Buy website traffic cheap


‘‘گلشن کے محافظ‘‘

لاہور(ویب ڈیسک): ‘‘گلشن کے محافظ‘‘
خاور ساہی
شہیدوں کا لہو وہ آسماں ہے جس کے سائے میں سنور جاتی ہیں تاریخیں نکھر جاتی ہیں تہذیبیں۔
کئی روشن چہرے اس خاک وطن کی روشنی کیلئے قربان ہو گئے۔ان کی جدائی کا دردکبھی کم نہیں کیا جاسکتا۔انکے حسین چہرے آج بھی ہمارے قومی چہرے کا حسن ہیں۔انہی کی مثالوں، یادوں، تصویروں اور نشانیوں کی بدولت ہمارا قومی سفر جاری ہے۔جب مشکل گھڑی آن پڑتی ہے ان کی بہادری کی بے مثال داستانیں ہی ہم میں جرأت پیدا کرتے ہیں، ناامیدی میں جذبوں کی حرارت کا سبب بنتی ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ انہی شہدا کی بدولت دنیا میں آج ہم نے اپنا وجود برقرار رکھا ہوا ہے۔ دوستو ہمیں ان کا خون اور قربانی ہی زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سال۲۰۰۹ جب پاک فوج نے ایک مشکل ترین محاذی عسکری آپریشن‘‘شیر دل‘‘ کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کا آغاز مہمند ایجنسی جو کہ طالبان کے نیٹ ورک کا مرکز بنا ہوا تھا اس کو تباہ کرنے کیلئے کیا گیا۔ اس آپریشن میں شامل ایک جانباز لیفٹینینٹ فیض سلطان بھی تھے، جو کہ میرے قریبی رشتہ دار تھے۔وطنِ عزیز کے اس سپوت کا تعلق چکوال سے تھا۔ مٹی کی اس بہادر بیٹے نے اس خطرناک محاذ پر جرات و بہادری کی ایک بے مثال داستان رقم کی اور اپنے خون سے اس وطن کی آبیاری کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔یہ جانباز اس وطن کا دفاع کرتے ہوئے ۵۳ دہشتگردوں کو مار کر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر گیا، آپ سے ملاقات آپکی زندگی میں تو نہ ہو پائی مگر آپ کی بہادری کے قصے آپکی فیملی اور دوستوں سے سنتا رہتا ہوں ان کے والد بتاتے ہیں کہ جب یہ چھوٹا سا تھا تب سے میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنے اس بیٹے کو پاک فوج میں بھرتی کرواؤں گا۔ بہن کا بیان تھا کہ میں بھائی کی ڈائری پڑھ رہی تھی جس میں ان کے الفاظ تھے‘‘ کہ جب سارا وطن سوتا ہے تو ہم جاگتے ہیں اور جب ہم سو جاتے ہیں تو سارا وطن ہم پر فخر کرتا ہے‘‘ بہن شروع سے بھائی کو‘‘چیف‘‘ کہہ کر پکارتی تھی وہ چاہتی تھی کہ میرا بھائی بڑا ہو کر چیف آف آرمی سٹاف بنے۔مگر وہ شخض ایسا کام کرگیا کہ دنیا میں ہی جنتی ہونے کا شرف پا لیا۔سوچتا ہوں کہ جب ان کے گھر میں ان کے پیارے، ان کے بڑھاپے کے توانا سہارے، ان کے جگر کی ٹکڑے کی لاش سامنے رکھی ہو گی تو اس وقت ان کی کیفیات کیا ہوں گی، کیا گزری ہو گی۔ آج جب اس کی بہن کا ایک اور انٹرویو نظر سے گزرا تو اس میں فخر کی ایسی جھلک کہ کیا بات مگر وہ اداسی والے فقرے کہ آنسو حلق میں دبانا بھی مشکل پڑھ جائیں۔ جب اپنے وطن کو اس کے باسیوں کو درد سے چلاتا ہوا دیکھوں تو تکلیف تو ہوتی ہے نہ۔ خدا غرق کرے خوارج نجس پلیددشمنوں کو جنکی وجہ سے ایسے کئی جوان ہم سے جدا ہو گئے۔ یہ آفتیں ہم سے ہمارے اپنے تو چھین لیتی ہیں مگر ہمارے جوش و جزبے میں ذرا لغزش نہیں لا سکتیں۔ اب میرے آرمی جوائن کرنے کے خواب نے اور بھی زور پکڑ لیا ہے، یہ رتبہ نہ سہی پر یہ وردی اوڑھ کر ان شہیدوں کا بدلہ ضرور لوں گا انشائاللہ۔
میں ایک اور بات کرتا چلوں یہ جو آجکل ہم اپنی آرمی کو کوس رہے ہیں کہ یہ ہمارے نوکر ہیں، دہشتگردی کے پیچھے وردی ہے، یہ اسٹیبلیشمنٹ، یار کبھی یہ سوچا کہ اگر یہ الفاظ کسی شہید کے باپ ، ماں، بچے،اسکی بہن یا بھائی کی نظر سے گزرے ہوں تو ان پر کیا بیتے گی، خدارا خیال کرو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان، اگر اس چار دیواری میں تھوڑا بہت امن ہے تو یہ سب اس وردی ہی کی بدولت ہے، ورنہ یہ ناگزیر سیاستدان تو ملک وطن تو اب تک بیچ ڈالیں۔ایسا ملک جس کی سرحدوں پر ۴۲ گھنٹے دشمنوں کی نظریں ہیں اور وہ سب موقع کی تلاش میں ہیں۔ اگر یہاں کہ لوگ یہ بھی نہ سمجھیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ دشمن ممالک رکھنے والا ملک بھی اپنے ساخت ابھی بحال کیے بیٹھا تو یہ کس کے مرہون منت ہے۔ عزیزانِ وطن میں اپنے وطن کے شہداء کی یہ بے توقیری دیکھ کر لرز اٹھتا ہوں اور دل سے یہ کسک سی اٹھتی ہے کہ یہ قوم دھماکوں اور حملوں ہی کی مستحق ہے مگر پھر دل میں خیال آجاتا ہے کہ یہ وطن تو اپنا ہے اس میں رہنے والے تو اپنے ہیں کیا ہو جو زبان دشمن کی بولتے، کیا ہوا جو اہل و عیال سے دور دفاع وطن کے مورچے پر ڈٹے سپاہی کا مورال اپ کرنے کی بجائے اس کی کردار کشی کرکے اس کا مورال ڈاؤن تو کرتے ہیں مگر ہیں تو اپنے نا اور پھر ان وردی والوں کی زندگیوں اور کردار پر بھی مجھے رشک آتا ہے ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں کہ ہر درد دل پر سہے جاتے ہیں، ہر الزام پی جاتے ہیں، ہر گالی ہنس کر برداشت کرجاتے ہیں پلٹ کر جواب نہیں دیتے مگر جب بات دھرتی ماں کی آتی ہے تو سینہ سپر ہوجاتے ہیں دشمن کا پیچھا اس کی کوکھ تک کرتے ہیں اور اس کو جالیتے ہیں پھر ان وردی والوں میں سے کچھ اللہ سے کیا ہوا وعدہ شہادت پورا کرجاتے ہیں اور کچھ پھر سے منتظر کسی نئے معرکے کے کسی نئی کاروائی کے مگر عزم و حوصلہ ذرا برابر بھی نہیں بدلہ تو میں بلا جھجک یہ کہنا چاہوں گا کہ‘‘یہ جو دہشتگردی ہے اسکے سامنے سینہ تان کی کھڑی وردی ہے’’شاید انہی لوگوں کے لیے شاعر نے کہا کہ
خون دل دے کر نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے