Buy website traffic cheap

میوات،تاریخی حقائق

میوات،تاریخی حقائق اوریاسین خان میو… کالم نویس راشدعلی

میوات،تاریخی حقائق اوریاسین خان میو
تحریر: راشدعلی
(میوات،تاریخی حقائق اوریاسین خان میو )میں احتیاط کا دامن تھامے ہوئے ہوں میں چاہتا ہوں کہ بھارت میں واقع میوات کا دورہ کروں ۔مجھے آسانی اس لیے بھی ہے کہ میری پھوپھی وہاں قیام پذیر ہے اور ملتمس ہوں گا جناب ناصرحسین زکریا اتاڑوی سے کہ وہ میری اورنواب ناظم میو کی رہنمائی کریں تاکہ ہم اپنے آباؤاجداد کا علاقہ دیکھ سکیں ۔بات ہورہی تھی کہ میو قدیم النسل اور برصغیر میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی قوم ہے ۔اگر ماضی میں بالخصوص تحریک آزادی سے پہلے کی بات کی جائے تو کسی حکمران نے انہیں قوم نہیں بننے دیا ،ان کے خلاف مسلسل لشکر کُشی کا سلسلہ جاری رہا ۔ اب جبکہ یہ کہیں بھی آباد ہیں یہ ایک قوم ہیں کیونکہ یہ مسلمان ہیں مسلمان جہاں بھی ہوں ایک قوم ہیں۔جب اسلام کی بات ہوتی ہے توپھر ذات پات ،رنگ ونسل کی بات نہیں ہوتی پھر ہر کلمہ گومسلمان ہوتا ہے ہماری قوم ہوتا ہے ۔
گزشتہ کالم میں لکھ چکا ہوں کہ میوقدیم النسل ہیں ،اب ہم اس دور سے گزررہے ہیں جو میڈیا اورحقائق کا دو ر ہے ۔نسل نو حقائق سننا بھی چاہتی ہے اورلکھنا بھی ۔تاریخ نویسوں پر بھرپور تنقید کی جاسکتی ہے ۔میں پورے وثوق اور تاریخی حقائق کوسامنے رکھ کہہ رہا ہوں کہ میوقدیم النسل او رزندہ دل قوم ہیں جنہوں غاصبوں ،بیرونی حملہ آوروں ،نادیدہ قوتوں کے خلاف کھلم کھلا جنگ کی ہے۔ صدیوں تک ان کے وسائل پر قبضہ جمانے کے لیے لشکرکشی کی گئی مگر حملہ آور ناکام ونامراد رہے ۔میوؤں سے متعلق مولوی عبدالشکور صاحب رقمطراز ہیں :تمام ہندوستانی اوریوروپین محققین کااس امرپراتفاق ہے کہ آریہ اس قوم کا نام ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے کسی ملک سے آکر ہندوستان میں داخل ہوئی تھی،آریہ لفظ اورقوم کا وجودتمام قوموں اور ممالک میں پایا جا تا ہے۔یورپ وایشیا کی ساری بڑی قومیں آریہ کے نام سے پکاری جاتی ہیں۔جرمن،ناروے،سویڈن،اطالیہ،آئر لینڈ، انگلینڈ، فرانس، ایران،افغانستان وغیرہ کے باشندے زمانہ قدیم میں آریہ کہلاتے تھے۔بعض تاریخ نویسوں کاکہنا ہے کہ جو گروہ پہلے پہل شہر آر سے اٹھا تھااور وارد ہندوستان ہوا تھا،اس نے اپنے قدیم شہر ’’آر‘‘کے نام پرہندوستان میں ایک ’’آرور ‘‘نامی شہر آباد کیا تھا۔جو مغربی ہندوستان کے مشہورصوبہ سندھ میں تقریبا تیرہ سو سال پہلے موجود تھا،جس کو ۹۳ ہجری میں مشہور اور نامور فاتح محمد بن قاسم نے راجہ داہر سے فتح کیا تھا۔ٹاڈ راجستھان کا انگریز مصنف رقم طراز ہے کہ’’ آرور‘‘ دریائے سندھ کے مشرقی ساحل پرآباد تھا۔آرور کی حکومت کا بانی راجہ سہل تھا۔
ٹاڈ بھی لکھتا ہے کہ ججات’’جو چھتری نسل کی ایک مشہور شاخ ہے‘‘کی ایک عظیم شاخ کا پتہ نہیں چلتا۔جس کو’’اردیا‘‘یا‘‘اردسو‘‘کہتے ہیں۔(چھتری ۶۰،۶۱)قرائن بتاتے ہیں کہ میوات کے مشہورشہر’’الور‘‘کا کاقدیم نام ’’آرور‘‘ہے۔اور یہ اسی زمانے کا رکھا ہوا ہے۔’’اربلی پربت ‘‘کا قدیم نام پرانی عربی اورہندی تاریخوں میں’’آریہ بل’’یااربل‘‘یا’’اربد‘‘یا‘‘ارود‘‘پایا جاتا ہے۔یہ بگڑکر’’اربلی پربت‘‘یا’’اراؤلی پربت‘‘بن گیا ہے۔اس پہاڑ سےآریہ چھتری قوموں کا گہرا تعلق ہے۔یہ آج بھی اسی پہاڑ کے آس پاس آبادہیں۔خاص طور پر میو قوم تو دہلی سے لے کرراجپوتانہ تک اسی پہاڑ کے ساتھ آباد ہے۔تاریخ سندھ میں بھی اسی نظریہ کی تائید ہوتی ہے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سندھ سے لے کر الور تک مارواڑ ،میر واڑہ ،میواڑ ،آمیر،جیسلمیر،باڑمیر،وغیرہ الفاظ ’’آر”‘‘سے قریبی مناسبت رکھتے ہیں۔پس ہماری تحقیق ہے کہ آریہ،آرین یا ایرین وغیرہ الفاظ سے پکاری جانے والی تمام اقوام و ممالک در اصل شہر آر ہی کی طرف منسوب ہیں۔جس کے بے شمار قرائن وشواہد کتب تواریخ میں ملتے ہیں۔ (چھتری ۶۳)میواتیوں سے متعلق مزید معلومات کے لیے منہاج سراج جزجانی کی طبقات ناصری ،،ضیاالدین برنی کی تاریخ فیروزشاہی،تاریخ فرشتہ ،نظام الدین احمدکی طبقات اکبری ،یحییٰ بن احمدکی تاریخ مبارک شاہی،عبدالقادر بدایونی کی منتخب التوریخ اوربابرکی توزکِ بابری کا مطالعہ ازبس ضروری ہے۔
اس سے قطعہ نظر کے مورخین نے میواتیوں کو جنگجو اورباغی کہا جس کا جواب میں گزشتہ کالم اول میں دے چکا ہوں کہ میواتیوں نے اپنی سرزمین کی حفاظت کی، کبھی کسی قابض کو اپنی سرزمین پر قابض نہ ہونے دیا ،ہرحملہ آور خواہ وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تھا میوات کو فتح نہ کرسکا ،کیا کوئی اندازہ کرسکتا ہے ان کے زورِ بازو کا جنہوں نے صدیوں تک سینکڑوں حملوں آور مفتوحین کو ناکے چنے چبوائے ہوں اور نا کام ونامراد لوٹایا ہو۔اگر انتہائی تحمل اورعرق ریزی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ میواتیوں نے اپنے مخالفین کو دو طریقے سے چت کیا ۔۱۔ آمنے سامنے لڑتے ہوئے اک اک میو کئی کئی فوجیوں کو موت کا گھاٹ اتارتا ،میولمبے تگڑے جوان ہواکرتے تھے ۔پہلوانی اِن کا شیوہ تھی ۔ابوجی کے تین تایا جی پہلوان تھے ۔ہجرت کے وقت وہ تینوں راستے میں شہید ہوئے ۔ہمارے دادا جی ان کاغم برداشت نہ کرسکے اور نظریں کمزور پڑگئیں تھیں اورسماعت بھی متاثرہوئی تھی ۔تحریک آزادی میں میواتیوں کے کردار پربھی لکھوں گا۔
منہاج سرجانی (۱۱۹۳) نے بلبن کے دور میں میواتیوں کی سیاسی حکمتوں سے متعلق بہت مثبت تجزیہ پیش کیا ہے ۔میوات کی سیاست کے ضمن میں اس پر تفصیلی روشنی ڈالوں گا۔یاد رہے کہ بلبن نے بھی ۲۰جنوری ۱۲۶۰ بمطابق ۴صفر۶۵۸ ہجری کو ’’کوہ پایااورنتھنبور ‘‘ کے میواتیوں پر فوج کشی کی اورشکست کا سامنا کرنا پڑا۔بلبن شکست کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔اس کے لیے اس نے ہزاروں کے لشکر تیار کیے منہاج بلبن کو دنیا کا بادشاہ تسلیم کرتا تھا ۔مورخ منہاج نے میواتیوں کومفسد ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔مگر حقائق کرائن بتاتے ہیں کہ میواتی اپنی زمین کے محافظ تھے ۔وہ اپنی کھیتی اورمال مویشیوں کی حفاظت کرنا جانتے تھے ۔میوؤں میں مثل مشہور تھی ’’ میو کی اڑی پہاڑ چڑھی ‘‘ میواتی مرد تومرد اگرعورتوں کے بہادرانہ پہلوؤں کامطالعہ کرکے رشک پیدا ہوتاہے ۔
میوقوم کی زبانی روایا ت میں دو ایسے ڈرامائی واقعات کا ذکر ہے جو اس بات کی صداقت پر دلیل ہیں ۔سترہویں صدی کے وسط میں جب مغل اورراجپوتوں کی اتحادی حکومت تھی اس وقت مقامی میو قبیلے کی اطاعت کا دعویٰ کیا گیا ۔لیکن ان کی عورتیں اپنی روائتی رسموں اوررواجوں پر عمل کرنے کے حق سے دستبردار نہ ہوئیں ۔بالکل ایسی طرح جیسے ایک خاتون ایٹنی گون نے تھیبس کے حاکم کریون کے احکامات سے روگردانی کرتے ہوئے اپنے باغی بھائی پولینیس کی تدفین کے موقع پر تمام رسومات ادا کیں تھیں اوربعد میں خود کو ہلاک کرلیا تھا۔میونسل کی رسموں کی ادائیگی سے بھی موت اورتباہی وبربادی کااظہار ہوتا ہے ۔ڈاکٹر شیل مزید لکھتی ہیں کہ ’’انیسویں صدی میں جب میوؤں کو لگان کی ادائیگی پر مجبور کردیا گیا تھا تو ایک میو لیڈر نے لگان دینے سے انکار کردیا تھا عین اسی وقت دیگردوسرے میوات نے بھی یہی فیصلہ سنا دیا تھا۔ڈاکٹر شیل مایارام رقمطراز ہیں کہ انگریز مصنف O,dwyerالور کے میوؤں کو جفاکش ،قابل رشک نسل قرار دیتا ہے ۔(۱۸۱)ڈاکٹر شیل میوؤں کو قدیم النسل ہونے کے تمام دلائل بہت عمدہ طریق سے بیان کیے ہیں ۔وہ رقمطراز ہیں کہ ’’ تیرہویں صدی کے وسط میں جب میو تاریخ کے صفحا ت پر اپنا مقا م بنارہے تھے اس وقت ان کی سرگرمیوں کا مرکز دارالحکومت کے جنوب میں واقع میوا ت تھا ۔بادشاہوں اورامراء کی نفرتوں اورکدورتوں کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتاہے کہ آج بھی میوات دارالحکومت کی اتنا قریب ہونے کے باوجود پسماندہ دکھائی دیتا ہے ۔لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ،بھارتی حکومت کو میواتیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے ۔آئے دن ہوئے میواتی مسلمانوں پر حملے گائے کے نام پر دنگے فساد لڑائے جھگڑے قتل وغار ت کی مزمت اورروک تھام کے عمدہ اقدامات کرنے کی چاہییں ۔مودی سرکار کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں اورنفرتوں کی روک تھام کرنی چاہیے مسجدوں ،میناروں کی حفاظت یقینی بنانی چاہیے ۔
میوات راجستھان میں ہے اوریہ برصغیر کے قلب سے الگ تھلک علاقہ ہے ۔یہ علاقہ اندورنی طور پر مختلف حالات کا حامل رہا ہے ۔جوجگہ جگہ بنجر اورنیم بنجری خطوں پر مشتمل ہے ۔جس میں انواع واقسام کی ثقافتیں اورمعیشتیں قائم ہوا کرتی تھیں جس کی وجہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں یہاں اپنا وجود مستحکم کرتی چلی گئیں ۔دہلی سے پہاڑ گنج سے شروع ہونے والا پہاڑی سلسلہ میوات میں تجارہ اورالور تک پھیلا ہوا ہے ۔اس علاقے میں بھورے رنگ کانرم سلیٹی پتھر کا پہاڑ کالا پہاڑ کہلاتاہے ۔دلت ناول نگار بھگوان داس نے اسے وحشیانہ سرشت کا نام دیا ہے ۔یہاں دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ بارشیں ہوتی ہیں یہاں بنجر زمین کے ساتھ زرخیز وادیاں بھی ہیں ۔آراولی کے پہاڑوں میں میوؤ ں نے اپنی رہائش گاہیں تعمیر کررکھی تھیں اوران کے گرد حفاظتی حصار بنارکھی تھی جو بیرونی حملہ آوروں کے لیے دفاع کا کام کرتی تھی۔سردارانِ میوات کا طویل دفاع انکی دفاعی سٹریٹجی کو واضح کرتا ہے ۔زمانہ قدیم میں میوؤں نے گوریلا وار کے ذریعے بھی اپنے دشمنوں کو ناکام کیا ۔میں کہہ سکتا ہوں کہ میوہی دراصل گوریلاوار کے بانی ہیں۔