Buy website traffic cheap

ضرورت اس امر کی ہے

یقیناً سادگی ایمان سے ہی ہے

یقیناً سادگی ایمان سے ہی ہے
نصرت عزیز
دنیا کا کون سا ملک ہے جو قرضوں کے بوجھ تلے دباہوانہیں ہے ،کیا امریکہ، چائنا ، جاپان یا جمہوریت کاعلم بردار بھارت؟کوئی بیرونی قرضوں میں جکڑا ہے تو کوئی اندرونی ، کوئی آئی ایم ایف سے ڈرا ہے تو کوئی مالیاتی بنکوں سے۔۔۔اقتدار پر برجمان سربراہان اسی ڈرو خوف میں حکومتی دورانیہ گزارتے ہیں او ر ملک کی باگ ڈور کسی اور کو سونپ کر ایک طرف ہوجاتے ہیں۔الیکشن جیتنے کے لیے ان قرضوں کا کارڈ عوام کے سامنے پھینکا جاتاہے کئی تو کامیاب ہوجاتے ہیں اور کئی کارڈ کو اگلے الیکشن تک سنبھال لیتے ہیں کیوں کہ وہ بھی جانتے ہیں کہ ملکی قرض اتارنا اتنا آسان نہیں جتنا انتخابی سرگرمیوں میں عوام کے سامنے بیان کیاجاتاہے لہٰذا اس کارڈ کو اگلے الیکشن کے لیے وہ سنبھال کررکھ دیتے ہیں۔
ان میں کم ہی ہیں جو اقتدار میںآتے ہیں اس سعی میں جت جاتے ہیں کہ کسی طرح ملکی قرضوں کو ختم کیاجائے یا کم ازکم اس لعنت کو ملک و قوم کے لیے کسی حد تک کم کردیا جائے ۔ خیر شروع میں توسبھی اس کوشش میں ہوتے ہیں مگر جب ایک دوسال تک اس سعی کو لاحاصل پاتے ہیں تو جہاں ہے جیسا ہے کی منطق کواپناتے ہوئے اس مسئلہ کو ایک طرف کرکے دوسرے ملکی ، غیر ملکی اورسب سے بڑھ کر ذاتی معاملات میں کھپائی شروع کردیتے ہیں ۔یہ سعی لاحاصل جس کاذکر اوپر بیان کیاگیا ہے جس کاشکار اقتدار پرموجودافراد ہوتے ہیں اس کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں جن میں ملک میں قانون وانصاف کایکساں نہ ہونا، سیاسی استحقام کانہ ہونا، امن وامان، ٹیکسوں کابے ترتیب سانظام، کرپشن کاگرم بازار وغیرہ نمایاں عناصر ہیں اس سعی کو لاحاصل کرنے میں ۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک عنصر جوکافی حد تک ملکی قرضوں میں کمی میں کسی نہ کسی حد تک اپنا حصہ ڈالتا ہے وہ سادگی ہے :سربراہان ملک کی طرف سے بھی اور عوام کی طرف سے بھی ۔
ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ پاکستان کے ماضی کے سربراہان نے اپنے ذاتی اخراجات یاملکی وغیر ملکی دوروں پر ہونے والے اخراجات اپنی جیب سے دیے یا ملکی خزانے کو نچوڑا مگر یہ حقیقت ہے کہ سادگی نہیں اپنائی گئی لہٰذایہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ماضی کے سربراہا ن نے ملکی قرضوں سے اس مملکت کو اورعوام کونجات دلانے کے لیے کوشش نہیں کی۔
حضرت عمر فاروقؓ مملکت اسلامیہ کے سربراہ معلم ومربی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کامنظربیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’میں نے دیکھا کہ ایک کھجور کی چٹائی پڑی تھی ، ایک کونے میں تھوڑے سے جَو پڑے تھے،دیوار پرایک بکری کی کھال لٹک رہی تھی ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پرکھجور کی چٹائی کے نشا ن موجود تھے اور جسم مبارک پرایک تہہ بند اورموٹی چادر تھی ‘‘(صحیح بخاری)
پوری کائنات اس سربراہ مملکت اسلامیہ کے لیے بنائی گئی تواس سربراہ کے لیے کس چیز کی کمی تھی مگرسادگی کواپنایا۔۔۔کیوں۔۔۔کیوں کہ سادگی کو اپنانے میں جوفوائد مملکت اور عوام کوہوتے ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں۔پھر تاریخ نے دیکھاکہ خلفاء راشدین نے بھی سادگی کے عمل کی ترویج اپنی ذات سے کی اور عوام کوفائدہ پہنچا۔تبھی آسمان نے وہ دور بھی دیکھا کہ زکوٰۃ دینے والے زکوٰۃ کے مستحق کو ڈھونڈتے رہے مگرانھیں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ملا۔۔۔یہ سب سادگی کے آفٹرشاکس ہیں جو تاریخ میں ایک روشن با ب کی صورت محفوظ ہوجاتے ہیں ان کے لیے جو معاشی طور پر اپنا اور اپنے ملک وقوم کافائدہ چاہتے ہیں ۔
یہاں میں رواں ہفتہ اخبار میں شائع ہونے والی یونان کی اس خبر کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھوں گاکہ جس میں یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ یونان نے سادگی اپنا کربیرونی امداد سے چھٹکارہ پالیا ہے ۔ مجھے پتا ہے کہ میر ے احباب میں کچھ افراد ایسے ہیں کہ جو غیر مسلم ممالک کی مثالیں دینے پر ناک چڑھاتے ہیں اورایسا احتجاج کرتے ہیں کہ میری تمام دلیلیں ان کے سامنے رائیگاں جاتی ہیں۔۔۔خیر مثبت چیز میں بھی منفی نقاط نکالنا ہمارا شیوہ بن گیا ہے توکیاکسی سے بحث ومباحثہ کیاجائے ۔ خیر خبر یہ ہے کہ یونان سخت ترین معاشی بحران کا شکار تھا اور یہ بحران اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ بیرونی قرضے ملنا مشکل ہوگیا تھا ۔اس بحران پر قابو پانے کے لیے یونان نے اپنے سرکار ی اخراجات کو انتہائی کم کیاجس کودیکھتے ہوئے عوام نے بھی اپنے اخراجات کو کم کرکے سادگی اپنائی اور آج یونان نے نہ صرف معیشت میں بہتری پائی بلکہ بیرونی امدادی پیکجز سے بھی چھٹکارہ پالیا، یونان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا اورملک میں بیروزگاری کی سطح 20فی صد سے کم ہوگئی ہے ،یونان کی سرکار نے سادگی اپنانے پرعوام کاخصوصی شکریہ اداکیا ۔
18اگست کو حکمرانیت کے منصب پر فائز ہونے والے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں بھی عوام کو سادگی وکفایت شعاری اپنانے کامشورہ دیا ، اس مشورہ کی خاص بات یہ کہ موصوف نے خود سادگی وکفایت شعاری اپنانے کا تہیہ بھی کیا۔دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے اس عزم میں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں مگر چوں کہ امید اچھی رکھنی چاہیے لہٰذاہمیں بھی اچھی امید ہے باقی رہا منفی سوچ تو وہ اس قوم کا شیوہ بن چکا ہے۔یو این اجلاس میں جانے والے چالیس افراد کی لسٹ جب وزیراعظم کے سامنے پیش کی گئی تو وزیراعظم نے لسٹ پھاڑ دی اور صرف4افراد کا نا م تجویز کیاجو اس دورہ میں ملک سے باہر جائیں گے ۔۔۔یہ اطلاع تبھی اچھی ہوگی جب ایسا ہواورنہ ہماری قسمت ۔
الغرض سادگی جہاں ملک وقوم کے لیے معاشی طور پرانقلاب کاباعث ہے وہاں ہی سادگی مایوسی سے چھٹکارہ پانے کابھی ذریعہ ہے تبھی تو رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ سادگی ایمان سے ہے ۔حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دنیا کاذکر کیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیاتم سنتے نہیں ، کیاتم سنتے نہیں ، یقیناً سادگی ایما ن سے ہے ، یقیناً سادگی ایمان سے ہے ‘‘(ابوداؤد)