Buy website traffic cheap

نوازشریف

5ارب ڈالر کی پیشکش ٹھکرادی تھی، نواز شریف کے یوم تکبیر پر بڑا انکشاف کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ بنتا تو کیا بھارتی وزیراعظم بس میں بیٹھ کر پاکستان آتے؟ ، 1985 سے لیکر آج تک 35 سال کا رشتہ میرا بڑا قیمتی سرمایہ ،جو آج بھی بہت مضبوط ہے، اگر میں نے کرپشن کرنی ہوتی تو امریکی صدر بل کلنٹن نے مجھے 5 ارب ڈالر کی آفر کی تھی، برطانیہ اور کینیڈا کے وزیراعظم نے بھی مجھے ٹیلی فون کیے کہ ایٹمی دھماکے نہ کرو، اگر میں محب وطن نہ ہوتا تو 5 ارب ڈالر اپنی جیب میں ڈال لیتا، امریکی صدر کو کہا کہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے ہیں تو ان کا جواب دینا ہمارا حق بنتا ہے، میں نے ڈاکٹر ثمر مبارک اور اے کیو خان کو حکم دیا کہ تیاری کر لو لیکن منتخب وزیراعظم فیصلہ کر رہا تھا تو بہت سے لوگ اس سے متفق نہیں تھے، مجھے بتایا گیا کہ دھماکے کرنے کے لیے ٹنل بنانی پڑے گی،میں نے فون کر کے کہا کہ کوئی بھی ٹنل بنانی پڑے جلدی بنا ﺅاور دھماکوں کے بعد فون کر کے بل کلنٹن کو آگاہ کیا، ایٹمی دھماکوں کے 8 ماہ بعد بھارتی وزیراعظم واجپائی خود چل کر پاکستان آئے۔پیر کو یوم تکبیر کے حوالے سے منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ نواز شریف کو عوام کا 33برس کا رشتہ ہے، اور مجھے اس پر مان ہے، یہ رشتہ آج بھی مضبوط ہے، میرے دل میں عوام کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہے، آج پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی 20سالگرہ ہے، میری آج عدالت میں 75ویں پیشی تھی، مریم نواز پیشی کے دوران 3سے 4گھنٹے کٹہرے میں کھڑی رہی، میں نے کبھی کسی سے میڈل نہیں مانگا، مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے اور اقامہ پر نکال دیا گیا، امریکی صدر کلنٹن نے مجھے 5ارب ڈالر کی پیشکش کی تھی کہ آپ ایٹمی دھماکے نہ کریں، اگر میں کرپٹ ہوتا تووہ5ارب ڈالر لے لیتا، امریکی صدر نے مجھ سے 5مرتبہ فون پر بات کی، اس کے علاوہ دیگر وزرائے اعظم نے مجھے فون کیا، میں صدر کلنٹن سے کہا کہ آپ نے ہماری غیرت کا غلط اندزاہ لگایا ہے۔ ہماری غیرت اور عزت کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ آپ 5ارب ڈالر اپنے پاس رکھیں ، اگر ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کیئے ہیں تو ہم بھی جواب دیں گے۔ ہندوستان نے جب ایٹمی دھماکے کئے تو ہندوستان کا میڈیا کہنے لگا کہ ہم پاکستان کو تمیز سے بات کرنا سکھائیں گے، ہم نے بھارت کے 5ایٹمی دھماکوں کے بدلے 6ایٹمی دھماکے کر کے ان کو جواب دیا، ایٹمی دھماکوں کے 8ماہ بعد ہندوستان کے وزیراعظم واجپائی خود پاکستان آئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسی قوت بن چکا ہے کہ کوئی پاکستان کو میلی نظر سے نہیں دیکھ سکتا، یہ کام کسی ڈکٹیٹر نے نہیں بلکہ منتخب وزیراعظم نے کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جو ایک منتخب وزیراعظم تھے، ایٹمی دھماکوں کے وقت سب سے پہلے میں نے مشاہد حسین سے مشورہ کیا، ایٹمی دھماکے کرنا پاکستان کی سیکیورٹی، عزت اور غیرت کا مسئلہ تھا، میں تمام لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ایک مہینے کے کام کو 17دنوں میں مکمل کر کے ٹنل مکمل کی اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنا۔ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے کوئی پاکستان کو میلی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں روزانہ نیب کے مقدمات بھگت رہا ہوں، عوام کا ولولہ دیکھ کر لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آج ہی الیکشن جیت گئی ہے، ہم نے 1991 سے پاکستان کی دفاعی اور معاشی ترقی کا سفر شروع کیا ہم اب دوبارہ نئے عزم سے کام شروع کریں گے، ہم پاکستان کی تقدیر کو بدلیں گے، نواز شریف جو وعدہ کرتا ہے اسے پورا کرتا ہے، عوام نے ووٹ کو عزت دینی ہے، نواز شریف نے آخر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے۔قبل ازیںپاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ جتنا مذاق طیارہ ہائی جیک کیس تھا اتنا ہی مضحکہ خیز موجودہ مقدمہ ہے، قوم طیارہ ہائی جیک کیس کو مانتی ہے اور نہ ہی موجودہ کیس کو، کچھ عرصہ اور لگے گا، میرے بیانیے اور موقف کی ہی جیت ہوگی، مسلم لیگ(ن)ہی واحد جماعت ہے جس نے کام کیا، دوسری جماعتوں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، خود عمران خان بتائیں آج تک کون سا منصوبہ مکمل کیا، کارکردگی مرکز کی ہی ہے جس نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا،ہمیں کام کے لئے صرف ڈیڑھ دو سال ملے، اگر پورے 5 سال ملتے تو اور کام کرتے ،نگراں وزیراعظم کے لئے ہم نے اچھے نام دیے، ہم ایسا نام نہیں دے سکتے جسے عوام قبول نہ کرے۔ پیر کو احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ میرے اٹک قلعہ میں طیارہ ہائی جیک اور اس کیس میں موقف ایک ہی ہے، 1999 میں نکالے جانے کی وجوہات یہی تھیں اور آج بھی یہی ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ہائی جیکنگ پر سزا سنائی گئی، وہ ایسا ہی ہے جیسے آج تنخواہ پر فارغ کیا گیا، قوم طیارہ ہائی جیک کیس کو مانتی ہے اور نہ ہی موجودہ کیس کو، 70سال گزر گئے لیکن کچھ عرصہ اور لگے گا، میرے بیانیے اور موقف کی ہی جیت ہوگی اور فتح کے علاوہ دوسری کوئی منزل نہیں ہے۔نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)ہی واحد جماعت ہے جس نے کام کیا، دوسری جماعتوں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے، وہ اپنے کسی منصوبے کا بتائیں اور خود عمران خان بتائیں آج تک کون سا منصوبہ مکمل کیا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کارکردگی مرکز کی ہی ہے جس نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، سی پیک لائے، بڑے بڑے موٹر ویز بنائے، مولانا فضل الرحمان سے پوچھیں کہ ڈی آئی خان میں کتنی تیزی سے موٹر وے بن رہی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ بلوچستان اور کراچی کا امن ہم نے ٹھیک کیا، بھتا خوری کی وارداتیں ختم ہوئیں جب کہ رمضان المبارک میں 22،22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی لیکن آج 45 اور 47 ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی بجلی دے رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نے شکوہ کیا کہ ہمیں وقت ہی کتنا ملا، 2014 کے دھرنے کے بعد 2016 تک کام کیا اور پھر پاناما شروع ہوگیا، ہمیں کام کے لئے صرف ڈیڑھ دو سال ملے، اگر پورے 5 سال ملتے تو اور کام کرتے۔نگراں وزیراعظم سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے لئے ہم نے اچھے نام دیے، ہم ایسا نام نہیں دے سکتے جسے عوام قبول نہ کرے، نگراں وزیراعظم ایسا ہو جسے قوم بھی کہے اچھا نام ہے۔خیبرپختونخوا کے نگراں وزیراعلی کے لیے منظور آفریدی کا نام سامنے آنے سے متعلق نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف کے سینیٹر کے بھائی کو آپ وزیراعلی بنا رہے ہیں، یہ تو بلی سے دودھ کی رکھوالی کرانے والی بات ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق جاری کیا اس پرلاہورجا کربات کروں گا، سابق وزیراعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں برطانوی نشریاتی ادارے کا آرٹیکل بھی پڑھ کر سنایا۔