Buy website traffic cheap


ڈولٹی معیشت اورچین کا مستحسن اقدام

ڈولٹی معیشت اورچین کا مستحسن اقدام
راشدعلی
کشکول توڑنے والے ان دنوں وطن عزیز کی گلیوں میں نئے وعدے اورخواب دکھانے میں سرگرم عمل ہیں ۔دن رات اپنے حلقوں کی گلیوں میں دوڑ لگارہے ہیں ۔سیاسی بگل بج چکاہے ۔الیکشن مہم زورشور سے جاری وساری ہے ۔اقتدار کے حریص اپنی بساط کے مطابق لوگوں کو اپنے حق میں قائل کررہے ہیں ۔شعبدہ بازی اورڈرامے بازی کی ایکتنگ بڑے احسن انداز سے کی جارہی ہے ۔سجادہ نشین شاہ محمود قریشی اور خورشید شاہ ان دنوں موٹرسائیکل پر گشت کررہے ہیں ۔کڑوڑ پتی خود کو متوسط طبقے کے امیدوار ظاہر کررہے ہیں ۔ گزشتہ سالوں کی طرح بریانی اورمشروب کا لنگر کھل چکاہے ۔ذات پات ،برادریوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جارہا ہے ۔البتہ اس مرتبہ معاملہ قدرے مختلف ہے ۔پی ٹی ائی اورمسلم لیگ ن ایک دوسرے پر تابڑتوڑ حملے کررہی ہے ۔سوشل میڈیا کو بطور ہتھیا راستعمال کیا جارہا ہے۔حبس اورگرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ رہا ہے۔مسلم لیگ ن کی معاشی پالیسیوں کا پول کھل رہا ہے ۔معیشت جھٹکے لے رہی ہے ۔قومی خزانہ خطرے کی بگل بجارہا ہے ۔روپے کی قد ر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے ۔پڑول ہنڈرڈ کا فگر چھوچکاہے تو ڈیزل ہنڈرڈ پلس میں پہنچ چکاہے ۔کسان تو پہلے ہی سابق حکومت کے عتاب کا شکار تھے ۔رہی سہی کسر ڈیزل نکال دے گا۔مجموعی طور پر مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور بجلی کے بل تو قوم کے لیے دردِ سر بنتے جارہے ہیں ۔
ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آوٹ کی قیاس آرائیوں کے باوجود چین نے پاکستان کو غیرملکی کرنسی ذخائر میں ہونے والی کمی کو بہتر بنانے کے لئے ایک ارب ڈالر کا قرض دیاہے ۔بیجنگ کی جانب سے دیا گیا حالیہ قرضہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کا اپنے غیر ملکی کرنسی ذخائر میں ہوتی کمی کو پورا کرنے کے لئے چینی قرضے پر انحصار بڑھارہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر گزشتہ برس مئی میں 16 ارب 40 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر رواں برس اسی ماہ میں 9 ارب 66 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ۔رواں مالی سال میں پاکستان کے لئے چین کا حالیہ قرض 5 ارب ڈالر کی حد کو عبور کرلے گا۔وزارتِ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق 18-2017 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران چین نے پاکستان کو دوطرفہ قرض کی مد میں ڈیڑھ ارب ڈالر د ئیے تھے۔اس کے علاوہ اسی دوران پاکستان نے زیادہ چینی بینکوں سے 2 ارب 90 کروڑ ڈالر حاصل کئے تھے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق چین کی جانب سے پاکستان کی مدد کافی نہیں ہوگی۔ موجودہ حالات کے تناظر میں، نئی منتخب حکومت ممکنہ طور پر آئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری ہوگا ۔دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرونی قرضے 91 ارب 76 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ملک کو قرضوں کے جال سے نکالنے کے بلند و بالا دعوے تو بہت کئے گئے ۔ کشکول توڑنے کے باتیں بھی خوب کی گئیں۔نالائقی اور غیرذمہ داری کی بدولت یہ دعوئے خواب دکھائی دیے۔ رواں مالی سال کے صرف 6 ماہ کے دوران حکومت نے ہر ماہ اوسط 1 ارب ڈالر کا قرض لیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2017 سے مارچ 2018 کے دوران بیرونی قرضوں میں 8 ارب 33 کروڑ ڈالر کے اضافے سے 91 ارب 76 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح کو چھو گئے جبکہ مارچ 2017 سے مارچ 2018 کے دوران بیرونی قرضوں میں 13 ارب 85 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال کے دوران 2 ارب 24 کروڑ ڈالر مالیت کے سکوک اور بانڈز بھی فروخت کئے گئے ۔
بالفاذ دیگر پاکستان کا مجموعی قرض چین کے ایک ارب ڈالر قرض دینے کے بعد 92ارب 76کروڑ ڈالر تک پہنچ چکاہے ۔جس پر سالانہ سو د کل بجٹ کا 30فیصد ادا کرنا پڑتا ہے ۔اگر قرض کا سلسلہ یونہی چلتا رہا اوراللو تللو ں میں حکمران قوم کا پیسہ اڑاتے رہے تو قرض کا یہ عتاب بہت مہلک ثابت ہوگا ،سالانہ کروڑوں روپے حکومتی پروٹوکول ،مراعات ،بین الاقوامی دوروں پر خرچ کیے جاتے ہیں ۔قرض لیا جاتا ہے بدقسمتی سے اسے منصفانہ طریقے سے استعمال نہیں کیا جاتا ۔بڑے بڑے منصوبے اپنی تکمیل مکمل ہونے سے پہلے خستہ حال ہوجاتے ہیں ۔کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہوتا ۔یہ پاکستان کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے جہاں تاحیات ایک خاندان کو ہی وزارت کے منصب پر فائز کردیا جائے ۔یہاں ان لوگوں نے کام کرنا ہے جنہوں نے عوام کے مفادات کا تحفظ کر نا ہے ۔جنہوں نے فرسودہ اورکرپٹ نظام کی جگہ بہترین عادلانہ نظام قائم کرنا ہے
تاہم پاکستان وزارت خارجہ نے ائی ایم ایف سے رجوع سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے ۔چین کے جانب سے دیے جانے والا قرضہ پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کی ایک کوشش ہے ،غیرمستحکم معیشت کے لیے تنکے کا سہارا ہے ۔یہ مستقل حل نہیں ہے ۔معاشی ترجیحات کی سمت درست نہیں ہے اس کی بنیادی وجہ نااہل کرپٹ بیورکریسی اور سیاسی مافیہ ہے ۔بین الاقوامی استعماری سودی قوتوں کا بنیادی مقصد ریاستوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے ۔
اداروں کو ٹھیک کیے بغیر قرض سے نجات ممکن نہیں ہے ۔مسلم لیگ ن نے 2013کے الیکشن میں پی آئی اے کو منظم اورکرپشن فری پی ائی اے کا نعرہ دیا ۔لگاتار کہا گیا ہم اسے منافع بخش بنا دیں گے ۔مگر رزلٹ زیرو ۔سٹیل مل کی بحالی اوراسے منافع بخش بنانے کا وعدہ کیا گیا کشکول توڑنے اور لوڈشیڈنگ کا عتاب سے نجات دلانے کا وعدہ کیا گیا مگر بدقسمتی سے یہ وعدکے مکمل نہ ہوسکے ۔البتہ بجلی کے عتاب سے نجات دلانے کے لیے مہنگے پراجیکٹ پر کام کیا گیا ۔جس کا فائدہ ہوا ہے مگر ٹیکسوں کی چکی میں پسنے والی قوم پر 14روپے یونٹ عذاب سے کم نہیں ہے ۔