Buy website traffic cheap


نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

مرادعلی شاہد دوحہ قطر
قدرت کے فیصلے دراصل بڑے لوگوں کے قولِ فیصل اس لئے بن جاتے ہیں کہ وہ جس کام کیلئے عزم صمیم کر لیتے ہیں بصد خلوص منزلِ مقصود کو رواں دواں ہو جاتے ہیں،یہ سوچے بنا کہ فاصلہ کتنا طویل ہو گا،یا راستہ کس قدر پُر مصائب۔ان کی لگن سچی اور فکر پُر خلوص ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی طلب و جستجو کے لئے ہمیشہ وہ راستہ اختیار کرتے ہیں جو پہلے کسی نے اختیار نہ کیا ہو۔قائدِ اعظم محمد علی جناح کے والدِ گرامی پونجا جناح نے انہیں زندگی گزارنے کے دو اصول بتائے”پہلا اصول،اپنے بزرگوں کی فہم و فراست اور ان کے علم و تجربے پر بھروسہ کرو،ان کی ہدائت پر عمل کرو جیسا وہ کہیں ان پہ عمل کرو“یہ وہ طریقہ،راستہ اور اصول ہے جسے سبھی نے اختیار کیا۔۔۔۔۔۔دوسرا اصول یہ ہے کہ”اپنی مرضی سے جو چاہو کرو،اپنی غلطیوں سے سیکھو،زندگی کی تلخیوں،سختیوں اور ٹھوکروں سے سبق حاصل کرو،یہ راستہ ،طریقہ،اصول ،مشکل،پُرخطر،خار دار اور بغیر نشانِ منزل ہوتا ہے،بڑے لوگ خود نشانِ منزل بناتے ہیں کہ آنے والی نسلیں انہیں نشانِ منزل سمجھ کر حصولِ منزل کو آسان بنا لیں۔جناح نے دوسرا طریقہ،راستہ اور اصول اپنایا۔یہی وہ رجلِ عظیم ہوتے ہیں جنہیں بسترِ مرگ پر بھی اپنے مشن کی تکمیل کی فکر ہوتی ہے۔اسٹینلے والپرٹ”جناح آف پاکستان“ میں اور مس فاطمہ جناح ”میرا بھائی“ میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایامِ آخر میں ڈاکٹرز نے جناح کو مکمل آرام کا مشورہ دیا تو جناح ،مس فاطمہ سے مخاطب ہو کر بولے کہ ”فاطی کیا تم نے کبھی کسی جرنیل کو اس وقت رخصت پر جاتے ہوئے دیکھا ہے جب اس کی فوج میدانِ جنگ میں اپنی بقا کے لئے مصروفِ پیکار ہو“اس پر فاطمہ نے کہا کہ ”آپ کی زندگی بہت قیمتی ہے“جناح نے جوابُ الجواب فرمایا کہ
”مجھے تو ہندوستان کے دس کروڑ افراد کی فکر ہے“
1913 میں جب انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تو تب سے تا دمِ مرگ ایک ہی فکر میں رہے اور وہ فکر تھی ،مسلمانانِ برصغیر کی الگ سیاسی پہچان،پاکستان اور مستقبل۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرتے ہی جو سب سے پہلا کام کیا وہ اس کے منشور میں تبدیلی تھی کہ جس میں انہوں نے حکومتِ برطانیہ سے وفاداری کو سیلف گورنمنٹ کے قیام میں تبدیل کر دیا۔سر آغا خان اپنی کتاب India in transition;A study in political evalution میں لکھتے ہیں کہ” ایک مرتبہ مشہور صحافی بیورلے نیکولسن نے قائدِاعظم سے سوال کیا کہ آپ کس اصول کے تحت پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں۔تو جناح نے پیارے انداز میں جواب دیا کہ صرف چار لفظوں کی بنیاد پرMuslims are a nation۔“
اسی طرح ایک بار ایک ہندو طالبِ علم نے قائدِ اعظم سے سوال کیا کہ آپ پاکستان کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ہندو اور مسلمان میں کیا فرق ہے؟قائد کچھ دیر خاموش رہے ،ایک طالبِ علم سے پانی کا گلاس منگوایا ایک گھونٹ اس میں سے پی کر باقی ماندہ ہندو طالبِ علم سے پینے کو کہا،ہندو طالبِ علم نے پینے سے صاف انکار کر دیا۔قائدِ اعظم نے پھر ایک مسلمان طالب علم کو بلا کر پانی پینے کا کہا تو اس نے بلا تامل جناح کا چھوڑا ہوا پانی پی لیا۔اس پر جناح نے کہا کہ ”دونوں قوموں میں بس یہی فرق ہے اسی لئے میں مسلمانوں کے لئے الگ ملک بنانا چاہتا ہوں۔اسی ضمن میں ایک اور واقعہ یاد آ گیا جسے نذرِ قارئین نہ کرنا پیشہ صحافت سے زیادتی ہو گی۔
مشہور ہندو صحافی ڈی۔ایف۔کراکا پاکستان کے شدید مخالف تھے۔وہ اکثر اخبار و رسائل میں پاکستان کے خلاف لکھا کرتے تھے۔اس نے کئی بار جناح سے شرفِ ملاقات چاہا لیکن قائد ہمیشہ انکار کر دیتے تھے۔3جون1947کو جب پاکستان کا اعلان ہوا تو ”کراکا“ کو قائد کے پرسنل سیکرٹری کا خط ملا کہ قائد تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ڈی۔ایف۔کراکا کی جب قائد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ
”تم پاکستان کو ناقابلِ تسخیر قرار دیتے تھے اور پاکستان کے اکثر خلاف لکھا کرتے تھے،میں نے اسی دن ارادہ کر لیا کہ تم سے پاکستان بننے کے بعد ہی ملاقات کرونگا۔یہی تمہارے سوالات کا عملی جواب ہے۔اور پاکستان بننے کے بعد میں نے سب سے پہلے تمہیں یاد کیا۔“ڈی ۔ایف۔کراکا حیران و ششدر قائد کا منہ تکتا رہا۔۔۔۔۔۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قائد کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ان کی سیا سی و مذہبی بصیرت کیا تھی؟وہ کس سوچ کے متحمل تھے کہ جس نے ایک نعرہ کو عوامی رنگ دے کر عوام الناس کے خون کو گرما دیا۔کہ
پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔لاالہ الاللہ
کیا عملی زندگی میں بھی اس نعرہ کو عملی تفسیر بنانا چاہتے تھے؟اگرچہ اس کے حق و رد میں بہت کچھ لکھا گیا تاہم میں یہاں دو واقعات سے قائد کے خیالات سے آگاہ کرونگا کہ قائد کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے؟
انتقالِ اقتدار کی تقریر میں مائنٹ بیٹن سے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی مملکت میں عدل و انصاف اور رواداری کی وہ روائتیںقائم کریں جو مغل بادشاہ اکبر نے قائم کی تھیں۔۔جناح نے جوابی تقریر میں کہا کہ ”عدل و انصاف اور روا داری کی روائتیں ہمیں اس سے بہت پہلے حضرت محمدﷺ سے مل چکی ہیں۔دوسرا واقعہ اس طرح سے ہے ۔سردار شوکت حیات کہتے ہیں کہ انہوں نے جب الفاروق (شبلی نعمانی) کا انگریزی ترجمہ پڑھا تو فرمائش ظاہر کی کی اس کی دوسری جلد بھی مجھے مہیا کی جائے،جب دوسری جلد بھی پڑھ چکے تو فرمانے لگے کہ یہ مغرب والے کیا نعرہ لگاتے پھرتے ہیں؟فلاحی مملکت کا پہلا تصور تو بارہ سو سال قبل حضرت عمرِ فاروق ؑ نے دے دیا تھا۔مسلمانوں کے ملک میں ایسا ہی نظام ہونا چاہئے۔یہی وجہ ہے کی قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی ایک پریس کانفرنس میں جب کسی صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان کا آئین کیسا ہو گا؟تو جناح نے بر جستہ جواب دیا کہ”ہمارا آئین قرآن و سنت کے مطابق ہو گا“َ
±ٓ¾قائد کی حیات و سیرت سے چنداں واقعات کا تذکرہ اس لئے ضروری تھا کہ نئی نسل کو آگاہی فراہن کی جائے کہ پاکستان کی تعمیر کا مقصد کیا تھا۔کیونکہ تعمیر سے ہی تکمیل معرض وجود میں آتی ہے۔گذشتہ بہتر سالوں سے ہم تعمیر کو تکمیل میں منتقل کرنے کے لئے وہی تجربات کر رہے ہیں جس سے قائد نے منع فرمایا تھا کہ پاکستان کوئی تجربہ گاہ نہیں ہے۔لیکن ہم نے کبھی جمہوریت کے نام سے عوام کو لوٹا تو کبھی آمریت کی آڑ میں اس ارض مقدس کے جسم کو نوچنے کی کوششوں میں مصروفِ عمل رہے۔نتیجہ
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم ۔۔نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
جمہوری اداروں میں لوگوں کے آمرانہ رویوں سے مجھے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کبھی آزاد ہوئے ہی نہیں ،بس گورے کی قید سے نکل کر ان کالوں کی قید میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں کہ جہاں سے اب آزادی بھی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔کیونکہ جب گورے برصغیر پر مسلط تھے تو ہمارے پاس تحریک کے لئے ایک منشور تھا کہ ہم بدیسیوں کی قید میں نہیں بلکہ اپنے اصولوں اور مذہب کے مطابق زندگیاں گزارنا چاہتے ہیں۔اب تو ہم یہ حق بھی کھو چکے ہیں کہ ہم کس سے اور کیسی آزادی چاہتے ہیں۔اوپر سے سونے پہ سہاگہ کہ ان لوگوں نے عوام کی تربیت ایسی نہج پر کر دی ہے کہ جو لوگ ن لیگ کے ساتھ ہیں وہ پارٹی چھوڑنا گناہ خیال کرتے ہیں اور جو کسی اور پارٹی کے ساتھ ہیں ان کا ساتھ چھوڑنا مرتکب گناہ سمجھتے ہیں۔اگر یہی جمہوریت ہے تو ہم لنڈورے ہی بھلے۔کیونکہ قائد نے جس اسلامی جمہوریت کا خواب دیکھا تھا وہ ایسی ہرگز ہرگز نہیں تھی۔شائد ایسے حکمرانوں کی وجہ سے ہی ہم آج تک ذہنی آزادی کے حصول سے سالوں دُور ہیں۔میں اکثر یہ بات کہتا ہوں کہ ہم بہتر سال قبل جسمانی طور پہ انگریزوں سے آزاد ہوئے تھے،مگر ذہنی طور پر ہم آج بھی آزاد ہیں۔اور غلام ہیں ایسی شخصیات کے جنہیں اپنے مفاد کے علاوہ کچھ عزیز نہیں۔آزادی قبل ہم ایک سسٹم کے غلام تھے مگر اب تو ہم شخصیات کے غلام ہیں اور وہ بھی ایسی شخصیات کہ جو شہنشاہوں کی طرح ہم پر حکومت کرتے ہیں اور پھر شاہ ذادگان کی ایسی فوج تیار کرتے ہیں جیسے ہم ان کی نسلوں کے بھی غلام ہیں۔گویا ہم جسمانی طور پر آزادی کے باوجود آج بھی ہم تعصب،وڈیرہ شاہی،چاپلوسی،معاشرتی ناانصافی،نام نہاد جمہوریت،گرگٹ جیسی آمریت،اور شخصیات کے ایسے گورکھ دھندوں کے غلام ہیں کہ جن کا نتیجہ بھی غلام ہی ہے۔کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ
بیڑیاں پاﺅں میں نہیں ہوتیں
لوگ ذہنی غلام ہوتے ہیں
اور جب ذہن غلام ہو جائے تو جسم خود بخود غلامی کی بیڑیوں میں پابجولاں ہو جاتا ہے۔جیسے کہ ہم پچھلے بہتر سال سے چلے آرہے ہیں۔