Buy website traffic cheap


ڈھونڈو کے اگر ملکوں ملکوں۔

ڈھونڈو کے اگر ملکوں ملکوں۔۔۔۔۔ تحریر؛مراد علی شاہد ؔ دوحہ قطر
قحط الرجال کے اس دور میں’’ایک مردِ درویش‘‘کی تالیف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہیں لوگ مگر چیدہ چیدہ،ان چیدہ و چنیدہ مردِ قلندروں کے کارواں میں قاری محمد یحیٰ۔ خاں مرحوم ایک ایسے مسافر تھے جنہیں اسمِ بامسمیٰ و عارف باللہ کہنا کسی طور بھی مبالغہ آرائی نہیں ،کہ ان کی شخصیت کا ہر پہلو ہیرے کی سمتوں کی طرح تابندہ و درخشاں ہے۔وہ ایک مخلص ،حلیم الطبع،بااخلاق اور مکمل مذہبی انسان تھے۔ان کی شخصیت کا وصفِ خاص یہ بھی تھا کہ اپنے اسلاف کے پیرو کار تھے اور اسلاف کی پیروی کو مدّ نظر رکھتے ہوئے سوشل ورک ان کی زندگی کا جز و لا ینفک تھا۔مردِ درویش وقلندرانہ خوبیوں کے باوصف ان کے ہاں سے کبھی بھی کوئی خالی نہیں لوٹا،رات ہو کہ دن،چھوٹا ہو کہ بڑا،اچھا ہو کہ برا،بلا امتیاز دامے ،درمے،سخنے ان کے کام آنا مقصدِ حیات خیال کرتے تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ سائنسی ،مادی اور نفسا نفسی کے اس دور میں دوسروں کے لئے جینا ایک ایسا فعل ہے جو مقربِ الٰہی کا ذریعہ اور خدا سے ملنے کا شارٹ کٹ ہے۔اور قارہ محمد یحیٰ اس سانچے میں مکمل سما جاتے ہیں۔ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن پر قدرت کی عنایاتِ خاص ہو تی ہیں۔باری تعالٰی کاقاری محمد یحیٰ پر یہ بھی ایک خاص کرم تھا کہ ان کی زبان ہروقت درود و سلام اور تلاوتِ قرآن کریم سے مرطوب رہتی تھی۔شائد ایسے ہی باعمل لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ جو اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے یادِ الٰہی میں غرق رہتے ہیں۔ایسا استغراق بھی کم کم لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے۔بچپن سے پچپن تک بلکہ آخری سانس تک انہوں نے قرآن سے لو لگائے رکھی۔پچپن میں قرآن سیکھا اور پھر ساری زندگی قرآن کی تعلیم و تدریس میں مصروفِ عمل رہے۔قاری محمد یحیٰ کا کردار،سیرت،شخصیت،علم دوستی،قرآن سے محبت بلاشبہ مینارہ نور سے کم نہ تھی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی سیرت و کردار کے چراغ کو کیسے روشن رکھا جائے کہ ان کے اس دارِ فانی سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی لوگ ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہو سکیں۔ان کی تعلیمات و خیالات کے چراغ کو کیسے روشن کیا جائے کہ جس کی کرنوں سے عہدِ حاضر منوًر ہو جائے اور اندھیری نگری کے مسافروں کو نشانِ منزل مل جائے جسے وہ راہِ ہدایت جانتے ہوئے منزلِ مقصود تک بآسانی اور کامیابی سے پہنچ سکیں۔ماشاٗاللہ میرے ہم عصر اور ہم دمِ دیرینہ جو خود ایک یادگارِ اسلاف ہیں ،حافظ طاہر سلیم قصوری نے قاری محمد یحیٰ کے علم کی کرنوں کو اپنے قلم سے سمیٹ کر ’’ایک مردِ درویش‘‘ کتابی صورت میں آنے والے عہد تک پہنچانے کا ذمًہ اٹھا یا ہے۔حافظ طاہر سلیم ایک بڑی علمی شخصیت مولانا عبدالعظیم قصوری کے فرزندِ ارجمند ہیں۔مولانا عبدالعظیم قصوری خود صاحبِ کتاب،قدیم و جدید علوم سے بہرہ ور زہد و متقی بزرگ تھے۔مولانا نے ساری زندگی بزرگانِ دین اور اولیاٗ اللہ کی صحبت میں گزاری،انہیں خاندانِ داؤد غزنوی سے خاص عقیدت تھی۔اور خاندان کے تمام چشم و چراغ بھی ان سے خاص محبت رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ہفتہ بھر کے لئے بھی اگر مولانا عبدالعظیم اپنے آبائی شہر قصور تشریف لے جاتے تو خاندانِ غزنوی کی طرف سے انہیں واپسی کا سندیسہ بھیج دیا جاتا کہ تم بن جیا نہیں لاگے۔ایسی بزرگ ہستی کے چشم و چراغ حافظ طاہر سلیم قصوری کا کتاب کی تالیف کا بار اٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کتاب اور شخصیت سے متعلق واقعات کی قلمبندی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔خدا انہیں اس نیک کام اور مقصد میں کامیاب و کامران کرے۔(آمین)