Buy website traffic cheap

کالاباغ ڈیم

کالاباغ ڈیم

کالاباغ ڈیم
تحریر۔۔ سید کمال حسین شاہ
کالاباغ ڈیم یا کالاباغ بند حکومت پاکستان کا پانی کو ذخیرہ کر کے بجلی کی پیداوار و زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ تھا جو تاحال قابل عمل نہیں ہو سکا۔ اس منصوبہ کے لیے منتخب کیا گیا مقام کالا باغ تھا جو ضلع میانوالی میں واقع ہے اس منصوبہ سے حاصل ہونے والے فوائد میں بجلی کی پیداوار اور پانی کا ذخیرہ کرنا، جس سے زرعی زمین سیراب ہو سکتی ہے شامل ہے ….ے ، کالاباغ بند کا منصوبہ بلاشبہ اس کی ان ضروریات کو نہ صرف پورا کر سکتا ہے بلکہ یہ پورے ملک کے لیے سستی بجلی کا ایک مستقل ذریعہ بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ پانی زندگی ہے ، جہاں پانی نہیں، وہاں زندگی بھی نہیں بدقسمتی سے کالاباغ ڈیم کو سیاسی ایشو بنا دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ سیاسی ایشو نہیں ،بلکہ معاشی بقا کا معاملہ ہے ۔ غربت کے خاتمے اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے کالاباغ ڈیم ناگزیر ہے ،لہٰذا اس کی فوری تعمیر کے لئے اقدامات اٹھائے جائیںاس ڈیم کے لیے پہلا سروے غالباً برطانوی حکومت نے قیام پاکستان سے قبل کیا تھا۔قائداعظم کی اجازت سے فروری 1948ءمیں میانوالی کے مقام پر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیر کیا گیاایوب خان نے پانی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ضروری سمجھا مگر ایوب دور میں دیگر آبی منصوبوں کی تعمیر زور و شور سے جاری تھی کالاباغ کی باری آنے سے پہلے ایوب خان کی حکومت ختم ہوگئی۔بھٹو کے جمہوری دور میں پہلی بار اس ڈیم کو پاکستان کے لیے مضر قرار دیا گیا اور اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی گئی۔کالا باغ ڈیم پر صحیح معنو میں کام جنرل ضیائکے دور میں شروع ہواجنرل ضیا الحق کے حکم پر کالا باغ کی تعمیر کیلئے دفاتر تعمیر کئے گئے ، روڈ بنائے گئے اور مشینری منگوائی گئی۔ 1983ءمیں ڈاکٹر کنیڈی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق اس ڈیم کی اونچائی 925 فٹ ہو گی، 6….1 ملین ایکڑ فٹ پانی سٹور کیا جاسکے گا اس کی تعمیر میں زیادہ سے زیادہ 5 سال اور کم سے کم 3 سال کا عرصہ درکار ہو گا اور یہ پورے ملک کے 50 لاکھ ایکڑ بنجررقبے کو سیراب کریگا۔ 8 بلین ڈالر اس کی تعمیر پر خرچ ہوں گے ۔ 5000 میگا واٹ تک بجلی کی پیداوار حاصل کی جاسکے گی۔
جنرل ضیاءنے چاروں صوبوں کو پانی کی تقسیم کے ایک فارمولے پر راضی کیا اس معاہدے اور فارمولے کے مطابق پنجاب 37 فیصد سندھ 33 فیصد سرحد 14 فیصد اور بلوچستان 12 فیصد دریائی پانی لینے پر راضی ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی جنرل ضیائکو شہید کر دیا گیا۔ ضیاءکے بعد یہ منصوبہ دوبارہ کھٹائی میں پڑ گیا اور آنے والی دونوں جمہوری حکومتوں نے حسب معمول اس کو پاکستان کے لیے نقصان دہ قرار دینا شروع کیا2005ءمیں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ، “وہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کالاباغ بند تعمیر کر کے رہیں گے “ ملک بھر میں 6 بڑے آبی منصوبوں پر کام کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ” ڈیم نہیں بنائنگے تو مر جائنگے “۔ ان منصوبوں میں نیلم جہلم، کالاباغ، بھاشا، منڈا، اکھوڑی اور کرم تنگی ڈیم شامل ہیں….مشرف کے بعد آنے والا جمہوری دور ہر نےہمیشہ کے لیے دفن کرنے کا اعلان کر دیا۔
بحیرہ عرب میں دریائے سندھ کا شامل ہونا دراصل پانی کے ذخیرے کا “ضائع“ ہو جانا ہے یہ پانی ملک میں ان زمینوں کو سیراب کر سکتا ہے جو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے بنجر ہیںاس منصوبہ کی حمایت دراصل اس حقیقت سے بھی جڑی ہوئی ہے کہ کالا باغ بند سے تقریباً 3600 میگا واٹ بجلی حاصل ہو سکتی ہے جو پاکستان کی توانائی کے مسائل ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے کافی ہے پورے پاکستان میں ترقی کے نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو گی کیونکہ پانی سے پیدا ہونے والی بجلی دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کی نسبت انتہائی سستی ہے ۔ اگر کالا باغ منصوبہ پر آج سے ہی کام شروع کر بھی دیا جائے تب بھی اسے مکمل اور فعال ہونے میں کم از کم آٹھ سال کا عرصہ درکار ہے ،سستی بجلی کی وجہ سے کارخانوں میں اشیاء کی پیدواری لاگت نہایت کم ہوجاتی ہے جس کے بعد وہ عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کی اشیاء کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔
کالا باغ ڈیم پاکستان کی 50 لاکھ ایکڑ بنجر زمین کو سیراب کرے گا۔ نہری پانی کی فی ایکڑ پیدوار آجکل تین لاکھ روپے سالانہ ہے ۔ اس حساب سے صرف کالا باغ ڈیم سے پاکستان کو سالانہ 15 ارب ڈالر کی زائد زرعی پیدوار ملے گی جس کے بعد پاکستان زرعی اجناس میں سے کچھ بھی درآمد نہیں کرنا پڑے گا البتہ پاکستان کی زرعی برآمدات دگنی ہوجائنگی۔پاکستان کے تینوں بڑے ڈیموں تربیلا، منگلا اور چشمہ کی مجموعی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 13 ملین ایکڑ فٹ ہے جبکہ کالا باغ ڈیم اکیلے 6 ملین ایکڑ فٹ سے زائد پانی ذخیرہ کرے گا۔ ڈیم میں تین سال کے لیے پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا ….خیبر پختونخوا اور پنجاب کے جنوبی علاقے ، سندھ کے زیریں علاقے اور بلوچستان کے مشرقی حصے اس ڈیم کے پانی کی بدولت قابل کاشت بنائے جاسکتے ہے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع (کرک ، بنوں ، لکی مروت ، ٹانک اور ڈیرہ اسمٰعیل خان) کو زرعی مقاصد کے لئے مزید 20 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مل سکے گا اور وہاں کی تقریباً 8 لاکھ ایکڑ بنجر زمین قابل کاشت ہوجائیگی۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے سندھ کو بھی اضافی 40 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مہیا ہوگا ۔ سندھ میں خریف کی کاشت کے لیے پانی دستیاب ہوگا جس کی اس وقت شدید قلت ہے ۔ سندھ کے ریگستانی علاقوں کی پیاس کالاباغ ڈیم سے بجھ سکے گی ۔ اس زرعی پانی سے سندھ کی 8 لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہونے کے علاوہ سیم زدہ لاکھوں ایکڑ زمین قابل کاشت ہوجائے گی۔بلوچستان کو اس ڈیم سے 15 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مل سکتا ہے جس سے مشرقی بلوچستان کا تقیرباً 7 لاکھ ایکڑاضافی رقبہ سیراب ہوسکے گا اور شائد بلوچستان میں پہلی بار لہلہاتی فصلیں دیکھنے کو ملیںکالا باغ ڈیم بلاشبہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کا ضامن منصوبہ تھا، لیکن اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے سپیشل ڈیسک قائم کر کے اربوں روپے کے فنڈز مختص کر دیے ۔ڈیم پہ اعتراض کرنے والوں کے لیے سب سے بڑی مثال منگلا اور تربیلا ڈیم کی ہے ان کے بنائے جانے پر بھی بہت واویلہ مچایا گیا تھا مگر آج تک ہم سب انھی پن بجلی گھروں کی وجہ سے سستی بجلی اور پانی کے ذخائر سے مستفید ہوتے رہے ہیںتمام سیاست دانوں اور خاص طور پر حکمرانوں سے پر زور اپیل ہے کہ خدارا ! اب وقت آ گیا ہے اپنی اپنی ذات کے حصار سے باہر آ کر ذرا ملک کا بھی تو سوچیں آج اگر ہمارے ذہنوں میں کاش کی خلش موجود ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آیندہ آنے والے نقصانات پر ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کر پائیں ۔آج ہمیں ایک فرد نہیں ایک قوم ہو کے سوچنا ہے کیونکہ ہماری قومی سوچ ہی ہمیں نہ صرف ان مسائل کا حل دے سکے گی بلکہ دور نظر آنے والی منزل کی گرد بھی صاف کر دے گی ۔ آئیے آج ہم سب کالاباغ ڈیم کو ممکن بنا کر اپنے ملک کو ترقی کے راستے کی طرف لے کر جانے کا پہلا قدم اٹھائیں منزل دور ضرور ہے پر منزل موجود ہے