Buy website traffic cheap

جمال خاشقجی

میومسلمان ہندوستان میں ظلم کا شکار کیوں ؟

راشد علی
اس سے پہلے کے بنیاد مسئلے کی طرف بڑھا جائے میو قوم کا مختصر جغرافیائی محل وقوع جاننا ضروری ہے میوات کا علاقہ دہلی کہ جنوب مغرب میں تقریباً چونسٹھ کلو میڑ کے فاصلے پہ واقع ہے موجودہ دور میں میوات کا علاقہ راجھستان کے دو اضلاع الور اور بھرت پور جبکہ ہریانہ کے ضلع نوح پر مشتمل ہے اس کی نو تحصیل ہیں الور ،تیجارا، کشن گڑھ،اور لچھمن گڑھ ضلع الور میں ، ڈیگ دیگ نگر اور کاما کما پھرت پور ضلع میں ، نوح اور فیروزپور جھرکا ضلع نوح کی تحصیل ہیںمیوات کا علاقہ اراولی پہاڑی سلسلے ، وسیع و عریض میدانوں اور گھنے جنگلات پر مشتمل ہے کالا پہاڑ جو کہ اسی اراولی پہاڑی سلسلے میں واقع ہے یہ نہ صرف میوات کے وسط میں واقع ہے بلکہ ہریانہ کو راجھستان سے الگ کرتا ہے یعنی حد بندی کا کام دیتا ہے ۔
1947ءمیں میوات پر ڈھائے گئے مظالم میں 19اگست کی خاص اہمیت حاصل ہے اس دن الور کی ریاستی فوج اور ہنددھاڑ نے کالا پہاڑ (اراوالی)نہتے میوﺅں کو گھیر کر قتل عام کیا ۔اس قتل عام کا سلسلہ مارچ 1947میں شروع ہوا تھا ۔ہندﺅں نے لشکر کی شکل میں میو مسلمانوں پر حملہ کیا ان کی جائیدادوں سے بے دخل اورمکانوں کو مسمار کیا ۔یہ سلسلہ یونہی جاری وساری رہا اگست آن پہنچا 14اگست کو پاکستان معرض وجود میں آیا میومسلمانوں نے بڑی تعداد میں ہجرت کی تاکہ آزادی کی فضاﺅں میں زندگی گزار سکیں ۔اس ہجرت کے باوجود بہت بڑی تعداد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئی اورامن کے انتظار کے لیے ہندوستان میں ہی ٹھہری رہی ۔پھرتپور اورالور کے میو مسلمان کالا پہاڑ کے دامن جا بسے ۔ہندوﺅں بہت غاصب مزاج قوم ہے ۔میومسلمانوںکی تلاش کے لیے شودر یعنی نچلی ذات کی قوم سے ہاتھ ملایا تاکہ سنگلاخ پہاڑوں میں پناہ لیے ہوئے میو مسلمانوں کو کچلا جا سکے ۔ ہندو فوج نے مسلمان قافلوں پر فضائی حملے کیے ۔یہ مسلم کش فسادات انتہائی کرب ناک تھے ۔ہجرت اورآزادی کے ان لمحات کو احاطہ تحریر میں لانا ناممکن ہے ۔
کوئی اندازہ کرسکتا ہے کہ پہاڑ دامن میں بسے ہزاروں میومسلمانوں کو گھیراﺅ کرکے شہید کیا گیا لاشے یونہی بے گوروکفن پڑے رہے نہ کوئی غسل دینے والا نہ جنازہ پڑھانے والا جوگھیراﺅ جلاﺅ سے بچ نکلے اورپہاڑوں کی دراڑوں میں جا چھپے تھے وہ بھوک اورپیاس سے تلملا کر خالق حقیقی سے جاملے ۔آزادی کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانی دی تب جا کر مسلمانوں کو ایک خطہ اراضی رہنے کے لیے نصیب ہوا ۔جو مسلمان ہندوستان میں ٹھہرے امن کی آشاکی امید لگا کر وہ آج تک حقیقی امن سے محروم ہیں ۔ہندوستان میں مسلمانوں نچلی ذات کا درجہ دیا گیا ہے ۔ان پر مصائب کے پہاڑ گرائے جاتے ہیں دن دیہاڑے ظلم وستم کا نشانہ بنایا جا تاہے ۔سانحہ گجرات جیسے درجنوں واقعات ہوچکے ۔گائے ماتا کے نام پر ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا ہے ۔ہزاروں مسلمانوں کو مسلم ہونے کی پاداش میں شہید کردیا گیا ۔یہ سلسلہ اکھنڈ بھارت میں نہ رُکا ہے نہ تھما ہے یونہی جاری وساری ہے ۔
بین الاقوامی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔امریکہ جو نریندر مودی کو دہشت گرد سمجھتا تھا اسی کی باہوں میں بغل گیر ہورہا ہے ۔عنانیت اورسفاکیت اپنی تمام تر حدیں پھلانگ چکی مگر کوئی مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کے لیے تیار نہیں ہے ۔ویسے دنیا کے گوشے گوشے میں جہاں مسلمان آباد ہیں ظلم وستم کا شکار ہیں یہ ایک علیحدہ عنوان ہے جس پر کسی اورموقع پر بات کروں گا ۔گزشتہ گیارہ دنوں سے میو مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر نظر رکھے ہوئے ہوں سوشل میڈیا کے ذریعے یہ یقینی ہوا ہے ۔میواتی خبریں تاریخ وتہذیب سوشل میڈیا کا بیج معلومات کی رسائی کے لیے معاون ثابت ہوا ہے ۔مظاہر وں اوراحتجاج کی لائیو کی ریج کی گئی ہے ۔گزشتہ دنوں ایک میو بھائی کو گائے کے شبہ میں شہید کردیا گیا بعدازاں پولیس نے ایک نوجوان کو جعلی مقابلے میں قتل کیا ایسے متعدد واقعات ہوچکے ہیں ،میومسلمان برادری سراپا احتجاج ہے ۔ایک جگہ جمع ہوکر مسلسل نودن احتجاج کیا گیا گزشتہ رات میومسلمانوں رہنماﺅں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے ۔میو مسلمان سیاسی ،سماجی اورمذہبی عمائدین کی گرفتاری روشن اورجمہوری بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ہونا تویہ چاہیے تھا کہ بھارتی حکومت نام نہاد جعلی پولیس مقابلے کی انکوائری کے ذریعے انصاف کی کھوج لگواتی مگر افسوس ہزاروں مظاہرین اوراحتجاج کرنے والے عمائدین کو نظرانداز کیا جارہا ہے اورہندوانتہاپسند دہشت گردغنڈوں کی سرپرستی کی جارہی ہے ۔
بھارتی حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ ظلم کو دیر تک معاشرے میں پروان نہیں چڑھایا جاسکتا ہے ۔ظلم کی انتہایہ ہے کہ وہ مٹ جاتا ہے یا مٹادیا جاتا ہے ۔ظلم کرنے والے حاکمیت سے محروم ہوجاتے ہیں انصاف کرنے والے معاشرے کی باگ دوڑ سنبھال لیتے ہیں ۔ہندوستان کی اندر جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے یہ کوئی ڈھکاچھپا عمل نہیں رہا آسام سے لے کر راجھستان تک مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں ۔اب جب ظلم بڑھ گیا ہے تو مسلمان متحداوریک جا ن ہوتے دکھائی دے رہے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ یہ اتحاد مضبوط سے مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔نعرہ تکبیر بلند ہوگا ۔مسلمان کی غیرت وحمیت کو جب للکارا جائے گا تو حیدر ،فاروق ،ایوبی نکلے گا جو مظلوموں کا مسیحا بنے گا۔ظلم وجورکے نظام کوختم کرے گا انصاف اورتوحید کا پرچم لہرائے گا۔ یہ میں نہیں کہتا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح فرمایا ہے ”اور کہہ دیجئے حق آگیا اورباطل مٹ گیاہے “ یقینا باطل مٹنے کے لیے ہے حق اورانصاف غالب ہونے کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔