Buy website traffic cheap


اس سے پہلے کہ کوئی اور سانحہ ہو

عبدالخالق چوہدری
میں صبح معمول کے مطابق نماز فجر تلاوت اور تھوڑی سیر کے بعد گھر کے باہر پڑے ہوئے منجے یعنی بڑی سی چارپائی جس پر زیادہ لوگ بیٹھ سکتے ہیں میں حسب معمول اس پر بیٹھ کر درختوں پر چہچہاتے ہوئے پرندوں کی خوبصورت بولیں سننے کے ساتھ ساتھ صبح باد نسیم کے صاف شفاف ہوا جونکوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں وہاں گاو¿ں میں ہونے والے واقعات خوشی غمی کی معلومات بھی حاصل ہو جاتی ہیں کیونکہ اکثر بڑے چھوٹے منجے پر بیٹھ ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے ہیں یوں مجھے بھی لوگوں کو ملنے والی خوشیوں اور تکالیف کی خبر رہتی ہے آج اس وقت میری تمام خوشیاں اور چہرے کی رونق یک دم کافور ہو گئے جب میری 4 سالہ نواسی حریم فاطمہ نے کہا کہ مجھے چھوٹے نانا جان کے گھر چھوڑ آو میں نے کہا کہ بیٹا سامنے وہ دیکھو کہ گھر کا دروازہ ہے اور کوئی دور بھی نہیں اور میں بھی سامنے بیٹھا ہوں پھر ڈر کس بات کا تو اس نے کہا کہ ابو جی مجھے لوگوں سے ڈر لگتا ہے یہ سن کر میری روح کانپ اٹھی اور کلیجہ منہ کو آگیا اور میرا جسم بے جان بے حس ہو گیا کہ ہم کس معاشرے میں ہیں ہم نے اپنی نسل کو پیدا ہوتے ہی خوف میں مبتلا کر دیا ہے کہ ہمارے معصوم فرشتہ صفت بچے گھروں سے باہر نکلنے سے ڈر رہے ہیں۔ہم کس طرف چل پڑے ہیں آئے روز پرنٹ میڈیا الیکٹر انک اور سوشل میڈیا ان خبروں سے بھرا پڑا ہے کہ فلاں جگہ تین سالہ بچی یا بچے سے زیادتی بدفعلی کرنے کے بعد اسے قتل کر کے لاش گڑھے میں دبا دی یا گٹر میں پھینک دی یا شاپر میں ڈال کر کچرے کے ڈھیر میں پھینک دی آئے روز اس میں اضافہ ہو رہا ہے کچھ روز قبل پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی رکن اسوہ آفتاب کی جانب سے جمع کرا گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ماہ اپریل سے ماہ جون تک بچوں سے جنسی زیادتی کے 576 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ تین ماہ میں اس میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے اس کو روکا جائے یہ صرف ایک صوبہ کی تین ماہ کی کارکردگی ہے اگر پورے پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سالانہ اعدادوشمار اکٹھے کیے جائیں تو پھر اندازہ لگائیں کتنی تعداد بنتی ہے۔ہم تاریخ عالم کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ بڑے بڑے ظالم حکمران گزرے ہیں بڑی بڑی ظالم قومیں گزر ہیں جنہوں نے لوگوں پر مظالم کی حد کردی فرعونیوں کی مثال ملتی ہے کہ وہ تمھارے مردوں کو قتل کر دیتا تھا اور تمھاری عورتوں کو چھوڑ دیتا تھا پھر اللہ نے اس کو لشکر سمیت دریا میں غرق کر دیا اور اس کے ظلم سے قوم کو نجات دی اسطرح قوم لوط کا تذکرہ ملتا ہے کہ وہ عورتوں کو چھوڑ کر نوجوان لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کرتے تھے جس پر اللہ نے ان پر عذاب نازل کر کے نیست و نابود کر دیا اور بھی بڑے بڑے لوگوں پر ظلم ہوئے لیکن ایسا ظلم تاریخ میں کہیں نہیں ملتا کہ کم سن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی تشدد پھر ان کا قتل یہ کام تو دیکھ کر شیطانوں کو بھی شرم آرہی ہے۔اس کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی نہیں عمل کرنے کی ضرورت ہے آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم بچوں سے انتہائی شفقت فرماتے کوئی چیز بھی کھانے والی آتی پہلے بچوں کو دیتے انسان تو انسان آپ نے جانوروں پرندوں کے بچوں کے تحفظ کی تعلیمات دی ہیں۔ایک دفعہ حضرت یحییٰ کلبی رضی اللہ عنہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں اسلام لانے سے قبل کا اپنا واقعہ سنانے لگے کہ میں عرصہ دراز کے بعد گھر پہنچا تو ایک پانچ چھ سال کی بچی نے بھاگ کر دروازہ کھولا اور مجھے پیار سے ابا ابا کرتے ہوئے چمٹ گئی دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ میرے سفر پر جانے کے بعد پیدا ہوئی تھی بیٹی بہت خوبصورت اور پیاری پیاری باتیں کر رہی تھی کہ میں رواج کے مطابق اسے لیکر جنگل کی طرف چل پڑا وہ میری انگلی پکڑ کر خوشی خوشی ساتھ چل رہی تھی پھر میں نے اس کے لئے گڑا کھودنا شروع کیا کھدائی کے وقت جو مٹی میرے کپڑوں پر پڑتی وہ صاف کرتی پھر میں نے اسے گڑھے میں ڈال کر اوپر مٹی ڈالنی شروع کر دی وہ ابا جان ابا جان پکارتی رہی حتی کہ اس کی آواز بند ہو گئی یہ واقعہ سن کر آپ نے منہ موڑ لیا اور فرمایا بس کرو بارگاہ رسالت میں بیٹھے ہوئے سب زاروقطار رو رہے تھے اسلام نے ہمیں امن و سلامتی کا درس دیا ہے اور رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک بچی کو دفن کرنے کا واقعہ نہیں سن سکے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو ہم معصوم بچوں کو کس طرح جنسی تشدد کرکے قتل کر کے پھینک رہے ہیں۔اسلامی فلاحی ریاست کے حکمرانوں کا فرض ہے کہ عوام کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کریں اور ایسے کام کرنے والے افراد کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے ان کو عبرتناک اور فوری سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کسی کو جرآت نہ ہو کہ وہ کم سن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی یا تشدد کرے لیکن افسوس کہ یہ واقعات اکثر غریبوں کے بچوں کے ساتھ ہو رہے ہیں غرباءکی آواز کہاں حکمران وقت کے کانوں تک پہنچ سکتی ہے کہاں ریاست مدینہ کے حاکم راتوں کو جاگ کر عوامی مسائل معلوم کرتے ہیں اور اس وقت تک سوتے نہیں جب تک مظلوم کو انصاف نہیں مل جاتا جب تک اس پر عمل ہوتا رہا کسی کی جرآت نہیں تھی کہ وہ اتنا بڑا جرم کرتا۔اسلامی فلاحی ریاست کے سلطان محمود کے پاس ایک آدمی شکایت لے کر آتا ہے کہ ایک آدمی روزانہ شراب نوشی کر کے میرے گھر میں داخل ہو کر میری بیوی سے زیادتی کرتا ہے سلطان نے اس آدمی سے کہا کہ اب جب وہ آئے اسی وقت مجھے بتانا آپ نے محل کے ملازمین کو بتا دیا کہ یہ آدمی جب بھی آئے اس کو روکنا نہیں اس رات وہ زیادتی کرنے والا نہیں آیا دوسری رات جب وہ آیا تو سلطان نے کہا کہ جب میں اندر داخل ہوں آپ نے چراغ بجھا دینا ہے ایسا ہی ہوا سلطان نے اس آدمی کا سر قلم کردیا اور کہا کہ چراغ جلایا جائے آپ نے مقتول کو دیکھ کر سجدہ شکر ادا کیا اور گھر والے سے کہا کہ مجھے سخت بھوک لگی ہے گھر میں جو کچھ بھی پڑا ہے کھانے کے لیے لایا جائے جب سلطان کھانے سے فارغ ہوا تو گھر والے نے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے سلطان نے بتایا کہ مجھے شک تھا کہ بادشاہ کے محل کے قریب کوئی شہزادہ ہی ایسا برا کام کر سکتا ہے اس لیے چراغ بجھایا تھا اگر میرا بیٹا بھی ہو تو بچ نہ سکے جب پتہ چلا کہ میرا بیٹا نہیں تو سجدہ شکر ادا کیا جب آپ نے شکایت کی تھی اس کے بعد تہیہ کیا تھا کہ جب تک ظالم کو سزا نہ دے لوں مجھ پر کھانا پینا بند ہو گا اس لیے آپ سے کھانے کو کچھ طلب کیا تھا۔۔جنرل محمد ضیاءالحق کے دور حکومت میں لاہور میں ایک ایسا ہی واقعہ رونما ہوا چند روز میں ملزمان کو گرفتار کر کے پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور ان کی لاشوں کو لاہور کے اسی علاقے کے چوک میں شام تک لٹکائے رکھا اس واقعہ کے دس سال بعد تک بھی کسی نے کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی تشدد یا پھر قتل کا سوچا بھی نہیں آج پھر ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سرعام سخت سزائیں دینے کی ضرورت ہے۔ورنہ پھر اللہ تو بہت جلد حساب لینے والا ہے کیونکہ مظلوموں کی آہیں اللہ تعالیٰ کے عرش کو ہلا رہی ہیں اور وہاں سے آواز سنائی دے رہی ہے۔دیکھو اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آو بے شک میرا رب رحیم اور محبت کرنے والا ہے (القرآن سورہ ہود )
جو لوگ برے کام کر گزریں پھر اس کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو تمھارا رب اس توبہ کے بعد بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے (القرآن سورہ اعراف )
اللہ تعالیٰ کتنا رحیم اور کریم ہے کہ جتنے جرائم ہم نے کیے ہیں سابقہ اقوام میں سے کسی قوم کے اندر ان میں سے ایک بھی ایسی برائی ہوتی تو پوری بستی اور قوم کو اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کر دیتے لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ بار بار توبہ کی طرف بلا رہا ہے اور ساتھ وہ تمام ضروریات پوری کرنے کی گارنٹی بھی دے رہا ہے۔فرمان الہی ہے۔جس نے توبہ کر لی اللہ آسمان سے لگاتار تم پر برکتوں بھری بارشیں برسائے گا ہر طرح کے مال و دولت سے تمھیں قوت بخشے گا اور برکت والی اولاد عطا فرمائے گا اور اللہ تمھیں نعمتوں بھرے باغات دے گا اور ان کی سیرابی کے لیے نہریں جاری فرمائے گا (القرآن سورہ نوح )
لیکن ہمارے اعمال اور حالات دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا۔لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ چکا ہے اور وہ ہیں کہ ابھی تک غفلت کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں (القرآن سورہ الانبیاء)آج وقت ہے کہ ہم اجتماعی اور انفرادی طور پر ایسے کاموں سے توبہ کریں اور قوم کی اخلاقی تربیت کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں جہاں معزز علماءکرام خطیب واعظین مساجد کے ائمہ کرام مدارس کے حفاظ کرام سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام اور تربیتی اداروں کی ذمہ داری ہے وہاں والدین کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولادوں کی اخلاقی تربیت پر بھرپور توجہ دیں اور ان کو اخلاقی اقدار سکھائیں اگر ہم نے اس پر عمل نہ کیا تو پھر یاد رکھیں کہ یہ آگ جو لگ چکی ہے اس میں صرف غریبوں کے زین العابدین قریشی نہیں جلیں گے یہ بڑے بڑے محلات میں چھپے ہوئے بچوں کو بھی جلا کر راکھ کر دے گی اس سے پہلے کہ مائیں بچوں کو جنم دینا بند نہ کر دیں ہمیں سوچنا نہیں عمل کرنا ہو گا۔