Buy website traffic cheap


126ناٹ آؤٹ ؟

126ناٹ آؤٹ ؟
تحریر: ڈاکٹر عثمان غنی

گلی جب روشن ہوتی ہے تو گلی سے گزرنے والے سب لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں جب کہ دیپ اگر ایک گھر میں جلے تو وہ گھر اکیلا منور ہوجا تا ہے، چار دیواری کے حصار میں موجود چیزیں اپنی ہوتی ہیں اور گلی میں پڑی ہوئی کوئی بھی بے ہنگم چیز مشترکہ ہوتی ہے اہل محلہ کے لیے ، اہل بستی کے لیے ایک سخن وریاد آئے ۔
میرکیا سادہ ہیں ، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
یوں تو ہاکی پاکستانیوں کا قومی کھیل ہے مگر کرکٹ کے ہردور میں چوکے چھکے لگتے رہے ہیں ، کرکٹ کے کھلاڑیوں کے لیے انعامات کی بارش ہوتی رہتی ہے اور ہاکی کے کھلاڑی بے چارے مناسب گرؤانڈز کی دستیابی سے بھی محروم رہتے ہیں ، ہاکی کا کھیل اور اسکی بہتری وترقی اس لیے پچھے رہ گئی کہ اس کھیل کے ساتھ ایک لاحقہ ’’قومی‘‘لگا ہوا ہے ، خیر بات کر کٹ کی ہورہی تھی ، جو اب موجودہ وقت میں اپنی اصل جگہ ، میدانوں ، سے زرا ہٹ کرایک اور میدان یعنی سیاست میں زیادہ مقبول ہوچکا ہے ۔یقیناًاسکا سہرا عمران خان کے سر ہے اور نوجوانوں میں اس کی ’’مقبولیت‘‘کی وجہ مخص یہ خیال نہ روا رکھا جائے کہ ایک روزہ میچوں کا سب کا بڑا ٹائٹل ’ورلڈکپ‘ خان صاحب کی قیادت میں جیتا گیا ہے بلکہ اس کی مقبولیت کی توانا وجہ انکا سیاست میں بھی کپتان کا خطاب پانا ہے ، دور حاضر میں وہ کپتان خان کے نام سے جانے جاتے ہیں ، سینکڑوں لوگ انکی کپتانی میں ملک وقوم کی حقیقی معنوں میں خدمت کر نے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔
کپتان ہونے کی بات سے ذرا پرے ہٹیں توانکی مقبولیت کا گراف لفظ ’’تبدیلی‘‘ سے مشروط نظر آتا ہے جس کی موجودگی نے انکی مقبولیت کی سوئی کو پیک (peak)پر پہنچادیا ہے ، اب دنگل میں اترنے والے اکثر پہلوانوں نے بلے کے انتخابی نشان پر لڑنے والی جماعت کو سب سے بڑی اور مقبول جماعت گردان کر یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ اسی جماعت سے وابستہ ہو کر دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر نا ہے۔
کم وبیش پچھلی دو دہائیوں سے کپتان صاحب جلال شاعر شکیب جلالی والی کیفیت سے دوچار رہیں ہیں کہ زمانے میں اپنے تعارف کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ’’عام راستے‘‘سے ہٹ کر اپنی شناخت برقرار رکھی جائے اوریہ تعارف سیاسی میدان میں کامیابی کے لیے کافی ہے پھر دھیر ے دھیرے کپتان کے خیالات میں تبدیلی وقوع پذیر ہونا شروع ہوگئی کہ جیتنے والے امیدواروں کے بغیر میدان سیاست میں کامیابی حاصل کر نا کسی حد تک مشکل بھی ہے اور کسی حد تک ناممکن بھی ، دیکھا جائے تو اس نئی تبدیلی کے پچھے ہماری رسم وروایات اور سیاسی روایے ہیں جن کی وجہ سے کپتان کو مشکل ترین یوٹرن لینا پڑا ہے ، ہمارے سیاسی رسم ورواج تھانہ کلچر اور کوٹ کچہری تک محدود ہیں ، جوخدمتگار تھانوں میں اپنے ووٹر کے لیے ایس ایچ او کو قانون کی خدمت کا درس دے گا اس علاقہ کے لوگ اسی خدمتگار کو الیکشن میں سپورٹ کریں گے ۔
کپتان کی سیاست کی ابتداء اس بوسیدہ نظام میں تبدیلی لانے سے ہوئی تھی مگر مجبوراً اُسے اپنی سوچ وفکر میں ’’نرمی‘‘ لانا پڑی ہے جس کی وجہ سے سیاست کے پرانے کھلاڑی بہتی ہوا کے رخ کو سمجھ کر مستقبل قریب میں آنے والی ’’اندھی ‘‘ میں اڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ، یہ پرانے کھلاڑی اپنے اپنے علاقوں کے وڈیرے ہیں جن کا اثر ورسوخ ان مخصوص علاقوں میں بہت واضح ہے ، ان کے دوبارہ اسمبلیوں میں پہنچنے سے یہ کہنا مشکل ہے کہ کوئی واضح تبدیلی ان علاقوں میں آئے گی ، تحریک انصاف کے شجر کی جن لوگوں نے اپنے خون سے آبیاری کر رکھی ہے ، آیا ان کو ٹکٹ میرٹ پر دیے جائیں گے ؟یا پھر پارٹی کا بنیادی ستون نوجوان طبقہ جس کی بڑی تعداد میں موجودگی پر جماعت کو ہمیشہ فخر رہا ہے کو میرٹ پر اسمبلیوں میں پہنچنے کا موقع لیا جائے گا اور یا پھر خواتین طبقہ جو رات دن پارٹی کی بہتری کے لیے تگ ودو میں مشغول رہتے ہیں کہیں یہ طبقہ بھی بانی پارٹی کا رکنان کی طرح ’’ایک نظر ادھر بھی ‘‘ والی کیفیت کا شکار نہ ہوجائے ان سب باتوں کا جواب آنے والے چند ہی دنوں میں مل جائے گا ۔
سیاسی کھیل کے آزمودہ کار کھلاڑیوں کی تحریک انصاف میں شمولیت سے جماعت کی سو چ کے کئی نئے پہلو واضح ہورہے ہیں یقینی طور پر کچھ نئے پہلو نئے لوگوں کی شمولیت سے بھی سامنے آنے ہیں، اس میں حیران ہونے ضرورت نہیں یہ ایک فطری عمل ہے ، کپتان نے یوں تو ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ دفعہ سو کا ہندسہ عبور کر رکھا ہے ۔ مگر میدان سیاست میں بھی کپتان ایک سنچری داغ چکے ہیں یہ سنچری انھوں نے مشکل ترین اور تیز ترین گراسی وکٹ پر مکمل کی ہے، یہ انھی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیادہ ، 126پر’’ ناٹ آؤٹ ‘‘رہے تو پھر بات بنے گی ،گزارش صرف یہ’’ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘والی کہانیاں بھی زور پکڑتی جارہی ہیں ۔