Buy website traffic cheap


کانٹے دار مقابلہ کے بعد علیم خان چاروں‌ شانے چت

کانٹے دار مقابلہ کے بعد علیم خان چاروں‌شانے چت……… پرائیویٹ ٹی وی چینل ٹی وی کے سروے کے مطابق ایاز صادق اور علیم خان کے حلقے میں ماضی کی طرح لیگی رہنما 50 فیصد کیساتھ آگے ہیں جبکہ علیم خان 43 فیصد کیساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں جبکہ 7 فیصد دیگر دوسری جماعتیں ہیں۔ یاد رہے 2013 کے الیکشن میں ایاز صادق نے عمران خان کو شکست دی تھی جس کے بعد ضمنی الیکشن ہوا لیکن اس میں بھی لیگی رہنما ہی کامیاب رہے۔

—————————

یہ خبر بھی پڑھیئے

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مدت میں توسیع کا مطالبہ
مدت 1سال بڑھائی جائے،سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد اسکیم سے مستفید ہونا چاہتی ہے،
صدرپاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم
کراچی—ریئل اسٹیٹ سیکٹر نے سابقہ حکومت کی متعارف کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کوکامیابی سے ہمکنارکرنے کے لیے اس سے استفادے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کردیا ہے۔پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم کے صدرشعبان الٰہی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ بیرونی ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانیز اورمقامی لوگوں کو 2 سے5 فیصد ٹیکس ادائیگی پر اپنے غیرظاہرشدہ اثاثوں اور آمدنی کوقانونی درجہ دینے کی پیشکش کرے، حکومت پاکستان کو ایمنسٹی اسکیم انڈونیشین ماڈل پر چلانی چاہیے اور اس سے بھرپورفائدہ اٹھانے کے لیے اس کی مدت کوکم ازکم 1سال تک بڑھانا چاہیے۔حکومت پاکستان کی اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مدت30 جون2018 کو ختم ہوجائے گی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اس اسکیم کے تحت3.5 ارب ڈالر قومی خزانے میں آنے کی توقع تھی، انڈونیشی ماڈل میں ایمنسٹی اسکیم کی پیشکش 1 برس پر محیط تھی۔انڈونیشی ماڈل کے تحت ایمنسٹی اسکیم کے اعلان کے پہلی سہ ماہی میں غیرظاہر کردہ دولت کو ٹیکس نیٹ میں لانے والوں سے انتہائی کم شرح سے ٹیکس وصول کیا گیا تھا اس کے بعد انڈونیشیا کی حکومت نے مرحلہ وار ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا اوراختتامی 3 ماہ میں اپنی دولت کو ٹیکس نیٹ میں لانے والوں پر سب سے زیادہ ٹیکس لاگو کیا گیا تھا۔فورم کے صدر شعبان الٰہی نے موجودہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ وہ اسکیم کی حتمی تاریخ میں کم ازکم 3 ماہ کی توسیع کرنے کے احکام جاری کریں تاکہ آخر میں اس اسکیم سے استفادہ کرنے والوں سے زیادہ شرح ٹیکسوں کے ساتھ قومی خزانے میں زیادہ وصولیاں ممکن ہو سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اسکیم سے مستفید ہونا چاہتی ہے اور اس اسکیم میں حکومتی دلچسپی کے سبب غیرملکی زرمبادلہ حاصل ہوسکے گا اور اس زرمبادلہ کی ملک کواشد ضرورت ہے۔

JUNE,2018 15