Buy website traffic cheap


یکجہتی و یگانگت کی خاطر ’’ گرینڈ ڈائیلاگ‘‘

اشفاق رحمانی
یکجہتی و یگانگت کی خاطر ’’ گرینڈ ڈائیلاگ‘‘
ڈیمز ’’انتہائی ضروری‘‘صرف’’ کالا‘‘ ہی تو ضروری نہیں، جہاں جہاں دریا ہیں، اور جہاں دیگر ذرائع سے پانی حاصل کر کے ’’اکٹھا‘‘ کیا جا سکتا ہے ’’وہیں وہیں‘‘ ڈیمز ، کسی کو شک ہے تو وہ ’’ریاست‘‘ کے ساتھ بات کرے، تاہم اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ’’ڈیمز ‘‘ ہر حال میں،اس میں بھی کوئی’’شک‘‘ ہے یا ’’شبہ‘‘کہ آئین اداروں میں یکجہتی و یگانگت کی بہترین دستاویز ہے۔ آئین کی پاسداری اور جمہوری رویئے بروئے عمل ہوں تو ادارے خود بخود یکجہت رہتے ہیں۔دستور میں اداروں کا کردار متعین کردیا گیا ہے اگر پھر تصادم اور ٹکراؤ کی فضا پیدا ہوتی ہے تو یقیناً کسی نہ کسی طرف سے آئین سے تجاوز یا آئین کو نظر انداز کیا گیا ہوتا ہے۔صرف پانی کے مسئلہ اور منی لانڈرنگ ، کرپشن سے پا کستان موہنجوداڑو سے بھی پیچھے چلا گیا، ادارے ایک دوسرے کو برداشت اور آئین کے تحت کام کریں تو ان مسائل کا سوفیصد’’حل‘‘ چوبیس کھنٹے سے بھی کم میں ممکن ہے۔ آئینی اداروں کے قانونی سربراہ بعض اوقات سخت لب و لہجہ بھی اختیار کر لیتے ہیں جس سے سنورا کام بھی بگڑنے کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے۔سینئر سیاست دان نے یہاں پاکستان کی پہلی سوشل میڈیا نیوز ایجنسی میڈیا ڈور سے گفتگو میں کہا کہ ایسا تاثر دیا جا تا ہے کہ کچھ ریاستی داروے’’ پارلیمنٹ ‘‘پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں، مبینہ طور پر انصاف فراہم کرنے والے ادارے کا ذکر کیا جاتا ہے، پارلیمنٹ میں ’’لڑائی‘‘ کے دوران متعدد سینئر سیاست دانوں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ’’ہمیں‘‘پنڈی والوں سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ پارلیمان، فوج اور عدلیہ کے سربراہوں کو پارلیمان میں مدعو کرکے گرینڈ ڈائیلاگ کی’’ تجویز‘‘ انتہائی قابل عمل ہے،الیکشن کے اعلان سے پہلے کا سیاسی منظر نامہ ذہن میں رکھیں تو سینئر سیاست دان کہتے تھے کہ گرینڈ ڈائیلاگ کیا ممکن ہو سکتے ہیں؟رضا ربانی ایک منجھے ہوئے پارلیمنٹرین ہیں وہ ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں مگر ان کی پارٹی قیادت کا موقف سرِدست بالکل مختلف ہے۔بلاول بھٹو نے رضا ربانی کے ڈائیلاگ کے مشورے کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا تھا جبکہ آصف علی زرداری بھی’’ مذاکرات‘‘ سے انکار کر چکے ، حالانکہ مذاکرات کے انکار سیاسی اور جمہوری رویہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہاں پر ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ کی بات صرف اور صرف ’’ڈیمز پالیسی ‘‘ کے تناظر میں ہو رہی ہے،بلوچستان میں امن کی بحالی’’ گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ سے ہیممکن ہوئے۔ بلوچستان میں بہتری اور ترقی کیلئے بہت کچھ ہوا ہے اور اس سے بھی زیادہ بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ سے ہی اداروں سے محاذ آرائیختم ہو سکتی ہے،بلاشبہ حکومتوں کا اپنے ہی اداروں سے محاذ آرائی کا تصور ہی لرزہ خیز ہے آئینی حدود ہر ادارے، شخصیت اور سیٹک ہولڈر کیلئے مقرر ہیں۔ جب پارلیمان کا سربراہ کہے کہ ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں تو یہ ’’رویہ‘‘ ہی متنازعہ ہے، ہر ادارہ آئین کی پاسداری کا پابند ہے اور ہر ادارہ آئین کی پابندی کا دعویدار بھی ہے۔ اس کے باوجود اگر اداروں کے مابین غلط فہمیاں درآتی ہیں تو بہترین راستہ ڈائیلاگ کا ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے میاں نوازشریف کو پاناما کیس میں نااہل قرار دیئے جانے پر مسلم لیگ ن کی طرف ’’انتہائی شور شرابہ ‘‘ والی سیاست ہوئی اور جب 45دن کی عبوری مدت کیلئے خاقان عباسی کو وزیراعظم بنا دیا گیا اور بعد ازاں خاقان عباسی ہی کو مسلم لیگ ن کے اقتدار کی آئینی مدت تک وزیراعظم رکھنے کا عندیہ دیا گیا،خاقان عباسی نے اپنے وزیراعظم منتخب ہونے پر قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اعلان کیا تھا کہ 45دن کا وزیراعظم ہوں یا 45گھنٹے کا، میں45مہینوں کا کام کرکے دکھاؤں گا۔ وہ اپنے اس پہلے خطاب میں اداروں کو بھی زیر بحث لائے اور کہا کہ کشتی میں سوراخ ہوا تو سب ادارے ڈوبیں گے۔آخر میں ’’کھیل کیلئے‘‘، کھلاڑیوں کو جب سہولتیں اور جدید ٹریننگ ہی میسر نہ ہو تو ان سے مثبت نتائج کی توقع رکھنا عبث ہے اس میں بھی قطعی شک نہیں کہ پاکستان میں باسکٹ بال کی ترویج و ترقی کے لئے فیڈریشن بھی موجود ہے جس کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) رشید ہیں۔ بریگیڈیئر رشید اور آنجہانی بریگیڈیئر دانیل ایسے دو کھلاڑی ہیں جن کی عالمی سطح پر بھی پہچان ہے۔ آنجہانی بریگیڈیئر دانیل کئی برس تک آرمی اور قومی ٹیم کے کپتان رہے جبکہ بریگیڈیئر رشید کی پاک آرمی میں بطور کپتان باسکٹ بال کی ترویج کے لئے بے شمار خدمات شامل ہیں۔ باسکٹ بال فیڈریشن کے انڈر کئی ڈویڑنز میچور ٹورنامنٹ کا انعقاد کرواتی ہیں مگر سپورٹس بورڈز کے عدم مالی تعاون کی بنا پر باسکٹ بال میں نیا ٹیلنٹ سامنے لانے میں دشواریاں بدستور حائل ہیں۔باسکٹ بال کی طرح قومی سطح پر اتھلیٹکس کو بھی حکومتی سطح پر وہ پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی جو اس کھیل کے لئے ضروری تھی۔ طویل دوڑ، ہائی جمپ، پول واٹ، ڈسکِس تھرو، ہاف سٹیپ اینڈ جمپ، پول واٹ، جیولین تھرو اور ہرڈلز دوڑوں میں کارکردگی دکھانے والے بیشتر کھلاڑیوں کو سرے سے سہولتیں ہی دستیاب نہیں۔ صوبائی سپورٹس کنٹرول بورڈ اور پاکستان سپورٹس کنٹرول بورڈ ان کھلاڑیوں کے لئے کیا اقدامات کرتے ہیں۔ قومی کھلاڑیوں کے لئے آج بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ انتھک محنت اور کامیابی کے جذبہ سے ہمکنار ان عالمی مقابلوں میں حصہ لینے والے اس نوجوان اتھلیٹ کو پاکستانی اخبارات اور ٹی وی کے وہ نمائندے جو کرکٹ میچوں کے دوران کوریج کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے۔ محبوب علی کی عالمی مقابلوں میں شمولیت پر اسکی حوصلہ افزائی کرتے۔ محبوب علی کا کس ادارے سے تعلق ہے مجھے معلوم نہیں تاہم اسکی سپرٹ اور سپرنٹ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ حکومت کی تھوڑی سی سرپرستی سے اتھلیٹکس میں یہ اپنا نام ہمیشہ کے لئے زندہ رکھ سکتا ہے۔