Buy website traffic cheap

کلین

ڈیم وقت کی اہم ضرورت

ڈیم وقت کی اہم ضرورت
ظفر اقبال ظفر
میرے پیارے نبی اکرم ﷺ مسلمانوں کی بنیادی ضروریات کو خود مختیاری کے ساتھ حصول کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ عرب کے علاقوں سے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو مدینہ میں ایک پانی کا کنواں تھا جو ایک یہودی کی ملکیت تھا پانی کے استعمال اور ہر وقت فراہمی میں آسانی کے پیش نظر حضور ﷺ نے اس کنویں کو خریدنے کے لیے کامیابی کا حصہ بننے والوں کے لیے جنت کی بشارت کی خوشخبری کا اعلان کیا توحضرت عثمان غنیؓ نے مسلمانوں کو حضور ﷺکی خواہش کے مطابق یہودی سے کنواں خرید کر وقف کیا پانی کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کا عمل سنت بھی ہے اور ہمیشہ کا صدقہ جاریہ بھی۔۔پاکستان میں ڈیم کی تکمیل کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے سے پہلے اس ڈیم کے ہونے اور جلد ہونے والی سوچ کو سلام اس کا حصہ بننے والے چھوٹے بڑے کرداروں کی عظمت کو سلام۔اس ڈیم کو سیاسی نہیں بلکہ اسلامی اور مسلمانی وقت کا تکازہ انسانی ضرورت بہتری فائدہ جیسی کئی حقیقتوں سے مانا جا سکتا ہے اس کا حصہ مسلمان انسان پاکستان سمجھ کربنےئے سیاسی چشمہ آپ کو اللہ کی رضا بندوں کی ضرورت کی تکمیل میں نہیں دیکھاتا مگر ایمان کی نظر آپ کو اس کا صلہ بھی دیکھا سکتی ہے ۔ فنڈسودی قرضوں سے بہتر ہے۔ اللہ سے اعلان جنگ کر کے سونے کی سڑکیں بھی بنائی جائیں تو زلت کا سبب ہی ہوں گی اور اس کے مقابل ایک پیسہ بھی ملک و انسانیت کے لیے خرچ کیا جائے تو اس کا اجرتب تک رہتا ہے جب تک اس نیکی کا وجود رہے گا اور ہم جس ڈیم کا حصہ بنیں گے اس ڈیم کی عمر اگلی کئی نسلوں تک قائم رہے گی( انشااللہ) پاکستان ہمیشہ رہنے کے لیے بنا ہے اسے اللہ کے خوف اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کے ماحول کو اپنا کر اپنے مسلمان ہونے کی شان کو ظاہر کرنے کی ضرورت وقت کا تقاضہ ہے ہم اسے سیاسی نا لیں تاکہ اس کے اجر میں ملاوٹ نا ہو یا اس کا خود پہرہ دیا جائے یا اللہ کے سپرد چھوڈ دیا جائے اور اللہ قادر ہے ہماری نیت کے مطابق ہمیں اس کا تحفظ اور افادیت بخشنے پر۔ خدا کے لیے اپنے دنیاوی اور آخرت کے فائدے کے لیے اس ضرورت کا حصہ بننے اور جنت کی بشارت کے احساس کو محسوس کریں مدینے سے وابستہ ساری اُمت کے لیے دنیا کے ہر مقام پر سہلولتیں پیدا کرنا ہمارا ایمانی فرض ہے اللہ کریم نے بے شمار نیکیوں کی صورتیں رکھی ہیں اور اس کے لیے کسی کو بھی قبول کر سکتا ہے اور اس کا حصہ بننے والوں پہ رضا کا دروازہ کھول سکتا ہے سیاست کے چہرے کو ہٹا کر سوچیں ساری کائنات کا مالک و بادشاہ کون ہے ۔۔اللہ۔۔۔اسی کے حکم اور چاہنے سے حالات پیدا ہوتے ہیں آپ ضمیر کی عدالت میں اپنی اصلاح کریں اور نیک کاموں کو فقط اللہ کی رضا کے لیے کر گزریں مجھے دائرہ اسلام سے نکل کر کسی کو سپورٹ نہیں کرنا میرے لیے میرا ایمان سب سے پہلے ہے اور اس ایمان کی پختگی بھلا کسی سیاستدان کے لیے کیسے کمزور ہو سکتی ہے میرا اسلام دوسروں کے لیے جینا سیکھاتا ہے تبی تو اللہ نے اپنے حقوق کے ساتھ انسانوں کے حقوق رکھے انہی کی بنیاد پر آخرت کا فیصلہ ہے اگر یہ بات مکمل دل میں اتر جائے تو دنیا کے فیصلے کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے جن نیکیوں کی عمر لمبی ہو ان کا حصہ لازمی بنیں ہم کمزور انسان ہیں عبادت میں غفلت لاپرواہی کر جاتے ہیں اگر انسانوں کے لیے چھوٹی چھوٹی نیکیاں کی جائیں تو اللہ کریم ہمیں اپنے سامنے کھڑا ہونے کی پختہ طاقت سے نواز سکتا ہے اس کے لیے ہمیں اپنے اندر کی دنیا درست کرنی ہو گی تاکہ ہم نیک اعمال کے لیے چُن لئے جائیں ایک اللہ کے ولیٰ اپنے مریدوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ رستے میں ایک بیر کے درخت کو بچے پتھر مار رہے تھے کہ پھل حاصل ہو اس عمل کے دوران ایک بچے کا پتھراللہ کے اس ولیٰ کو لگا تو انہوں نے اس بچے کو پاس بلایا بچہ سہماہوا تھا مگر انہوں نے بچے کو اپنے سینے سے لگایا اور ولایت سے نواز دیا مریدین حیران ہوئے اور عرض کرنے لگے حضرت آپ کو تکلیف ملی مگر آپ نے ولایت سے نواز دیا تو اس اللہ کے ولیٰ نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے مخلوق کی بھلائی کے لیے ولایت سے نوازا ہے بچے درخت کو پتھر مار رہے تھے اور بدلے میں پھل حاصل کر رہے تھے اور مجھے پتھر لگا تو میں اسے کوئی پھل نا دیتا تو وہ درخت مجھ سے بہتر انعام دینے والا ہوتا ہمیں بھی پھل دار درخت کی طرح اپنی زندگی کو بنانا ہوگا جو ہمیں تکلیف دے ہم اسے اچھا دیں مگر جو اچھا دے اسے کبھی تکلیف نا دیں ۔بے شک ہم ساری دنیا کو خوشی نہیں دے سکتے مگر ہم کسی کو دکھ نا دیں یہ تو ہمارے بس کی بات ہے ۔میں ہاتھ جوڈ کر آپ سے التجاہ کرتا ہوں کہ سیاست کو پیچھے رکھ کر ایمان اور انسانیت کو آگے رکھیں کامیابی دلی سکون آپ کا مقدر ہو گی اور اس بات پر کوئی سمجھوتہ نا کریں کہ اللہ کے قانون کو توڈ کر کوئی آپ کو کامیابی بہتری سے ہمکنار کروا سکتا ہے۔ پیسہ ہوچاہے جیسا ہو ۔کی سوچ سے حلال کو شرمندہ مت کریں