Buy website traffic cheap


جرمن مستشرق اور ماہر اقبالیات آنیماری شِمل (Annemarie Schimmel)

اسفندیار خان
آنیماری شمل 7 اپریل 1922ءکو جرمن شہر ایرفُرٹ میں پیدا ہوئی۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ پندرہ برس کی عمر میں اُن کے دِل میں اسلام اور عربی زبان سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ تب اُنہوں نے باقاعدگی سے یہ زبان سیکھنا شروع کی اور ساتھ ساتھ اُن کے دِل میں عرب دُنیا اور خطہ مشرق کو قریب سے دیکھنے کی آرزو پیدا ہوئی۔
یونیورسٹی میں آنیماری شمل نے عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ ترکی، اُزبک اور تاتاری پر بھی کام کیا۔ چونکہ ملک حالتِ جنگ میں تھا، اِس لیے شمل کو تعلیمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ باقی طلبہ کے ہمراہ روزانہ دَس دَس گھنٹے کسی فیکٹری میں کام بھی کرنا پڑتا تھا۔ یہی وہ دَور تھا جب آنیماری شمل نے پہلی مرتبہ علامہ اقبال کا ذکر سنا: ”یہ سن 1940ءکے اواخر کی بات ہو گی کہ مَیں نے پہلی بار اقبال کے بارے میں پڑھا۔ یہ پروفیسر نکلسن کا لکھا ہوا ایک مضمون تھا، جو 1927ءمیں رسالے اسلامیکا میں شائع ہوا تھا اور اِس مضمون میں اقبال کی کتاب پیامِ مشرِق کا تجزیہ کیا گیا تھا۔ اور تب مَیں نے یہ دیکھا کہ اس کا تعلق لاہور سے ہے اور یہ کہ وہ میری محبوب شخصیت رومی سے محبت کرتا ہے اور جو گوئٹھے کا بھی مداح ہے، تب مَیں نے خود سے کہا کہ اِس شخص پر تمہیں کام کرنا ہے۔“
نومبر1941ءمیں آنیماری شمل نے محض 19 برس کی عمر میں عربی زبان و ادب اور اسلامی علوم کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور یوں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ جرمن وزارتِ خارجہ سے منسلک ہو گئیں۔ 1946ءمیں وہ محض 23 برس کی عمر میں یونیورسٹی کی اُستاد بن گئی اور یونیورسٹی میں اپنے پہلے لیکچر میں رابعہ بصری، منصور حلاج اور مولانا جلال الدین رُومی پر باتیں کیں۔
پروفیسر کی حیثیت سے یہ اُس بے مثال اور کامیاب کیریئر کا نقطہ آغاز تھا جس کے دوران شمل نے ماربُرگ ہی میں نہیں بلکہ بعد ازاں انقرہ، بون، ہاروَرڈ اور کیمبرج یونیورسٹی جیسی ممتاز درسگاہوں میں پڑھایا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے اُردو اور سندھی بھی سیکھی۔ کئی دیگر مشرقی اور مغربی زبانوں پر بھی عبور حاصل کیا اور ساتھ ساتھ اقبال، اسلام، صوفی ازم اور اسلامی تاریخ و ثقافت پر مسلسل کتابیں لکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
1958ءمیں آنیماری شمل پہلی مرتبہ پاکستان اور بھارت کے دَورے پر گئیں۔ 1965ءمیں وہ امریکہ گئیں جہاں ہَارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے پیشکش کو قبول کرتے ہوئے وہاں کے ہند مسلم ثقافت کے شعبے سے وابستہ ہو گئیں۔ ہَارورڈ میں شمل نے پاک و ہند کا ادب، اقبال، رومی، صوفی ازم کی تاریخ، عربی زبان اور اسلامی خطاطی سب کچھ پڑھایا۔
آنیماری شمل کی ایک سو سے زیادہ تصنیفات میں اُن کی خود نوِشت سوانح عمری ”میری شرقی غربی زندگی“ بھی شامل ہے۔ آپ کا انتقال چھبیس جنوری 2003 کو جرمن شہر بون میں ہوا۔ انتقال کے وقت اُن کی عمر 80 برس تھی اور وہ بون یونیورسٹی میں پڑھا رہی تھیں
علامہ اقبال، صوفی ازم، اردو، سندھی اور پنجابی زبانوں کیلئے آنیماری شمل کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کو اعلی سول اعزازات ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازنے کے ساتھ ساتھ لاہور میں ایک شاہراہ اور ایک ثقافتی مرکز آپ کے نام سے منسوب کئے ہیں۔
بون میں آنیماری کی قبر پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب ایک قول عربی اور جرمن زبانوں میں تحریر ہے جس کا مطلب ہے کہ ”لوگ سو رہے ہیں۔ جب وہ مرتے ہیں تو بیدار ہو جاتے ہیں۔”