Buy website traffic cheap

حقیقی محسن

ہدف

ہدف
پرواز
نویداسلم
آپ ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں لوگ بہت جلد منزل پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ آپ صبح فجر کی نماز مسجد میں ادا کرنے جائیں تو دیکھتے ہونگے کہ نمازی نماز ادا کرتے میں کتنی جلدی کرتے ہیںآپ اِس کے بعد گھر آئے تیار ہو کر آفس، کالج، یونیورسٹی کے لیے نکلے تو راستے میں دیکھا کہ لوگ کس طرح ایک دوسرے سے آگے نکلنا چاہتے ہیں، آپ نے آفس پہنچ کر دیکھا کہ کیسے لوگ ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں، آپ یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک وقت میں لوگ کئی کام کر رہے ہوتے ہیں، مگر پھر بھی کامیاب نہیں ہو پاتے ، کیوں؟ اس تمام عمل میں صبح سے شام تک آپ اگر خود پر بھی نظر دوڑائیں تو اس نتیجہ پر ضرور پہنچیں گے کہ آپ بھی دوسروں کی طرح ریس میں بغیر کسی Targetکے لگے ہونگے اور تمام انرجی اسی طرح ضائع کر رہے ہوں گے۔ اس سارے عمل کی وجہ کیا ہے؟ آئیے ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں،جب آپ کسی ایسے شخص کو دیکتے ہیں جو صاحب علم ہے،اُس نے وقت کے ساتھ علم حاصل کیا ہوتا ہے۔ جب آپ کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جوبہت زیادہ مہارت کا حامل ہے ،اُس نے وقت کے ساتھ مہارت حاصل کی ہوتی ہے۔ جب آپ کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جس نے کامیابی حاصل کی ہو،اس نے وقت کے ساتھ اسے حاصل کیا ہوتا ہے۔جب آپ کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جس کے پاس بہت سی دولت ہے،وہ وقت کے ساتھ ہی کثیر دولت کے مالک بنے ہوتے ہیں۔جب آپ کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جس کے دوسروں کے ساتھ اچھے اور مظبوط تعلقات ہوں،وہ وقت کے ساتھ ہی ایسے تعلقات بنا پاتے ہیں۔اصل راز یہ ہے کہ کامیابی وقت کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔ کامیابی سلسلہ وار ہوتی ہے،کامیابی یہی ہے کہ ایک وقت میں اپنا ایک ترجیحی ہدف مقرر کیا جائے۔ہم ہدف پر جانے سے پہلے ترجیح پر بحث کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم اکثر ترجیح دیتے وقت غلطی کر جاتے ہیں۔ہم کئی کاموں کو ترجیح کی فہرست میں لکھ دیتے ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔یہ غلط تشریح ہے۔ اگر اسے واضح انداز میں کہا جائے تو لفظ ترجیحات نہیں ترجیح اورلفظ ترجیح(priority)کو لاطینی زبان کے ایک لفظ (prior)سے چودھوی صدی میں اخذکیا گیا۔جب کوئی بھی شخص اپنے لیے کسی چیزکوسب سے اہم سمجھتا ہے تو یہ اس کی ترجیح ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ لگ بھگ بیسوی صدی تک لفظ ترجیح غیر مقبول رہا۔جب دنیا نے اسے سمجھتے ہوئے ، کوئی اہم چیز کا مفہوم دیا۔ اس میں پوشیدہ اس کی ابتدائی غرض و غائیت سے بے خبر ہوتے ہوئے بہت سے لوگ اس کا مفہوم بہت ضروری کام سمجھنے لگے اور آج ہم ترجیح کو اس کے سابقہ معنی میں اعلی ترین ، بلند ترین، پہلا، مرکزی ، اور انتہائی اہم کا اضافہ کر کے اس کا مفہوم سامنے لاتے ہیں جس سے مراد یہ ہے کہ لفظ ترجیح بہت ہی دلچسپ سفر کے بعد اپنے آخری مفہوم تک پہنچا ہے۔اس لیے آپ اپنی زبان کا جا ئزہ لیں۔آپ ترجیح کی تشریح مختلف انداز میں کر سکتے ہیں لیکن آپ جب بھی غیر معمولی نتائج کے حصول کے لیے جن الفاظ کا بھی انتخاب کریں گے آپ کے کہنے سے مراد صرف ایک چیز ہوگی وہ واحد چیز آپ کا ہدف ہوگا۔وہ آپ کا مقصد ہوگا۔اسے آپ اپنی ترجیح کہیں گے اور اسے حاصل کرنے کے لیے آپ کو وقت درکار ہوگا۔اس وقت میں آپ اپنا واحد ہدف حاصل کر سکیں گے۔ آپ اپنے ہدف کو کس طرح باآسانی حاصل کر سکتے ہیں اس کے لیے چند جملے ملاحظہ فرمائیے: آپ جس مقصد میں کامیابی چاہتے ہیں اپنے اس ہدف کو حاصل کرنے لیے ایک وقت متعین کیجیے فرض کیجئے آپ پانچ سال میں اپنا ہدف حاصل کرنا چاہتے ہیںآپ اس کام مقصد کو پانچ سالوں کے وقت پر تقسیم کریں ، ایک سال میں آپ کتنا کام کریں گے کہ آپ پانچ سال میں اپنا ہدف پورا کر لیں ، پھر ایک ماہ میں کتنا کام کر سکیں کہ پانچ سال میں اپنا ہدف پورا کر سکیں گے،پھر ایک ہفتے میں کتنا کام کریں کہ آپ پانچ سال میں اپنا ہدف پورا کر سکیں گے ،پھر ایک دن میں کتنا کام کریں کہ پانچ سال میں اپنا ہدف پورا کر سکیں گے۔یہ سب درست ہو گا وقت کی تقسیم سے کیونکہ کامیابی سلسلہ وار ہوتی ہے۔