Buy website traffic cheap


کامیاب لوگوں کی داستان

کامیاب لوگوں کی داستان
امداداللہ طیب
***
کامیابی کی داستانیں لوگوں کو ترغیب دیتی ہیں، یہ کہانیاں لوگوں میں حالات کو ساز گار بنانے کے لیے جدوجہد کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔کامیابی کا راستہ بتاتی ہیں۔یہ کہانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ معاشرے میں محنت اور جدوجہد کے بغیر کامیابی ممکن نہیں، زمانے میں پھیلی ایسی بیسیوں کہانیاں ہمیں ملتی ہیں، جو ایک زمانے تک لوگوں کو تحریک دیتی رہتی ہیں۔ایسی ہی ایک کہانی اٹلی کے ایک سائنسدان کی ہے جس نے عربی زبان سیکھی، یہ سائنسدان میڈیکل سے تعلق رکھتا تھا۔
اس نے یونانی طب پر کئی کتابوں کا مطالعہ کیا، ان میں سے اسے دو کتابیں اچھی لگیں، تو اس نے ان کتابوں کا ترجمہ عربی سے اطالوی زبان میں کیا، ان کتابوں کو بہت شہرت حاصل ہوئی، عین اسی وقت اس کی طبیعت خراب ہوئی، چیک اپ کے بعد جو ڈاکٹر نے اسے بتایا! وہ حیران کر دینے والی بات تھی۔اس نے کہا کہ تمہیں کینسر ہے، اس کی دوائی ہمارے پاس نہیں ہے، اس کے پھیلنے کی وجہ سے دو سالوں میں تجھے موت آ جائے گی۔اس نے ڈاکٹر کی بات سنی ان سنی کر دی، اور واپس چلا آیا! کہنے لگا کہ اب میرے پاس وقت بہت کم ہے اور میرا کام زیادہ ہے۔لہٰذا اس نے طب یونانی پر اس وقت جتنی کتابیں تھی وہ اچھی طرح دیکھ لیں، اور جو کتابیں اچھی لگتیں ان کو گھر لے آتا..
گھر آ کر اس نے کچھ لوگوں کو اپنا معاون بنا لیا، اور ان کو کہا کہ کتابوں کی ٹرانسلیشن میں جہاں کہیں اصطلاحات ہوں گی ان کا ترجمہ میں خود کروں گااور روٹین کی عبارت میں تم میری مدد کرو گے۔آپ حیران رہ جائیں گے کہ اس بندے نے دو سالوں میں ان کتابوں کا عربی میں اطالوی زبان میں ترجمہ کر دیا۔اور آج اس کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں دنیا کا سب سے بڑا ترجمان کے طور پر لکھا ہوا ہے..
ایسے ہی ایک نوبل پرائز ونر کی ہسٹری کی چند جھلکیاں پڑھنے کا اتفاق ہوا،!لوگوں نے اس سے سوال کیا، کہ آپ نوبل پرائز ونر کیسے بنے؟ اس نے کہا کہ میں بہت زیادہ محنتی ہوں۔لوگوں نے کہا کہ سائنس کا ہر طالب علم محنتی ہوتا ہے، اس نے کہا کہ میں بہت زیادہ محنتی ہوں، استفسار پر اس سے پوچھا گیا، کہ آپ کیسے اتنے زیادہ محنتی ہیں؟ وہ کہنے لگا کہ آپ اندازہ لگائیں کہ میں نے کیمسٹری کی کتاب ایک مرتبہ پڑھی تو مجھے سمجھ نہ آئی، دوسری بار پڑھا، تیسری بار پڑھا، حتی کہ میں نے اس کتاب کو 63 دفعہ پڑھا، تو کتاب مجھے یاد ہو گئی۔
نیوٹن نے جب حرکت کے قوانین بنائے تو اسے بہت کام کرنا پڑھا۔اس کے کمرے میں کاغذ پھیل گئے، جب اس کا مسودہ تیار ہو گیا تو وہ بہت خوش ہوا ،اسی دوران اسے واش روم جانا ہوا، ابھی وہ واش روم میں ہی تھا کہ اس کا کتا کمرے میں داخل ہوا جس سے کاغذوں کے اوپر رکھا چراغ نیچے گر گیا اور اس کا مسودہ جل گیا۔اس نے آگ بجھائی اور اپنے کتے ٹونی کو کہا۔ٹونی! تم نے میرا کام بڑھا دیا ہے یہ کہہ کر نیوٹن دوبارہ کام میں لگ گیا اور سال کے اندر ہی اس نے حرکت کے قوانین کو لکھ لیا۔
آئن سٹائن آج کی سائنسی دنیا کاپوپ مانا جاتا ہے، اس کی ہسٹری میں لکھا ہے کہ اپنے بچپن میں جب وہ سکول جاتا تھا تو بس کنڈیکٹر سے پیسے کا لین دین کرتا تو وہ اس سے روزانہ جھگڑا کرتا کہ تم نے مجھے پورے پیسے واپس نہیں کیے لیکن آئن سٹائن جب دوبارہ گنتی کرتا تو ٹھیک ہوتے۔جب کئی دفعہ ایسا ہوا تو بس کنڈیکٹر نے کہا کہ تم کیا پڑھنے جاتے ہو تمہیں تو گنتی اچھی طرح نہیں آتی۔یہ بات اس کے دل میں گھر کر گئی اور اس نے عہد کر لیا کہ وہ حساب میں محنت کرے گا۔چنانچہ اس نے اتنی محنت کی کہ اس نے Theory of Relativity کا نظریہ پیش کیا جو آج کی دنیا کا بڑا سائنسی نظریہ مانا جاتا ہے۔
دھیر بھائی امیانی انڈیا کا رہنے والا ہے۔والدین اور سارا خاندان کاروبار کے طریقے سے نا آشنا ہے، صرف 1200 سو روپے سے اس نے کاروبار شروع کیا تھا۔آج مسلسل محنت اور لگن کے بعد وہ 400 کروڑ کا بزنس مین ہے۔