا ۔ وزیراعظم کی اِس مشاورتی میٹنگ میں بھی میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکہ نہ کرنے سے متعلق بیرونی دباؤ کا تذکرہ کیا اور مبینہ طور پر بیشتر صحافیوں، دانشوروں اور بیوروکریٹس نے امریکی دباؤ کے پیش نظر ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کی رائے دی لہذا مجید نظامی مرحوم نے مشاورتی اجلاس میں دباؤ کی صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا کہ جناب وزیراعظم آپ قوم اور ملک کے مفاد میں ایٹمی دھماکہ کریں ورنہ میں آپ کا دھماکہ کردوں گا اور قوم آپ کا دھماکہ کر دیگی ۔ اندریں حالات چاغی کا ایٹمی دھماکہ ہوا اور وقت نے ثابت کیا کہ اِس دھماکے نے پاکستان کی سلامتی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔
28 مئی 1998 کے ایٹمی دھماکے جنوبی ایشیا کی سرزمین پر مسلم ریاست کی تجدید عہد کا دن ہے جس خواب کی آبیاری حصول پاکستان کی شکل میں علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے خون جگر سے کی تھی، لیکن اپنوں کی عاقبت نااندیشانہ طالع آزمائی نے 1971 میں اکھنڈ بھارت کی قربان گاہ کے سامنے دھکیل دیا تھا ۔اکھنڈ بھارت کے اِنہی ناپاک عزائم کو آگے بڑھانے کیلئے بھارت نے 18 مئی 1974 میں راجستھان میں دھماکہ کیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے خطے میں بھارت کی ایٹمی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور 31 جولائی 1976 میں ایک خودمختار ادارے کے طور پر کہوٹہ پروجیکٹ کی منظوری دی جس کا سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بنایا گیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد بھی مغربی ملکوں کی مخالفت کے سبب پیدا ہونے والی ملکی سیاسی اُلجھنوں کے باوجود یورینیم افروزگی کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سفر جاری رہا ۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے بھی ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے بھارت کی طرح یورپی ممالک کے انڈر گراؤنڈ سپلائر کے ذریعے ہی بیشتر پارٹس حاصل کئے۔ البتہ بھارت نے کینیڈا کے ایٹمی ری ایکٹر اور امریکہ کے فراہم کئے ہوئے ہیوی واٹر کو چناکیہ عیاری سے چوری کرکے یورینیم افروزگی کیلئے استعمال کرکے دھماکہ کیا لیکن بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر مغرب کی جانب سے وہ ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا جیسا کہ شور و غوغا 28 اور 30 مئی 1998 کے پاکستانی ایٹمی دھماکوں پر کیا گیا ۔ بلاشبہ ڈاکٹر خان نے ضروری سپیئر پارٹس تو یورپ کی اُنہی کمپنیوں سے حاصل کئے جن سے بھارت نے استفادہ کیا تھا لیکن یورینیم کی افروزگی کیلئے اُنہوں نے سینٹری فیوج کے مشکل طریقہ کار کے ذریعے دنیا بھر میں سب سے بہتر نتائج حاصل کئے البتہ دھماکے سے قبل ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف دنیا بھر میں بدترین پروپیگنڈا کیا گیا ۔ تہذیبوں کے تصادم کے حوالے سے ، دی اسلامک بم ،نامی فلم بنائی گئی اور ڈاکٹر خان کے خلاف کتابیں شائع کی گئی ۔
حیرت ہے کہ ستمبر 2003 میں جبکہ ڈاکٹر خان کو کہوٹہ پروجیکٹ سے ریٹائر ہوئے تین برس کا عرصہ گزر چکا تھا صدر جارج بش کی ہدایت پر امریکی سی آئی اے چیف جارج ٹینٹ نے امریکہ کے ایک ہوٹل میں صدر جنرل پرویز مشرف پر دباؤ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ناپاک مہم دوبارہ شروع کی ۔ یاد رہے کہ مارچ 2001 میں کہوٹہ پروجیکٹ سے ریٹائرمنٹ کے موقع پر سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدلقدیر خان کی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وضاحت سے کہا تھا : ” جب بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو جنوبی ایشیا کی سلامتی کے بدلتے ہوئے منظر نے پاکستان کیلئے انتہائی نامساعد صورتحال پیدا کر دی تھی… آخر کار اللہ تعالیٰ نے قوم کی دعائیں سن لیں اور ایک معجزہ رونما ہوا ، اور پردہ غیب سے ایک بلند قامت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل نابغہ کا ظہور ہوا۔ یہ نابغہ روزگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے ، ایسا نابغہ جس نے تن تنہا قوم کو ایٹمی صلاحیت سے مالا مال کر دیا… جناب ڈاکٹر صاحب ، مجھے یہ بات ریکارڈ پر لانے کی اجازت دیجئے کہ آپ نے قوم کو جو کچھ دیا ہے ، اُس کیلئے یہ قوم نہ صرف آج بلکہ ہمیشہ آپ کی ممنون احسان رہے گی ۔ آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور ہماری آئندہ نسلوں کیلئے مبداء فیضان ہیں۔ کوئی شخص بھی آپ سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا ، تاریخ میں آپ کے مقام کا تعین ہو چکا ہے ، آپ ہمیشہ کیلئے اَمر ہو گئے ہیں ، ہم آپ کو سلام کرتے ہیں اور اپنے دلوں کی گہرائی سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں” لیکن اِس تقریر کے تین برس کے بعد جارج بش کے ایٹمی دباؤ کے حربے سے متاثر ہوکر صدر مشرف نے ڈاکٹر خان کی نظر بندی کے احکامات جاری کر دئیے۔
بہرحال حقیقت کی نہ کسی دن کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے 2018 میں شائع ہونے والی اپنی حالیہ کتاب ” سچ تو یہ ہے” میں اِس اَمر کی تائید کی ہے کہ امریکی دباؤ کے سبب صدر پرویز مشرف نے پاکستان کے مفاد میں ناکرہ گناہ کی ذمہ داری اپنے سر لینے کیلئے اُنہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر بھیجا تھا۔ ڈاکٹر خان نے اُس وقت بھی کہا تھا کہ اُن پر یہ الزام سراسر جھوٹ ہے ، اُنہوں نے کوئی رقم نہیں لی اور نہ کوئی چیز فروخت کی ہے ۔ یہ فرنیچر جو آپ میرے گھر میں دیکھ رہے ہیں ، میری بیوی کے جہیز کا فرنیچر ہے ، یہ لوگ مجھ پر اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں۔ بہرحال ڈاکٹر خان نے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے ملک و قوم کے مفاد میں سارا الزام اپنے سر لے لیا تھا۔ چوہدری شجاعت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خان نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی اور نہ ہی تفتیش کاروں کو کوئی بیان دیا تھااور چوہدری شجاعت آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے یہ ذمہ داری اپنے سر لیکر پاکستان کو ایک انتہائی مشکل صورتحال سے نکالا تھا اور یہ کوئی معمولی قربانی نہیں تھی چنانچہ ڈاکٹر خان کے اِس ایثار و قربانی سے چوہردی شجاعت کے دل میں ڈاکٹر خان کی عزت مزید بڑھ گئی ہے۔ حقیقت سے پردہ اُٹھانے پر چوہدری شجاعت حسین کو سلام ۔ آج پھر یوم تکبیر ہے ، پاکستانی قوم زندہ ہے پائندہ ہے اور قیادت کے بحرن کے باوجود انتہائی نا مسائد حالات میں بھی ہر خطرے کا قومی یکجہتی کیساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ مغربی پروپیگنڈے کے باوجود، ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج بھی محسن پاکستان ہیں اور ہماری آئندہ نسلوں کیلئے بھی قومی ہیرو ہی رہیں گے ۔ ۔ ختم شد ۔