Buy website traffic cheap


یہ واقعی نیا پاکستان ہے۔۔!!

سید تصور حسین نقوی
نئے پاکستان کا سور ج طلوع ہو چکا ہے، اور عام انتخابات کے ذریعے برپا کی گئی تبدیلی کے سبب عمران خان اب نئے پاکستان کی امید جگا کر پرانے پاکستان کی روائتی سیاست کو دفن کرنے کا حلف لے چکے ہیں۔ وہ عمران خان وزیر اعظم کا حلف لے چکے ہیں جنہوں نے نوجوانوں کا پاکستان اورنئے چہروں والا نیا نویلا پاکستان بنانے کا وعدہ کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ پرانے چہرے، گزشتہ حکمرانوں کے ساتھ ملکر پاکستان کی تباہی و بربادی میں شریک اور کرپشن میں ملوث لوگ اُنکے عہد میں بڑے عہدوں پر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ پرانی سیاسی روایات کو تبدیل کریں گے۔لیکن ان باتوں کے برعکس انکی نئی ٹیم میں وہی پرانے چہرے نمایاں ہیں۔ ان کے وزرا ء اور مشیران اس پرانے پاکستان میں بھی وزیر یا مشیراور بالخصوص جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے کرتا دھرتا تھے۔ نئے وزاء میں سے نو تو صرف وہ ہیں ، جو ڈکٹیٹر پرویزمشرف کے بھی وزیر تھے۔ جبکہ پانچ میں سے تین مشیر بھی پرویز مشرف کے دور میں اسکی کا بینہ کا حصہ رہ چکے ہیں ۔آپ تو کہتے ہیں کہ آپ نے آمریت کی گود میں سیاست نہیں کی، اگر ایسا درست ہے توآپکی پہلی کابینہ سے مشرف باقیات کی بو کیوں محسوس ہو رہی ہے۔ آپ نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ نیا پاکستان نوجوانوں کا پاکستان ہو گا لیکن اسوقت ہر پاکستانی نوجوان آپکی کابینہ کے اراکین کی تصویروں میں نیا اور نوجوانوں کا پاکستان تلاش کر رہا ہے جو اسے نہیں مل رہا۔ پرانے پاکستان میں چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو تھا لیکن نئے پاکستان میں وہ آپکے ووٹوں سے پنجاب اسمبلی میں کسٹوڈین آف دا ہاؤس ہے اور انکی اجازت کے بغیر آپکی جماعت کے ارکان ایوان میں بات بھی نہیں کر سکیں گے۔ پرانے پاکستان میں آپ اُنکے اربوں روپے کے قرضے معاف کروانے پر انکے خلاف نیب کورٹ گئے تھے اور سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ لیکن اب نئے پاکستان میں اس لوٹی ہوئی دولت کا کیا بنے گا ۔۔؟ پرانے پاکستان میں دو ہزار تیرہ میں آپ یہ کہتے تھے کہ ن لیگ نے ایک شراب فروش چوہدری سرور کو پنجاب کا گورنر لگا دیا ۔ آ پ نے بھی نئے پاکستان میں اسی مبینہ شراب فروش شخص کو گورنر نامزد کر دیا۔؟پرانے پاکستان میں یہی چوہدری سرور تھے جنہوں نے مسلم لیگ ن اور گورنر شپ چھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ میں ملک و قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے گورنر بنا دیا گیا جس کے کوئی اختیارات ہی نہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے ملک و قوم کے لئے کچھ کرنے کے جذبے سے پی ٹی آئی میں گئے۔ اور پھر چار سال بعد وہی ’’ گورنر ‘‘کا عہدہ لیکر واپس آگئے۔ایک وقت میں انکا انگلینڈ میں شراب کا کاروبار تھا ، کیا اب نئے پاکستان میں وہ جدہ میں تسبیح ، جائے نماز، آب زم زم اور کھجوروں کا کاروبار کرتے ہیں۔؟ وزرات اعلیٰ پنجاب کے لئے شہباز شریف کا نعم البدل آپکا انتخاب سردار عثمان بزدار ہیں۔ یہ آپکے وہ نظریاتی رکن ہیں جنہوں نے سیاست کا آغاز پیپلز پارٹی سے کیا، دو ہزار میں مشرف کے ساتھ تھے، دو سال بعد ق لیگ اور پھر ن لیگ میں چلے گئے۔ دو ہزار تیرہ میں ن لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن ہار گئے ۔دو ہزار اٹھارہ میں الیکشن سے کچھ دن پہلے تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ اپنے علاقے کے ناظم اور اایم پی اے رہے، انکے والد تین بار اسمبلی کے ممبر رہے۔ اپنے علاقے کے عوام کی اتنی خدمت کی کہ آپ کے بقول انکے علاقے میں بجلی تک نہیں۔یہ لوگ نسل در نسل سیاست میں رہنے کے باوجود بھی اگر اپنے علاقے میں صرف بجلی تک نہیں لگوا سکے تو پھر اب پنجاب میں کیا تبدیلی لائیں گے۔آپ نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بے داغ ہو گا لیکن آپ کے نامزد کردہ شخص پر مبینہ طور پر قتل ، فراڈ اور کرپشن کے مقدمات ہیں۔ ان کے خلاف واٹر سپلائی سکیموں اور سیوریج سکیموں میں خرد برد اور بطور ناظم تین سو بوگس بھرتیوں کے الزامات میں نیب تحقیقات کر رہی ہے۔ انہیں تو چھ افراد کیقتل کے مقدمے میں ڈیرہ غازی خان کی عدالت دو ہزار میں سزا سنا چکی ہے۔ اور یہ ۷۵ لاکھ دیت دے کر جان بخشی کروا چکے ہیں ۔ آپ کہتے ہیں کہ انکے گھر نہ بجلی ہے نہ پانی۔ البتہسینکڑوں کنال زرعی و کمرشل زمین، درجنوں مکانات ، ٹریکٹر ، قیمتی گاڑیا ں اور کروڑں کابینک بیلنس موجود ہے۔ اب یہ قوم کو یوتھیا تو نہ بنائیں۔ آپ کے نامزد کردہ نئے پاکستان میں سندھ کے گورنر عمران اسماعیل بینک ڈیفالٹر ہیں اورچار ملین فراڈ کیس میں مطلوب ہیں۔ انہوں نے جمیل نامی آڑھتی کو بیس بیس لاکھ کے دو چیک واپس کئے جو کیش نہ ہو سکے، پولیس نے فراڈ کیس رجسٹرڈ کیا ، انہوں نے گرفتاری نہیں دی اور پولیس نے انہیں مفرور قرار دے دیا۔ موصوف نے امریکہ میں کار اور انشورنس کیس میں بینک کرپسی ڈیکلیئر کی۔وہ مبینہ طور پر مہنگی ترین گاڑیوں کے سمگلر کی حیثیت سے مشہور ہیں اور مخصوص لوگوں کو کمیشن دیکر بچ جاتے ہیں۔ اب وہ مدینہ کی ریاست کے گورنر ہونگے ۔ کیا اب مدینہ کی ریاست چوروں کے ذریعے بنے گی۔؟آپکے وزیر دفاع پرویز خٹک کے خلاف اسمبلی میں اپنی ہی جماعت کے ممبر اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی نے کرپشن کے الزامات لگائے اور اسمبلی میں قرارداد جمع کروائی تھی۔ انکے خلاف میٹرو بس منصوبے میں مقررہ لاگت سے زیادہ اربوں روپے خرچ کرنے پر پشاور ہائی کورٹ نے نیب کو پانچ ستمبر تک منصوبے کی شفافیت کی تحقیقات کو حکم دیا ہے اور بلیک لسٹ کمپنی کو ٹھیکہ دینے اوراس میں بے ضابطگیوں اور بے قائدگیوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہوا ہے۔ آپ کے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے خلاف بنی گالہ میں کروڑوں مالیت کی ۳۵ کنال اراضی کی خریداری اور صوبائی اسمبلی میں ۵۵ ملازمیں کی غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات کی تحقیقات نیب میں زیرِ کار ہے ۔ ان پرمختلف علاقوں میں کوٹھیاں تعمیر کرنے، اراضی خریدنے اور فارم ہاوس بنانے، صوابی یونیورسٹی میں غبن اور غیر قانونی بھرتیاں، صوابی کے علاقوں میں روڈ کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا ٹھیکہ اپنے من پسند لوگوں کو دیکر ان سے تیس فیصد کمیشن وصول کرنے کے الزامات کی انکوائری ہو رہی ہے۔ آ پ کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سور ی اپنی سربراہی میں کتوں کی لڑائی کروانے میں مشہور ہیں جس میں وہ خود بھی جوا لگاتے ہیں اور دوسروں کو سہولت بھی فراہم کرتے ہیں، ابھی حال ہی میں انکا کتا تیسرے نمبر پر آیا ہے۔ آپکے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان جو دو ہزار تیرہ تک پیپلز پارٹی میں تھے اُن کو کرپشن کے الزامات پر صوبائی وزراتِ کھیل سے ہٹایا گیا تھا، ان پر ایک اعشاریہ آٹھ ملین کی کرپشن اور انکے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر ہونے کے سنگین الزامت ہیں ۔ پرانے پاکستان میں ایم کیو ایم ایک قاتل اور دہشت گرد جماعت تھی۔ اسے آپا زہرا کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور آپ نے ایم کیو ایم سے خون کا بدلہ لینے کا وعدہ کیاتھا۔ آپکے بقول ایم کیو ایم نے عسکری ونگ بنائے ہوئے تھے اور کراچی کے لوگ ان کے بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز سے تنگ تھے۔ لیکن نئے پاکستان میں وہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کے محافظ ہونگے ،قانون و انصاف کا قلمدان انکے پاس ہوگا۔ وہ ملکی قانون بنائیں گے اور اسمبلی میں قانون سازی کروائیں گے ۔ نئے پاکستان میں جنرل مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ میں اُن کے وکیل فروغ نسیم آپ کے وزیر قانون ہو نگے۔ایم کیو ایم سے لئے گئے آپکے دوسرے وزیر خالد مقبول صدیقی کو ابھیکچھ دن پہلے کراچی سٹی کورٹ نے اشتہاری قرار دیکر اُنکی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنیکا حکم دیا ہے۔ ان پر الطاف حسین کو چھ ارب روپے منی لانڈرنگ کے الزامات کی ایف آئی اے تحقیقات کر رہی ہے۔آپکی وزیر زبیدہ جلال جب مشرف دور میں وفاقی وزیر تعلیم تھیں تو انہوں نے بلوچ بچوں کے توانا پاکستان پروگرام میں تین اعشاریہ چھ بلین کی کرپشن کی۔ خبر رؤف کلاسرہ نے بریک کی اور آپ نے انکے خلاف پریس کانفرنس کی۔ آپ جب فرما رہے تھے کہ بچوں کو نیوٹریشن پوری نہیں مل رہیں جسکی وجہ سے انکی دماغی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے تو میں سوچ رہا تھا کہ کاش آپ کو مشورہ دے سکوں کہ زبیدہ جلال کو دفاعی پیداوار سے ہٹا کر تعلیم اور بچوں کی افزائش کی وزارت دے دیں انکے پاس ماضی کا وسیع تجربہ بھی ہے، نئی نسل کی بہتر نشو و نما ہوگی۔ سنگین الزامات کے شکارعبدالرزاق داؤد مشرف کابینہ میں وزیر تجارت اور آپکی کابینہ میں مشیر تجارت و انڈسٹری ہیں۔ امین اسلم مشرف کابینہ میں وزیر ماحولیات اور آپکی کابینہ میں ماحولیاتی تبدیلی۔ غلام سرور خان مشرف کابینہ میں وزیر محنت و افرادی قوت اور آپکی کابینہ میں وزیر پٹرولیم۔ مشرف دور کے وزیر اطلاعات و نشریات اور پرانے دور کے شید ا ٹلی اور چپڑاسی سے بھی بد تر آپ کی کابینہ میں وزیر ریلوے ہیں۔ یہ وہی وزیر ہیں جنہوں نے ریلوے کو تباہی کی دہانے پر چھوڑا تھا۔ جنکی وزارت کے دوران دو ہزار پانچ میں ملک کی تاریخ کا بدترین ریلوے حادثہ ہوا ۔ گھوٹکی میں تین ٹرینیں آپس میں ٹکرائیں اور ایک سو تیس لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ ان کو ذمہ دار قرار دیکر ان سے جب استعفیٰ مانگا گیا تو تو ہنس کر کہہ رہے تھے کہ میں ٹریں تھوڑی چلا رہا کہ استعفیٰ دوں۔مشرف دور کے وزیر طارق بشیر چیمہ آپکے وزیر ہونگے جنہوں نے برطانیہ میں منی لانڈرنگ، منشیات، کے جرائم ثابت ہونے پر سزا یافتہ قمر عباس گوندل کو بہاولپور جیل سے غیر قانونی جعلی دستاویزات تیار کروا کر دو ہزار گیارہ میں سیکشن آفیسر لاء وزارت داخلہ محمد علی کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے غیر قانونی طور پر رہا کروایا ۔ ماضی میں یہ الذولفقار تنظیم کے سرگرم رکن تھے۔ مشرف کابینہ کے وزیر ، پارٹیاں بدلنے کے ماسٹر اورماضی کی ہرحکومت کا مزہ لوٹنے والے خسرو بختیار اب آپ کے منصوبہ بندی کے وزیر ہیں۔ مشرف، ق لیگ اور پیپلز پارٹی کی ترجمانی کا حق ادا کرنے والے فواد چوہدری اب آپ کے وزیراطلاعات ہونگے۔اسد عمر ملک کے وزیر خزانہ ہونگے جو اینگرو یوریا کے دنوں میں قیمتوں میں فکسنگ میں ملوث پائے گے اور کمپنی کو پاکستان کمپی ٹیشن کمیشن سے باقاعدہ چار ارب کا جرمانہ بھرنے کی سزا ہوئی تھی۔سپیکر شپ کے آخری روز مراعات کا ایک پیکج اپنے لئے تا حیات منظور کروانے اورچوراسی کروڑ کا قرضہ معاف کروانے والی فہمیدہ مرزا نئے پاکستان میںآپکی وزیر ہونگی ۔ ڈاکٹر عشرت حسین مشرف دور میں گورنر اسٹیٹ بینک تھے اور آپکی کابینہ میں انکے ذمہ اداروں کی اصلاحات لانا ہے حالانکہ وہ پہلے ہی اصلاحات لانے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔پرانے پاکستان میںآپ نے کہا تھا کہ کرپشن کا خاتمہ کریں گے اور کرپٹ ، نیب زدہ اور الزام زدہ شخص کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیں گے ۔اب نئے پاکستان میں نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کروائی گئی رپورٹ کے مطابق نندی پور پاور پراجیکٹ میں بابر اعوان اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں ۔آپ کی جانب سے ماضی کے جھوٹے اور مکار قرار دیئے گئے نئے پاکستان میں یہ آپ کے وکیل اور پارلیمانی امور کے مشیر بھی ہیں۔ آپکو تبدیلی مبار ک ہو۔ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آچکی ہے اور یہ واقعی نیا پاکستان ہے۔ ۔۔!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔