Buy website traffic cheap

دیوانے

سب دیوانے بیدار ہیں

کاشف علی نیئر
پیغمبرِ حق حضرت محمد ﷺ انسانیت کے لئے ہدایت کی وہ روشنی لے کر آئے جس کے دم سے آج کا تہذیب یافتہ معاشرہ منور ہے۔ آپ کی ذات کی برکات کسی خطہ یا قوم کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہے۔ قرآن پاک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛
”وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین“
اسلام سے قبل پوری دنیا میں جہالت اور عدم مساوات، کا راج تھا۔ آج کی دنیا کے مہذب معاشروں میں تہذیب کے جو اصول کارفرما ہیں وہ اسلام کے ہی سکھائے ہوئے ہیں۔ آپ کی رحمت کی برکت سے ہی آج کا جدید تہذیب یافتہ معاشرہ قائم ہے۔ اس لئے پوری دنیا کو حضرت محمد ﷺ کی ذات کا مرہونِ منت ہونا چاہیے۔
ایک چیز جو پوری دنیا کے مسلمان کو متحد کر سکتی ہے وہ ہے حضرت محمد ﷺ کی ذات سے بے انتہا محبت۔ مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک تمام مسلمان آپ ﷺ سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ لیکن صف افسوس کے ان کی صفوں میں اتحاد نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کفار بار بار ہمارے پیارے آقا کی شان میں گستاخی کر کے ہمارے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور ہماری محبت کا امتحان لیتا ہے لیکن ان ناعاقبت اندیشوں کو یہ نہیں معلوم کہ جس ہستی کی شان خدائے بزرگ و برتر نے بڑھائی ہے جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ ”وَرَفَعنَا لکَ ذِکرَک“ تو ان کفار کی کیا جرا¿ت کہ اس شان میں کمی لا سکیں؟ اس کے باوجود عالم کفر نے ایک بار پھر ہمارے ایمان کو اور اس کی ہلاوت کو دیکھنا چاہا ہے۔ وہ اپنے مذموم ارادوں میں سرگرم عمل ہے ۔ Netherlandsمیںاسلام مخالف پارٹی Dutchکے ایک سیاستدان Geert Wilders نے ایک بار پھر گستاخانہ خاکوں(نعوذباللہ) کی نمائش و مقابلہ کروانا چاہا ہے، لیکن شاید وہ اس بات سے واقف نہیں کہ مسلمان جتنا بھی کمزور ہو لیکن اپنے نبی کی ناموس پر سر کٹانے سے اور سر کاٹنے سے دریغ نہیں کرتا۔ اور ناموس رسالت کی حفاظت کرتے ہوئے یہ نعرہ ہر گلی اور ہر کوچے میں لگاتا پھرتا ہے
لبیک محمد صل علی، لبیک محمد صل علی
گستاخی تیری شان میں۔۔۔یہ دم ہے کس شیطان میں
سب دیوانے بیدار ہیں۔۔۔جذبوں سے یہ سرشار ہیں
کٹ مرنے کو تیار ہیں۔۔۔وہ ولولہ¿ ایمان میں
ہم یک دل ہم یک جان ہیں۔۔۔غیرت کا اک اعلان ہیں
حرمت پہ تیری قربان ہیں۔۔۔پکے ہیں اس پیمان میں
ہم اپنی جانیں ہاریں گے۔۔۔اولادوں کو بھی واریں گے
ہم تیرے دشمن ماریں گے۔۔۔جو آئیں گے پہچان میں
افضال زمانہ کیا جانے۔۔۔ہم عشق ِ نبی کے مستانے
شمع پہ واری پروانے۔۔۔جیتے مرتے ہیں آن میں
لبیک محمد صل علی، لبیک محمد صل علی
عالم کفر لاکھ کوشش کر لے لیکن محمد عربی ﷺ کی شان میں رائی کے دانے کے کروڑویں حصہ برابر بھی کمی واقع نہیں ہو سکتی ہے ۔ بلکہ ان کا ٹھکانہ جہنم کے اور بھی نچلے درجے ضرور بنتا جائے گا۔ ان شاءاللہ۔۔۔ وہ نبی ﷺ کہ جودشمنوں کے لیے بھی رحمت بن کر آئے، جنہوں نے اپنے سگے رشتے داروں کے قاتلوں کو سرعام معاف فرمادیاان سے کچھ بھی بدلہ نہ لیا، کبھی کسی کا برا نہ چاہا، کبھی کسی کے حق میں بددعا نہ کی، ان کی شان یہ رذیل لوگ کیسے گھٹا سکتے ہیں؟؟ اپنے وقتی خداﺅں اور آقاﺅں کو خوش کرنے کے لیے مسلمانوں کے دینی جذبات سے کھیلتے ہیں، دراصل ان کے دلوں میں امت محمدی کا خوف موجود ہے اور وہ جانتے ہیں مسلمان دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو ں اپنے محبوب آقا ﷺ کی شان میں ذرہ برابر بھی گستاخی برداشت نہیں کرے گا بہت سخت رد عمل ظاہر کرے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات کا اندازہ بھی رکھتے ہیں کہ یہ لوگ متحد نہیں ہیں اور اسی بنیاد پر محض نعرے اور جلسے جلوس نکال کر بیٹھ جائیں گے ، ان کے غصے ٹھنڈے پڑ جائیں گے اور ہم گستاخی کر کے اپنی عادت پوری کر لیں گے۔بظاہر وہ اس خوف سے آزاد نظر آتے ہیں لیکن اندر سے یہ خوف کہ مسلمان کبھی بھی اپنے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی براداشت نہیں کر سکتا ان کے دلوں میں موجود ہے اور تا قیامت رہے گاکہ وہ غلط نہیں بہت غلط کر رہے ہیں۔
بحیثیت مسلمان ہمیںاس بات کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج آخر عالم کفر نے اس حد تک جانے کی جرا¿ت کی بھی تو کیسے ؟ ان کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہوا بھی تو کیسے کہ وہ ہمارے محبوب پیغمبر اعظم ﷺ کے بارے ایسی حرکت کے مرتکب ہو سکیں۔ دراصل یہ ہمارے اند ر کی خرابی اور بگاڑ ہے ، ہمارے اندر کی ٹوٹ پھوٹ اور نااتفاقی ہے کہ جس کا فائدہ اٹھا کر کفار ہمارے جذبہ¿ ایمانی سے کھیلتاہے۔ ہمیں متحد ہو کر ایک جان ہو کر اور آپس کی ساری خلعشیں ختم کر کے ایک ہی پلیٹ فارم جو کہ صرف اور صرف اسلام کا پلیٹ فارم ہے پر آ جانا چاہیے۔ اور یک رنگ و یک جان ہو کر عالم کفر کو اس بات سے روشناس کرانا چاہیے۔ کفار بھی یہ جان لیں کہ محمد ﷺ کے دیوانے غیر متحد ضرور ہیں لیکن بیدار ہیں اور اگر شمع رسالت سے محبت کی چنگاری مزید بھڑکایا گیا تو یہ کفر کا وجود ختم کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔