Buy website traffic cheap

Latest Column, Hafiz Usman Ali Muawia , Hazrat Abu Bakr Siddique R.A

کوچہ بام کی سیاست

کوچہ بام کی سیاست
تحریر: ڈاکٹر عثمان غنی
تعریف کا تعلق شکر سے ہے اس ذات باری تعالیٰ کاجو دونوں جہانوں کا خالق ہے اور تنقید کا تعلق صبرو ررضاسے ہے ٹھنڈے دل ودماغ سے کام لینے سے ہے ۔
مصنوعی تعریف اور غیر ضروری تنقید نے اصابت فکر اور توانا معاشرے کی راہ میں جابجا کا نٹے بچھا دیئے ہیں ۔ گویا اختلاف اور تنقید میں فرق مٹا دیا گیا ہے ، ایک شاعر کی کہانی یادآئی ۔
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سراٹھا کے چلے
احمد مشتاق معیاری اور خوبصورت شاعر ی کے خالق ہیں خوبی انکی یہ بھی ہے کہ وہ شاعری کو گوشہ بام سے زمین کی کھلی فضاء اورتازہ ہوا تک لے آئے تھے، بام کا ماحول ضد ہے گلیوں کوچوں کے ماحول کی اور عام طرز کے مکانوں اوردوکانوں کے حالات واحوال کی۔میٹھی ہوا ،بہتی ندیاں ، تیرتے چشمے ،نیلگوںآ سمان کی براہ راست چھاؤں، چاند کی محبت کے جذبے سے لبریز کرنیں گویا کوچہ بام کی دنیا سے کو سوں دور ہیں ،یہ احمد مشتاق ہی کا خاصہ تھا کہ وہ شاعری کوکوچہ بام سے گارے مٹی سے اٹی ہوئی دھرتی سے روشناس کرا گئے تھے ، وہ لکھتے ہیں ۔
بجھ گیا منظر کنارہ بام
دوستوں بام پر نہیں کوئی
سلسلہ مجنوں کو مزید واضح اورکشادہ مہربان دوست اور شفیق استاد ڈاکٹر ابرار عمرنے کر رکھا ہے یہ احمد مشتاق والے سلسلے ہی کی ایک کڑی ہے کہ ابرار بھائی نے نہ صرف شاعری کو نوجوان نسل سے متعارف کر انے میں توانااور مضبوط کردار ادا کیا ہے بلکہ شاعری کو مہنگے اورآرائشی ہوٹلوں کے چنگل سے آزادکرا کے عام طرز کے بنے ہوئے مکانوں پرمشتمل کمروں اورصحنوں میں پہنچا دیا ہے ، مشاعروں کی زینت بنا دیا ہے۔ نوجوان نسل تک شاعری کی براہ راست رسائی کا سہرا ڈاکٹر ابرار عمر کے سر ہے ،ان کی زبان زد عام غزل کا ایک شعر دیکھیئے اور سر دھنتے رہ جائیے ۔
ایک کمرے میں کتنے کمرے ہیں
میں تو گھبرا گیا تھا کمرے میں
شاعری کی خاص ماحول سے عام ماحول تک رسائی کا چکر پورا ہو چکا ہے ، کوچہ جاناں میں جو چاہے قسمت آزمائی کر سکتا ہے یہاں کشادگی کی کوئی انتہا نہیں مگر کوچہ سیاست کی تنگ وتاریک گلیوں میں ایسی سہولت ہر گز ممکن نہیں ۔ سیاسی ہاتھوں کی لکیروں میں عام ماحول ایسی کوئی لائن موجود نہیں اس سیاسی ہاتھ کی لکیروں میں سب لکیریں خاص ماحول سے تعلق رکھتی ہیں ، تحریک انصاف کو شکرا دا کرنا چاہیے کہ کارکنوں کوا س جماعت سے مثبت اور حقیقی امیدیں وابستہ ہیں کہ اس جماعت کی پارلیمانی کمیٹی کے فیصلوں سے کھلم کھلا اختلاف کیا جاسکتا ہے تبھی تو وہ بنی گالہ کے سامنے دھرنا دے رہے ہیں ، باقی کسی بھی جماعت کے کارکنان دور دراز کی اکا دکااطلاعات کے علاوہ ایسا کر نے کا سوچ بھی نہیں سکتے ، رائے ونڈتک کارکن احتجاج کے لیے جاسکتے ہیں نہ نو ڈیروتک ان کی رسائی ممکن ہے ، لیکن بنی گالہ تک رسائی کے لیے درپیش راستوں کو کارکنوں کے لیے مزید سہولت مند بنانا ہوگاتاکہ وہ براہ راست نیک جذبوں پر مبنی اپنی گزارشات اورسفارشات اعلیٰ قیادت کی خدمت میں گوش گزار کرسکیں ، یقیناکچھ حلقوں میں ٹکٹوں کی تقسیم میں توازن سے کام نہیں لیا ، ان حلقوں میں پارٹی قیادت کو غور کر نا چاہیے ، بانی کا رکنان کو مایوس کر کے روایتی شکروں اور گدھوں کو ٹکٹوں سے نوازنا کوئی کامیاب حکمت عملی نہیں ، آزادکشمیر کے الیکشن کا نتائج کوئی پرانی بات نہیں مگر اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور انہیں دور کرنے کا وقت اس جماعت کے پاس بھی بہت کم ہے یقیناًعمران جان چکے ہیں کہ الیکشن جتنے کے لیے روایتی سیاستدانوں کے بغیر گزارہ ممکن نہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ بات صرف نظر کر رہے ہیں کہ پچھلے عام انتخابات میں نئے چہروں کو بھی ’’تبدیلی ‘‘کے منشورپرلاکھوں کی تعداد میں ووٹ ملے تھے ۔
تحریک انصاف کا مقابلہ مسلم لیگ نون سے ہے جو بہت کچھ ہونے اور کھونے کے باوجود بھرپور مقابلہ کرے گی کسی خوش قسمتی میں مبتلا ہوکر اس جماعت کے اکابرین الیکشن سے پہلے ہی اپنے آپ کو فاتح تسلیم کر چکے ہیں ،دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا توکئی کمند یں شکست وریخت کاشکار ہورہی ہیں۔ سیاست کی موجیں بے رحم موجیں ہیں نہ جانے اس جھیل میں کب دلدل نکل آئے کسی کو کچھ معلوم نہیں ، تحریک انصاف نے بھی اگر اپنے سٹال کوچہ بام ہی میں سجانے ہیں تو پھر یہاں اور و ہاں میں فرق کتنارہ جائے گا، سوچنا پڑے گا۔