Buy website traffic cheap

عدم برداشت

یوم عاشور کا پیغام

آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان یوم عاشور کو بڑی عقیدت و احترام اور غم و سوگ کی فضا میں منا رہے ہیں۔ واقعہ کربلا انسانی تاریخ میں قربانی کی وہ عظیم الشان مثال ہے جب نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؓ اور ان کے باوفا اور جان نثار ساتھیوں نے اسلام کی سربلندی کی خاطر یزیدی قوتوں سے ٹکراتے ہوئے حق ِراہ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اورآج کے دن دنیا بھر کے مسلمان کربلا کے تپتے صحرا میں باطل کے آگے سر نہ جھکانے والوں کی یاد میں انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ حضرت امام حسین ؓ اور ان کے جان نثار ساتھیوں کی جرات و شجاعت کی مثال ظلم کے سامنے ڈٹ جانے والے مسلمانوں کے حوصلے ہمیشہ بلند کرتی رہے گی۔ یہ آئین فطرت ہے کہ حق و صداقت کا پرچم بلند کرنے والے مظلوم مسلمان طاقتور ظالم کے ہاتھوں شہادت کا جام نوش کرنے کے باوجود ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں اور ان کی لازوال قربانیاں آنے والوں کے لیے تاریکی کی راہ میں مشعل راہ ثابت ہوتی ہیں۔آج کا مقدس دن پورے امت مسلمہ سے اس امر کا متقاضی ہے کہ ظلم اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکجا ہو کر کوششیں کی جائیں اور اس کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے۔
یہ امام عالی مقامؓ کی قربانی ہی کا فیض ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں نے اپنے اوپر مسلط آمرانہ حکومتوں کے خاتمے اور اسلامی اصولوں کے مطابق منتخب حکومتوں کے قیام کے لیے قربانیاں دیں۔ آج دہشت گرد مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کھلم کھلا اپنے ناپاک عزائم کا اظہارکر رہے ہیں۔آج پھر وقت آ گیا ہے کہ تمام علمائے کرام ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں اور رسم شبیری ادا کرتے ہوئے اسلام دشمن عناصر کے عزائم ناکام بنا دیں۔ مسلمانوں کا اتحاد ہی ان کے تمام مسائل کا حل ہے۔ قربانی حسین ؓ کا درس بھی یہی ہے۔ قربانی حسین ؓ کی شمع جتنی فروزاں ہوتی چلی جائے گی‘ نفرت اور اختلافات کی تاریکیاں اتنی ہی تیزی سے ختم ہوتی چلی جائیں گی اورمسلمان اس ظلم سے نجات پا لیں گے جس کی چکی میں آج وہ بری طرح پستے چلے جا رہے ہیں۔ محرم الحرام کے ابتدائی عشرے میں پاکستان کے ہر شہر اور قصبے میں سید الشہداءکی یاد میں مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں جہاں ان کی حق کی راہ میں دی جانے والی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے۔حکومت نے دہشت گردی کے کسی ممکنہ سانحہ سے بچنے اور مجالس عزا کے پرامن اور پر سکون ماحول میں انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے بھرپور انتظامات کر رکھے ہیں۔کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے کئی شہروں میں موبائل فون سروس جزوی معطل اور ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے۔سانحہ کربلا جہاں آج مسلمانوں کو دلگیر کرتا ہے وہاں ظلم کے خلاف جرات و ہمت کا مظاہرہ کرنے کا درس بھی دیتا ہے۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ تمام علمائے کرام اتحاد کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

عدلیہ کا احترام مقدم رہنا چاہیئے
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بدھ کے روز ایک بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں احتساب عدالت کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی سزائیں معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ احتساب عدالت کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اور ان کی سزائیں ختم کرنے کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے، جو جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تھا، درخواستوں کی سماعت کی۔ نیب کے پراسیکیوٹرز نے احتساب عدالت کے فیصلے کا دفاع کیا جبکہ درخواست دہندگان کے وکیل خواجہ حارث نے اس کے خلاف دلائل دیئے۔ طویل سماعت کے بعد عدالت نے بدھ کے روز سہ پہر تین بجے فیصلہ سناتے ہوئے درخواستیں منظور کر لیں اور ملزموں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرنے کی صورت میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ اس حوالے سے یہ حقیقت فراموش نہیں کی جانی چاہئے کہ عدلیہ حقائق و شواہد کے عین مطابق فیصلے کرتی ہے کسی کی منشا پر نہیں۔ اس فیصلے کی رو سے ان کے خلاف احتساب عدالت کا فیصلہ منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ معطل کیا گیا ہے گویا عدالتی کارروائی حتمی فیصلے تک جاری رہے گی اور ممکن ہے کہ اسے چیلنج کئے جانے کی صورت میں سپریم کورٹ میں بھی سماعت ہو۔ دونوں صورتوں میں عدلیہ کا احترام سب پر واجب ہے اور یقین رکھنا چاہئے کہ عدلیہ کا ہرفیصلہ آئین و قانون کے مطابق عدل و انصاف پر مبنی ہو گا۔