Buy website traffic cheap

Will not allow the budget to be approved without funds for flood victims, Bilawal Bhutto

سیلاب متاثرین کیلئے فنڈز کے بغیر بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے، بلاول بھٹو

سوات:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتوں کو پیغام ہے کہ ہماری پارٹی انتخابات کیلئے تیا ر ہے آپ بھی میدان میں آجائیں ، بجٹ پڑھ رہا تھا تو حیران ہوا کہ وفاق نے سیلاب متاثرین کیلیے فنڈز نہیں رکھے، وزیر اعظم کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن ان کی ٹیم ان کے وعدوں پر عمل نہیں کروا رہی،اسحاق ڈار بجٹ پر ہمارے تحفظات دور کریں، سیلاب متاثرین کیلئے فنڈز کے بغیر بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے، 4 سال وفاق میں ایک حکومت مسلط رہی، پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کیلیے حکومت میں اسپیس نہیں تھا، گالیاں دینے والے وزیر بن جاتے تھے، جس سلیکٹڈ کو مسلط کیا تھا اس نے جاتے جاتے دہشت گردوں کو واپس بلوایا اور یہاں آباد کروایا، 9 مئی واقعات کی مذمت کرتے ہیں، ملوث لوگوں کو صاف پیغام ہے آپ کو نہیں معاف کر سکتے، ملوث لوگوں کو عبرت ناک سزا دیں گے،محترمہ کی شہادت پر ہم نے جمہوریت ہمارا انتقام کا نعرہ لگایا، کٹھ پتلی، سلیکٹڈ امپائر کی انگلی کی وجہ سے سیاست میں تھے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز سوات میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سوات آکر بہت خوشی ہو رہی ہے، پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہوں، شہید محترمہ نے کہا تھا سوات میں پاکستان کا جھنڈا لہرائے گی، سوات کے عوام نے دہشت گردی کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا، شہید محترمہ دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی تھی۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو دہشت گرد افغانستان بھاگ چکے ان کو چیئرمین پی ٹی آئی واپس لائے، پیپلز پارٹی سوات کے امن پر کبھی سودا نہیں کرے گی، افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی معاشی ترقی ہوگی، ہم امن کیلئے کسی دہشت گرد کے آگے جھکنے کو تیار نہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں، ہم نے ضمنی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن میں کامیابی حاصل کی، اتحادی جماعتوں کو پیغام ہے کہ میدان میں آئیں مقابلہ کریں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی کمیٹی وزیر اعظم شہباز شریف کے پاس بھیجی تھی، کمیٹی نے ان کو بتایا بجٹ میں پیپلز پارٹی کا ان پٹ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ پڑھ رہا تھا تو حیران ہوا کہ وفاق نے سیلاب متاثرین کیلیے فنڈز نہیں رکھے، وزیر اعظم کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن ان کی ٹیم ان کے وعدوں پر عمل نہیں کروا رہی۔ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ چاہتی ہے کہ پیپلز پارٹی بجٹ پر ووٹ ڈالے تو سیلاب متاثرین کیلیے فنڈز رکھے جائیں، اسحاق ڈار بجٹ پر ہمارے تحفظات دور کریں، یہ ممکن نہیں وزیر اعظم کوئی اوربات کریں اور بجٹ میں کوئی اور بات ہو۔وزیر خارجہ نے کہا کہ 4 سال وفاق میں ایک حکومت مسلط رہی، پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کیلئے حکومت میں اسپیس نہیں تھ ی، گالیاں دینے والے وزیر بن جاتے تھے، پیپلز پارٹی والے عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس سلیکٹڈ کو مسلط کیا تھا اس نے جاتے جاتے دہشت گردوں کو واپس بلوایا اور یہاں آباد کروایا، ملک میں ایک بار بھر دہشتگردی کا خطرہ موجود ہے، پیپلز پارٹی سوات کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، تمام دہشتگردوں کو پیغام ہے کہ ہتھیار چھوڑو ورنہ ہمیں ایک بار پھر آپریشن کیلئے مجبور ہونا پڑے گا، امن کیلئے کسی دہشتگرد کے سامنے نہیں جھکیں گے۔انہوں نے کہا کہ جو سیاسی دہشتگردی شروع ہوئی ہے اس کو بھی روکنا ہوگا، سیاسی دہشتگردی کا جواب نہیں دیں گے تو بڑھتی رہے گی، 9 مئی واقعات کی مذمت کرتے ہیں، ملوث لوگوں کو صاف پیغام ہے آپ کو نہیں معاف کر سکتے، ملوث لوگوں کو عبرت ناک سزا دیں گے، ان لوگوں کو معاف کر دیا تو ملک میں رول آف لا نہیں چل سکے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ بھٹو کی شہادت پر اگر محترمہ چاہتی تو ضیاالحق، راولپنڈی، کور کمانڈر ہاو¿س پر حملہ کر سکتی تھی، شہید محترمہ محب وطن پاکستانی تھی، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ایک ہی نعرہ لگایا جمہوریت ہمارا انتقام ہے، محترمہ شہید ہوئی تو میری عمر 19 سال تھی، محترمہ کی شہادت پر ہم نے انتقام کا نعرہ نہیں لگایا، اگر ہم اس وقت انتقام کا نعرہ لگاتے تو ملک جل جاتا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ محترمہ کی شہادت پر ہم نے جمہوریت ہمارا انتقام کا نعرہ لگایا، کٹھ پتلی، سلیکٹڈ امپائر کی انگلی کی وجہ سے سیاست میں تھے، سلیکٹڈ کو عدم اعتماد کی وجہ سے باہر نکالا گیا، ایک رات جیل میں گزارنے پر انہوں نے اعلان جنگ کر دیا، نو مئی کو انہوں نے سازش کے تحت حملہ کرایا تھا، اگر ان کو قانون کے کٹہرے میں نہیں کھڑا کریں گے تو ملک کا نقصان ہو گا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی دور میں ہمیشہ غریب کا خیال رکھا گیا، شہید بھٹو کے دور میں غریبوں کو مالکانہ حقوق دیئے گئے، شہید بھٹو نے غریبوں کو روزگار دلوایا، آپ نے زرداری، میاں نواز شریف، چیئرمین پی ٹی آئی کا دور بھی دیکھا، کیا آپ کو نواز شریف، چیئرمین پی ٹی آئی یا زرداری دور میں زیادہ روزگار ملا، کپتان تو روزگار چھینتا تھا، معاشی حالات ایسے ہیں ہر شخص پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو کا منشور معاشی مسائل کا حل ہے، بے نظیر انکم سپورٹ انقلابی پروگرام سے غریب کو فائدہ ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت نہیں غربت، مہنگائی سے ہے، وقت آگیا ہے اب نوجوانوں کو موقع ملنا چاہیے، مجھ سے پہلے بزرگ وزرائے خارجہ لگائے گئے تھے، چودہ ماہ میں وہ کام کر دکھائے جو بزرگ وزیر خارجہ نہیں کر سکے، چودہ ماہ میں پوری دنیا کو دیکھا ہے، کبھی کوئی امریکی سازش کہتا ہے، کوئی سازش نہیں ہے دنیا پاکستان کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔۔