Buy website traffic cheap

ماہرہ خان

ماہرہ خان کی” نقل“ کرنے پر مایا علی سوشل میڈیا پر تنقید کاشکار

ماہرہ خان کی” نقل“ کرنے پر مایا علی سوشل میڈیا پر تنقید کاشکار
کراچی: نامور پاکستانی اداکارہ مایا علی کو سوشل میڈیا پر ماہرہ خان کی نقل کرنے پر شدید تنقید کانشانہ بنایا جارہا ہے۔ایک نئی سنڈریلا، عون زارا اوردیار دل جیسے کامیاب ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی پاکستان کی خوبصورت اداکارہ مایا علی نے علی ظفر کے ساتھ فلم طیفا ان ٹربل کے ذریعے فلموں میں انٹری دی ہے اوراپنی پہلی ہی فلم سے شائقین کے دل میں جگہ بنالی۔فلم طیفا ان ٹربل باکس آفس پر شاندار بزنس کرنے میں کامیاب رہی ہے اور ریلیز کے تیسرے ہفتے بھی شائقین میں بے حد پسند کی جارہی ہے۔ حال ہی میں مایا علی نے انسٹاگرام پرایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے طیفا ان ٹربل کو پسند کرنے کے لیے مداحوں کا شکریہ اداکیا ہے۔ویڈیو میں مایا علی اردو کے ساتھ انگلش میں بھی بات کرتی نظر آرہی ہیں جب کہ ان کا بات کرنے کا انداز اورلہجہ کسی حد تک اداکارہ ماہرہ خان سے مل رہا ہے اور یہی چیز مداحوں کو پسند نہیں آئی اور انہوں نے مایا علی کو ماہرہ خان کی طرح بولنے پر اور ان کا انداز نقل کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ایک صارف نے لکھا مایا بالکل ماہرہ کے انداز میں بول رہی ہیں، چیٹر ایک اور صارف نے لکھامایا علی نے ماہرہ خان کے لہجے کی کاپی (نقل)کی ہے۔

ضرور پڑھیے:
نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 18 برس بیت گئے

کراچی: پاکستان میں شعبہ موسیقی کو نئی جدت دینے والی نازیہ حسن کو اس جہاں فانی سے رخصت ہوئے 18 سال بیت گئے۔معروف موسیقار سہیل رعنا کے ٹی وی پروگرام سنگ سنگ چلے سے شروعات کرنے والی نازیہ حسن کو پاکستانی پاپ میوزک کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ کراچی میں پیدا ہونے والی نازیہ نے امریکن کالج آف لندن سے گریجویشن کیا، اپنے بھائی زوہیب کے ساتھ مشرقی اورمغربی موسیقی کے ملاپ سے ایسے گیت پیش کیے جو آج بھی شائقین موسیقی میں مقبول ہیں۔بھارتی فلم قربانی میں گائے گیت نے نازیہ حسن کو عالمگیر شہرت دی جب کہ نازیہ اور زوہیب کے البم ڈسکو دیوانے نے فروخت کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ نازیہ حسن کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔نازیہ حسن پھیپھڑوں کے سرطان کے مہلک مرض میں مبتلا ہوئیں اس دوران ان کی ازواجی زندگی بھی شدید متاثر رہی اور 13 اگست 2000 کو وہ خالق حقیقی سے جاملیں ان کی فنی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔