Buy website traffic cheap

ہمت ہے شرط صاحب

ہمت ہے شرط صاحب

فرہاد احمد فگار
۴۱۰۲ءمیں ایم اے اردو کرنے کے بعد اسلام آباد میں تدریسی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ ساتھ ہی حسن ظہیر راجا، شوکت اقبال مصور اور اپنے والدین کے حوصلے اور ہمت کی بدولت ایم فل میں بھی داخلہ لے لیا۔ ۵۱۰۲ءمیں ایم فل کا کورس ورک مکمل کیا اور اینی جنم بھومی مظفرآباد کا رخ کیا۔ مظفرآباد میں آ کر روزگار کی تلاش میں نکلا تو ایمز کالج میں پناہ ملی۔ یوں مظفرآباد میں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تو آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی میں بھی فروری ۶۱۰۲ءسے جزوقتی لیکچر اردو کے لیے منتخب ہو گیا۔ وقت گزرتا گیا اگست ۷۱۰۲ء میں راجا شوکت اقبال مصور (میرے محسنوں کی فہرست میں نمایاں نام ہے) نے چہلہ بانڈی کالج کی کلاس لینے کے حکم دیا۔ وقت کی شدید قلت کے باوجود شوکت صاحب کے سامنے انکار کی ہمت نہ ہو سکی۔ ۷۱ ،اگست کو شوکت صاحب نے کہا کہ کل چہلہ بانڈی کالج جانا ہے ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اگلے روز تیار ہو گیا۔ جمعے کا دن تھا شوکت صاحب کے ساتھ دس بجے گھر سے نکلا۔ جب کالج کے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ شہر سے اچھی خاصی مسافت پر دریا ئے نیلم کے داہنے کنارے ایک وسیع عمارت میں یہ کالج ہے۔ کالج کی دوری دیکھ کر سوچا کہ شوکت کو انکار کر دوں یہ کوئی غیر معروف کالج ہے اور ایک کلاس کے لیے اتنی دور آنا بے وقوفی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ خیر شوکت صاحب نے چیئر پرسن ادارہ میڈم شیراز سے تعارف کروایا اور ایسا کروایا کہ جیسے اس وقت مظفرآباد میں اردو کا کوئی دوسرا استاد ہے ہی نہیں۔ باتیں ہوتی رہیں آخر پر فیصلہ ہوا کہ کل ۹۱، اگست کوآپ آجائیں اور کلاس لیں ساتھ ہی اردو کے حوالے سے اَ ساتذہ کے ساتھ ایک نشست بھی رکھی۔نشست میں ادارے کے اساتذہ کو اردو تدریس کے حوالے سے شوکت صاحب نے لیکچر دیا بعدازاں میں نے بھی اصلاح اردو کے حوالے سے بات کی جس میں تلفظ اور املا پر بالخصوص توجہ دینے پر زور دیا گیا۔
یہ تقریباً ۲گھنٹے کا سیمی نار تھا جس کے بعد بے تکلف چائے کا اہتمام تھا۔ چائے کے دوران میں بھی کئی باتیں ہوئیں جن سے میرے لیے اندازہ لگانا قطاً مشکل نہ رہا کہ میں نے یہاں آکر کوئی غلطی نہیں کی۔ ادارے کے سربراہان سے لے کر ہر استاد سیکھنے اورسیکھانے والا تھا۔ اس بات کی تصدیق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہوئی۔ یاذ دہم کی کلاس میں گیا تو ہر طالب علم کو سعادت مند اور فرماں بردار پایا جو یقینا دورِ حاضر میں کسی نعمت سے کم نہیں۔اثریہ اسکول اینڈ کالج چہلہ بانڈی کے وائس پرنسپل جناب فیضان رشید سے تعارف ہوا تو ان کو بھی دوستوں کا دوست پایا۔ طلبہ کے ساتھ محبت اور ان کی تعلیم اور اخلاقیات میں دل چسپی تمام اساتذہ کا وتیرہ ہے۔ بچوں کی صلاحیتوں کے اجاگر کرنے کے لیے ادارے کی انتظامیہ نے ہمیشہ بہتر سے بہترین اقدامات اٹھائے۔ میڈم شیراز کی خصوصی دل چسپی ہی کی بدولت ادارنے میں لائبریری کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ جس کے لیے سیرت النبی ﷺ (تمام جلدیں)، فرہنگ آصفیہ (تمام جلدیں)، کلیات اقبال، دیوانِ غالب، کلیات ِ اکبر الہٰ آبادی (تمام جلدیں)، فرہنگ ِ تلفظ سمیت کئی کار آمد اور قیمتی کتابیں جمع کی گئیں۔ علاوہ ازیں لائبریری کے لیے ایک بڑا کمرا مختص کر لیا گیا جس پر کام کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
قارئین کرام اثریہ اسکول اینڈ کالج میں طلبہ کی تعداد اور ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر کوئی بندہ ہر گز اس بات سے نا امید نہیں ہو سکتا کہ ہمارے ہاں قابلیت کا فقدان ہے یا طلبہ اساتذہ کا احترام نہیں کرتے۔ اس ساری تمہید کا مقصد دراصل اس تقریب کے بارے میں بتانا ہے جو کہ ہمارے اس شہر میں شائد اس سے پہلے کسی نجی یا سرکاری ادارے نے نہ کروائی ہو۔ ۴۱، جنوری ۸۱۰۲ءکو اثریہ اسکول اینڈ کالج میں ایک (فن فیئر) نمائشی میلے کا اہتمام کیا گیا۔ میلے کا مقصد ان ذہین اور قابل طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو سامنے لانا تھا جو زندگی کی دوڑ میں کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں کہ جس سے ملک و ملت کا نام روشن ہو۔ نمائشی میلے کے لیے سخت محنت کے ساتھ ہمت کو جٹا کر تیاریاں مکمل کی گئیں۔ طلبہ اور اساتذہ وحشت کلکتوی کے اس شعر کی عملی تفسیر نظر آئے کہ:
کٹھن ہے کام تو ہمت سے کام لے اے دل
بگاڑ کام نہ مشکل سمجھ کے مشکل کو
درحقیقت یہ کوئی آسان کام نہ تھا لیکن اثریہ اسکول اینڈ کالج کی انتظامیہ نے اس کام کواپنی ہمت سے آسان بنا دیا۔ میڈم شیراز نوید اور سر فیضان رشید نے ہر ہر قدم پر اپنا جانی و مالی تعاون یقینی بنایا۔ اس نمائشی میلے میں جہاں ادارے کے طلبہ نے مختلف قسم کے ماڈلز اور آرٹ کے نمونے بنائے وہیں کھانے کے مختلف اسٹالز بھی شرکا کے لیے خاصے کی چیز تھی۔ کتابوں کا اسٹالز ننھے منے بچوں کی کتاب دوستی کا ثبوت تھا۔ ہم نے بھی ساتھی استاد غفورالاسلام کے توسط سے ایک عدد کتاب مظفرآباد کی تاریخ کے حوالے سے حاصل کر لی۔
اس نمائشی میلے کے لیے وسیع رقبے پر ایک پنڈال بھی بنایا گیا تھا جس میں شرکا کے لیے کرسیاں لگائی گئی تھیں۔اسٹیج کو اور مائیک کو ادارے کے سابق استاد وسیم اورنگ زیب نے سنبھال رکھا تھا۔ ننھے منے بچوں کے کام کو سراہنے کے لیے شرکا کو وقفے وقفے سے اسٹیج پر بلایا جا رہا تھا جہاں سے و اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو سرٹی فیکیٹس بھی دے رہے تھے۔اثریہ اسکول اینڈ کالج چہلہ بانڈی کے طلبہ کے بنائے گئے نمونوں کو دیکھ کر ہر کوئی انگشت بدنداں تھا۔ گتے سے نبایا گیا رکشا جس کو بیٹری کی مد سے چلا کر بھی دکھایا کیا۔ ٹرک، ایکسویٹر مشین، ملٹی میڈیا اور دیگر کئی چیزیں طلبہ نے چلا کر دکھائیں تو آنے والے مہمان داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ اس نمائشی میلے میں جہاں ہر کوئی محظوظ ہو رہا تھا تو وہیں اکثر لوگ بد روحوں اور بھوتوں سے خوف زدہ بھی تھے۔ ارے ڈریے مت یہ بھوت اور بدروحیں وہ طلبہ تھے جو بھوت بنگلے میں دہشت اور خوف کی علامت بنے ہوئے تھے۔ میں باالخصوص اپنے شاگر قمر الزمان قمر کے ساتھ بھوت بنگلہ دیکھنے گیا جس کا اہتمام شارع کیانی (طالب علم یاذدہم)نے کیا۔ ہجوم اس قدر تھا کہ بھوت بنگلے میں جانے والوں کی قطاریں لگی تھیں۔ ادارے کے استاد احمد زمان کسی بھی طرح کی بد نظبی کے روکنے کے لیے چاق و چوبند بھوت بنگلے کی نگرانی کر رہے تھے۔ میں سمجھتا ہوںطلبہ کی ذاتی کوشش سے بنایا گیا یہ بھوت بنگلہ کسی بھی بڑے پارک میں بنائے گئے بھوت بنگلے سے کسی طور کم نہ تھاا۔ اگر ان محنتی اور زیرک طلبہ کو مواقع میسر آئیں تو وہ ستاروں پر کمند ضرور ڈال سکتے ہیں۔ اثریہ اسکول اینڈ کالج کے زیر انتظام یہ نمائشی میلہ شام۵ بجے تک جاری ر ہا۔ طلبہ اور اساتذہ مہمانوں کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ان کو خوش آمدید کہتے اور پرتیاک انداز میں الوداح کہتے۔ پرنسپل و سربراہ شیراز نویدذاتی طور پر مہمانوںسے ملتیں اور ان کی آو بھگت کرتی رہیں۔ میں سمجھتا ہوں اگر مظافات میں قائم ایک ادارہ طلبہ کے اندر شوق اور لگن کو بے دار کرنے کے لیے اس طرح کے اقدامات اٹھا سکتا ہے تو وہ ادارے کیوں نہیں؟ جن کے پاس نہ ہی وسائل کی کمی ہے اور نہ ہی جگہ کی۔ میں اثریہ اسکول اینڈ کالج کے منتظمین کو اس قدر شان دار تقریب کے انعقاد پر مبارک باد بھی پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ تقریب کے اختتام پر پرنسپل نے ادارے کے مجلے کے اجرا کی نوید بھی سنائی اور ایک پروقار مشاعرے کا بھی جلد انعقاد کروانے کا حکم صادر فرمایا جس کے تمام تر اخراجات اور انتظامات ادارے کے ذمے ہوں گے۔ ادارے کی شان دار کارکردگی کو دیکھ کر اس بات کی قوی امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں اثریہ اسکول اینڈ کالج کا نام ملک کے بڑے اداروں میں شامل ہو گا۔امداد امام اثر کے اس شعرپر اجازت طلب کرتا ہوں۔
ہمت ہے شرط صاحب ہمت سے کیا نہ ہو
مشکل کا سامنا ہو تو ہمت نہ ہاریے